وزیراعلیٰ نے پنجاب میںفری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا افتتاح کردیا
تازہ ترین : 1
وزیراعلیٰ نے پنجاب میںفری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا افتتاح کردیا

وزیراعلیٰ نے پنجاب میںفری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا افتتاح کردیا

پنجاب ایمرجنسی سروسز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ ،موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے عملے کے مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا وزیراعلیٰ کا فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس 36 اضلاع میں شروع کرنے اورریسکیورز کورسک الاؤنس دینے کااعلان نئی سوچ کیساتھ فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے ، تنگ گلیوں میں رہنے والوں کوسہولت ملے گی پنجاب میں میرٹ کا نظام آگے بڑھ رہا ہے،ریسکیو 1122 نے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کیلئے اپنی خدمات مہیا کی ہیں وزیراعلیٰ کاافتتاحی تقریب سے خطاب

لاہور۔10 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ اکتوبر ء)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام پنجاب میںفری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ نے افتتاح کے بعد پنجاب ایمرجنسی سروسز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا اور سینٹر کے مختلف حصے دیکھے۔ وزیراعلیٰ کو فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے عملے کے مارچ پاسٹ کا معائنہ کیا اور موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے عملے کی جانب سے ریسکیو کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ وزیراعلیٰ کو سینٹر کے دورے کے دوران موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کیلئے ضروری طبی آلات کے بارے میں بتایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس پنجاب کے 36 اضلاع میں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سروس کا دائرہ کار بہت جلد ہر ضلع تک پھیلا دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ریسکیورز کو ہر ماہ رسک الائونس دینے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے آغاز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے عظیم ریسکیورز نے لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں جس پر میں ریسکیورز اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آج کی تقریب دکھی انسانیت کی خدمت کو آگے بڑھانے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ عظمتوں بھری داستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔

ریسکیو 1122 کے تحت نئی سوچ کیساتھ فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور اس منفرد آئیڈیا پر عملدرآمد کا خیال مجھے اس وقت آیا جب قصور کے نواحی گائوں سے تعلق رکھنے والی ایک غریب خاندان کی ماں ایمبولینس سروس نہ ملنے پر ہسپتالوں کے دھکے کھاتی رہی اور بالآخر جناح ہسپتال میں اپنے پیاروں سے بچھڑ گئی۔ مجھے اس دلخراش واقعہ پر سخت دکھ اور افسوس ہوا اور میں نے اسی وقت ہسپتالوں میں موجود ایمبولینس سروس کو ریسکیو 1122 کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔

ریسکیو 1122 نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے نظام میں بہت بہتری آئی ہے اور آج اسی نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے فری موٹربائیکس ایمبولینس سروس کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ جنوبی ایشیا میں پہلی موٹر بائیکس ایمبولینس سروس ہے۔ اس سروس کیلئے پنجاب کے 9 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کو چنا گیا ہے، تاہم آج لاہور سے موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور دیگر ڈویژن میں بھی یہ سروس آئندہ چند ہفتے میں شرو ع کردی جائیگی۔

مجموعی طور پر 900 موٹر سائیکلوں پر مشتمل عملہ پنجاب کے 9 ڈویژن میں اس سروس کیلئے کام کرے گا جبکہ بعد میں پنجاب کے 36 اضلاع میں موٹر بائیکس ایمبولینس سروس شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاندار سروس پنجاب کے عوام کو سہولت دینے کیلئے شروع کی گئی ہے اور اس سروس سے تنگ گلی محلوں میں ایمرجنسی کی صورت میں بروقت طبی امداد مہیا کی جاسکے گی۔

ایمرجنسی کی صورت میں گنجان آباد علاقوں اور تنگ گلیوں میں موٹر سائیکلوں کی ایمبولینس سروس فوری ریسکیو اور طبی امداد فراہم کریگی جس سے کسی بھی حادثے کی صورت میں شہریوں تک بروقت پہنچا جاسکے گا اور انہیں طبی امداد پہنچائی جاسکے گی جبکہ اس کیساتھ ایمبولینس بھی باہر موجود ہوگی۔ یہ ایمرجنسی سروس میں عوام کو سہولت پہنچانے کا تیز ترین ذریعہ ہے جس پر میں صوبائی وزرائے صحت، چیف سیکرٹری، ڈی جی ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس سروس کیلئے بھی عملے کی بھرتی سوفیصد میرٹ پر ہوئی ہے اور ماسٹر ٹرینرز کو ترکی میں تربیت دلائی گئی ہے اور ماسٹر ٹرینرز کا اگلا بیج جلد ترکی جا رہا ہے۔ ترکی کی جانب سے اس سروس کے اجراء میں تعاون پر میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ترکی کے ڈپٹی وزیراعظم رجب اکدغان اور وزارت صحت کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں جنوبی پنجاب میں پاکستان کی سو سالہ تاریخ کا بدترین سیلاب آیا اور میں خود مصیبت میں پھنسے اپنے بھائیوں کی مدد کیلئے ہر جگہ پہنچا۔

میں نے خود دیکھا کہ ریسکیو 1122 نے اس سیلاب میں شاندار کارکردگی دکھائی۔2014 میں پنجاب میں ایک اور سیلاب آیا، میں تب بھی اپنے بھائیوں کیساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا۔حافظ آباد کا ایک علاقہ جو کہ تقریباً پورا ڈوب چکا تھا اور پانی بلند ہو رہا تھا، خدشہ تھا کہ اس علاقے کی آبادی میں جو لوگ رہ گئے ہیں وہ نہ نکل سکیں۔ میں وہاں پہنچا تو کشتیاں توموجود تھیں لیکن آپریٹرز تھے نہ پٹرول اور رات ہو چکی تھی۔

بعد میں میں نے آپریٹرز اور پٹرول کا بندوبست کرایا اور ڈی جی ریسکیو 1122 بھی موقع پر پہنچے اور سب نے مل کر بستی میں موجود لوگوں کو ریسکیو کیا تو میرا دل باغ باغ ہوگیا۔ یہ جذبہ اور کمٹمنٹ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اسی جذبے اور عزم کیساتھ کام کرنا ہوگا۔ عبدالستار ایدھی جیسے عظیم سماجی کارکن بھی دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے اور انہوں نے ایک دفعہ اپنے بیمار پوتے کو چھوڑ کر ان زخمیوں کے پاس پہنچ گئے جو ٹرین حادثے سے متاثر ہوئے تھے۔

بلاشبہ عبدالستار ایدھی جیسا جذبہ ہی قوموں کو آگے لے کر جاتا ہے۔ اسی طرح جرمنی کی ڈاکٹر رتھ فائو نے 60 برس تک پاکستان میں دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کی۔ یہ خدمت اور جذبہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ اسی جذبے کو دکھی انسانیت یاد رکھتی ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی آج دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے نئے منصوبے کو شروع کیا ہے اور جن لوگوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے وہ دنیا میں جنت کما رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کی تقریب میں سویڈن کی سفیر اور ترکی کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی شریک ہیں۔ ترکی نے پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے اور اس منصوبے بھی ترکی کا تعاون لائق تحسین ہے۔ اسی طرح سویڈن پاکستان کا بہترین دوست ملک ہے اور وہ روڈ سیفٹی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہماری مدد کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ریسکیورز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے جو حلف اٹھایا ہے، مجھے پورا یقین ہے آپ اس کی سوفیصد پاسداری کریں گے۔

آپ نوجوان ہیں اور آپ کے جذبے بلند ہیں۔ آپ کا انتخاب میرٹ پر ہوا ہے اور کسی نے رشوت یا سفارش سے یہ نوکری حاصل نہیں کی۔ الحمداللہ پنجاب میں میرٹ اور شفافیت کا نظام آگے بڑھ رہا ہے۔ ریسکیو 1122 نے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کیلئے اپنی خدمات مہیا کی ہیں۔ یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ہم سب بھائی ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی عناصر تہمتیں،بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کرتے ہیں۔ غلط اشتہار بازی کرکے جھوٹ بولتے ہیں۔ خدارا پاکستان کے نوجوانوں کو الزام تراشیاں اور جھوٹ نہ سکھائیں، یہ پاکستان کی تباہی کا باعث بنے گا اور قوم ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کے مطابق آگے لے کر جانا ہے تو امانت، دیانت او رمحنت کے راستے پر چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیورز دکھی انسانیت کے محسن اور ہمارے سروں کے تاج ہیں۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کو اچھے طریقے سے پورا کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا میں ریسکیورزکو رسک الائونس دینے کا اعلان کرتا ہوں اور یہ انہیں ہر ماہ تنخواہ کیساتھ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جلاوطنی کے بعد جب میں وطن واپس آیا اور 2008 کے الیکشن میں عوام نے اپنی محبتوں سے نوازا اور مجھے خادم پنجاب بنایا تو میں نے سب سے پہلے پولیس اور جوڈیشری کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور اسی وقت پنجاب کے خزانے پر 8 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔

یہ صرف اس لئے تھا کہ پولیس اور جوڈیشری میں کام کرنے والوں کو اچھی تنخواہیں دی جائیں تاکہ انہیں بنیادی ضروریات پورا کرنے کیلئے ادھر ادھر نہ دیکھنا پڑے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اربوں کھربو ںکی کرپشن کرکے پاکستان کو کھوکھلا کیا گیا ہے۔ آپ پشاور میں تو میٹرو بس سروس چلا نہیں سکے اور اس کی ایک اینٹ نہیں لگی لیکن آپ لاہور کے شہریوں کو اورنج لائن میٹرو ٹرین سے محروم کرنے کے درپے ہیں۔

لاہور کے شہریوں سے ان کا عالمی معیار کی جدید سفری سہولتوں کا حق مت چھینیں۔ پونے دو برس ہوچکے ہیں، اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کے 11 مقامات پر آپ کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے کیونکہ آپ کا ہی ایک پارٹی عہدیدار عدالت گیا اور سٹے لیا۔ آپ کو کیا علم کہ ایک عام آدمی کس طرح سفر کرکے اپنے کام کی جگہ پر پہنچتا ہے۔ آپ کو کیا علم کہ ایک بیوہ کس طرح اپنی روزی روٹی کماتی ہے۔

ایک طالبعلم کس طرح حصول علم کیلئے جاتا ہے۔ آپ تو بڑی بڑی گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں اور محلات میں رہتے ہیں۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر روزانہ اڑھائی لاکھ مسافر سفر کریں گے اور ان کی تعداد جلد ہی 5 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں سوا چار برس بعد بھی میٹرو بس منصوبے کی ایک اینٹ نہ لگانے والوں کو عام آدمی کی سفری مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں۔

یہ منافقت ہے اور قوم ایسی منافقت کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا گیا کہ رواں برس کے آخر تک ریسکیو 1122 کا دائرہ کار پنجاب کی تمام تحصیلوں تک پھیلا دیا جائے گا اور ہمارا رسپانس ٹائم عالمی معیار کے مطابق ہے اورسروس کے آغاز سے لیکراب تک 50لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے اور بروقت ریسکیو آپریشن کر کے 240ارب روپے کے نقصانات کو بچایاگیا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ سروس کا آغاز 900موٹر بائیکس کیساتھ کیا جارہا ہے جو لوگوں کو ان کی دہلیز پرایمرجنسی سروسز مہیا کرے گی، جبکہ ترکی کی جانب سے فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کے اجراء میں تعاون پر ہم ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ریسکیورز کا عملہ تربیت لینے اگلے ماہ ترکی جائے گا۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نے نئی سروس کے عملے سے حلف لیا۔ معروف بین الاقوامی ماہر ایڈورڈ جارج برن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے یہ سروس شروع کرکے ایک منفرد کام کیا ہے اور یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس سے شہریوں کو آفات یا حادثات میں سہولت ملے گی۔

سویڈن کی سفیر انگریڈ جوہانسن(Ms Ingrid Johansson) نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی قیادت میں شاندار اقدام کیا ہے جس پر میں پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتی ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں پنجاب میں انتہائی مفید اورسود مند موٹر بائیکس ایمبولینس سروس کاآغاز کیاگیا ہے جو کہ انتہائی شاندار سروس ہے اوراس کا فائدہ عام لوگوں کو ہوگا۔

یہ موٹر بائیکس ایمبولینس سروس تنگ گلیوں اور بازاروں میں جہاں ایمبولینس کی رسائی ممکن نہیں وہاں سروس مہیا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے شاندار ویژن کے باعث صوبے کے عوام کو اہم سہولتیں اور وسائل مہیا کررہے ہیںجس کا فائدہ صوبے کے عوام کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کے متحرک اقدامات کے باعث ریسکیو 1122 نے آج ایک منفرد ایمبولینس سروس متعارف کرائی ہے۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک وژن کے تحت فری موٹر بائیکس ایمبولینس سروس متعارف کرائی ہے جس کے بے پناہ فوائد ہوں گے۔
وقت اشاعت : 10/10/2017 - 21:25:24

اپنی رائے کا اظہار کریں