حکومت نے 40ارب روپے کا ٹیکس پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر عوام پر تھونپ دئے گئے ہیں، ..
تازہ ترین : 1

حکومت نے 40ارب روپے کا ٹیکس پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر عوام پر تھونپ دئے گئے ہیں، بلاول بھٹو زرداری،حکومت رنگ برنگی بسیں چلا نے اور سڑکیں بنانے پر وسائل خر چ کر رہی ہے،اربوں روپے کے سستی روٹی اور دانش سکول عوام کو فائدہ نہیں دے سکے،اجتماعی شادیوں کی منعقدہ تقریب سے خطاب

حکومت نے 40ارب روپے کا ٹیکس پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر عوام پر تھونپ ..

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 11جنوری۔2016ء) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ لوگوں کو فرقے اور برادی میں تقسیم کر دیا گیا ۔ حکومت نے 40ارب روپے کا ٹیکس پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر عوام پر تھوپ دئے گئے ہیں۔حکومت رنگ برنگی بسیں چلا نے اور سڑکیں بنانے پر وسائل خر چ کر رہی ہے ۔اربوں روپے کے سستی روٹی اور دانش سکول عوام کو فائدہ نہیں دے سکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں اجتماعی شادیوں کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹوزرادی نے کہا ہے آج بڑے بڑے منصوبے کا صرف آغاز ہی کیاجاتا ہے لیکن ان کو مکمل نہیں کیا جاتا ۔ ہمارے دور کے شروع کئے گئے منصوبوں پر نئے لیبل لگا دئیے جاتے ہیں۔ حکومت کے منصوبوں سے صرف ان کے دوست ہی مضبوط ہوئے ہیں۔امیر امیر تر اور غریب طبقہ غریب تر ہوتا جا رہاہے ۔

حکومت کے منصوبے غریب کو کچھ نہیں دے سکتے حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کرر ہی ۔۔ایسے منصوبے شروع کیے جا ئیں جس سے بے روزگاری ختم ہو ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 40ارب روپے کا نیا ٹیکس پارلیمنٹ کی منظوری لیے بغیر ہی عوام پر تھونپ دیا ہے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آج مہنگائی کتنی بڑھ گئی ہے ۔مہنگائی کی وجہ سے شادہ بھی ایک بوجھ بن گئی ہے حدیہ ہے کہ کیلے اور ٹماٹر بھی درآمد کیے جا رہے ہیںآ ج ملک میں کسانوں کے لیے زندگی تنگ کی جا رہی ہے آج گندم درآمد کی جا رہی ہے اور ہمارے دور میں برآمد کی جاتی تھی اور آج یوکرائن سے خراب گندم درآمد کی جا رہی ہے ۔

انہوں نے پنجاب حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے سستی روٹی اور دانش سکولوں پر لگائے جا رہے اور حکومت کی توجہ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے رنگ برنگی بسیں چلانے اور سڑکیں بنانے والے منصوبوں پر ہے جو کہ بیگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے شروع کرنے چاہیے جس سے عوام کو سکون ملے ۔ انہوں نے کہا کہ روٹی کپڑ ار مکان ان کی بنیادی ضرورت ہے لیکن عوام کو فرقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا ہے ۔

وقت اشاعت : 11/01/2016 - 09:21:08

اپنی رائے کا اظہار کریں