جو چیزیں عمران خان کے حق میں ہیں وہ مل گئیں جن میں ابہام ہے وہ دستیاب نہیں،سپریم ..
تازہ ترین : 1
جو چیزیں عمران خان کے حق میں ہیں وہ مل گئیں جن میں ابہام ہے وہ دستیاب ..

جو چیزیں عمران خان کے حق میں ہیں وہ مل گئیں جن میں ابہام ہے وہ دستیاب نہیں،سپریم کورٹ

دستاویزات کے درست ہونے کا کیا ثبوت ہے،درخواست گزار کئی بار دستاویزات کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں، کیا ثبوت ہے کہ جہانگیر ترین کے پاس 18 ہزار ایکڑ زمین لیز پر تھی ایسے معاہدوں میں بے نامی زمین ہوتی ہے،معاہدے مشکوک اور جعلی ہوتے ہیں، جہانگیر ترین ہمیں مطمئن کریں جن سے زمین لیز پر لی گئی کیا وہ اس زمین کے مالک تھے ،ممکن ہے کسی کا شناختی کارڈ لے کر لیز معاہدہ لکھ لیا ہو،دیکھنا ہے جس سے معاہدہ ہوا کیا وہ مالک تھا کہ نہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار ن کے ریمارکس شک پیدا ہورہا ہے زمین کسی اور کے نام پر حاصل نہ کی گئی ہو، جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ اکتوبر ء) چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ جو چیزیں آپ کے حق میں ہیں وہ آپ کو مل گئیں ہیں اور جن میں ابہام موجود ہیں وہ دستیاب نہیں، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اصغرخان کیس کے علاوہ یہ پہلا کیس ہے جہاں پر ہر سماعت پر نئی دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دستاویزات کے درست ہونے کا کیا ثبوت ہے،درخواست گزار کئی بار دستاویزات کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 2008سے 2013تک عمران خان الیکشن کمیشن کو جواب دہ نہیں تھے،ایف بی آر عمران خان سے ٹیکس معاملات پر سوال کرسکتا ہے، جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیرترین نے 18ہزار 5سو ایکڑ زمین لیز پر حاصل کی، جہانگیرترین گنا ،اور آم کی کاشت کاری کرتے تھے،جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کاشت کاری سے اگر بہت آمدن ہورہی تھی تو زمین فروخت کیوں کی، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ثبوت ہے کہ جہانگیر ترین کے پاس 18 ہزار ایکڑ زمین لیز پر تھی اس طرح کے معاہدوں میں بے نامی زمین ہوتی ہے اور معاہدے مشکوک اور جعلی ہوتے ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شک پیدا ہورہا ہے زمین کسی اور کے نام پر حاصل نہ کی گئی ہو، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں مطمئن کریں کہ جن سے زمین لیز پر لی گئی وہ اس زمین کے مالک تھے،ممکن ہے کہ کسی کا شناختی کارڈ لے کر لیز معاہدہ لکھ لیا ہو،دیکھنا ہے جس سے معاہدہ ہوا کیا وہ مالک تھا کہ نہیں،وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جہانگیر ترین ٹیکس احکام کے سامنے اپنا موقف پیش نہیں کرسکے ، چیف جسٹس نے کہا کہ کراس چیک ادائیگیوں پر ہم نے آبزویشن دی تو آپ کے لیے مسائل ہونگے۔

منگل کو جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عمران خان کے وکیل نے عدالت میں اضافی دستاویزات جمع کرادیں وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیزائن مسترد ہونے پر آرکیٹیکٹ نے رقم جمائما کو واپس کی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جمائما نے 79 ہزار پائونڈ عمران خان کو بھجوائے۔ عمران خان نے رقم گوشواروں میں طاہر کی تھی۔

جمائما کو قرض واپسی کی اصل دستاویزات بھی جمع کروا دیں۔ لندن فلیٹس کی فروخت اور بنی گالہ اراضی کی خریداری کے بعد بچنے والی رقم سے متعلق معاملے پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ایک لاکھ پائونڈز آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کے اکائونٹ میں موجود تھی۔ ایک لاکھ پائونڈ نیازی سروسز لمیٹڈ نے مقدمے بازی کیلئے اپنے پاس رکھا۔ ایک لاکھ پائونڈ کی رقم ہر سال مقدمہ بازی کے اخراجات کے باعث کم ہوتی رہی رقم کے اخراجات کے حوالے سے نیازی سروسز لمیٹڈ سے رابطہ کیا ہے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات دستیاب ہونے پر عدالت میں پیش کردیں گے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ مقدمہ کتنی دیر سے چل رہا ہے جو چیزیں آپ کے حق میں ہیں وہ مل گئی ہیں اور جن میں ابہام ہے وہ دستیاب نہیں۔ اس پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اصغر خان کیس کے علاوہ یہ پہلا کیس ہے جہاں پر سماعت پر نئی دستاویزات جمع کرائی جاتی ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جمائما کو پانچ لاکھ چھبیس ہزار کی رقم عمران خان نے ادا کی۔ دستاویز سے جمائما کو رقم وصولی ثابت ہوتی ہے عمران خان نے 2008 کے الیکشن میں حصہ نہیں لیا اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ دستاویز شروع میں جمع کرادیتے تو بہتر ہوتا۔ دوسری پارٹی کو دستاویز پر اعتراض اٹھانے کا موقع میسر آتا۔ کیا عمران خان نے 2003 سے 2007 تک گوشوارے ظاہر کئی اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ نیازی سروسز کے اکائونٹ میں رکھے ایک لاکھ پائونڈ عمران خان کے نہیں تھے نیازی سروسز کے اکائونٹ کا مکمل ریکارڈ نہیں ملا۔

اس پر وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرے میں جواب دونگا۔ عدالت نے عمران خان کے جواب پر حنیف عباسی کو نوٹس جاری کردیا۔ نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان 2008 سے 2013 تک عوامی عہدہ نہیں رکھتے تھے اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ میں قانونی چارہ جوئی و اخراجات کا چارٹ بنا کر دیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دستاویزات کے درست ہونے کا کیا ثبوت ہے۔ درخواست گزار کئی بار دستاویزات کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات کو پرکھنے کا معیار دونوں فریقین پر یکساں ہوگا 2008 سے 2013 تک عمران خان الیکشن کمیشن کو جوابدہ نہیں تھے۔ درخواست گزار کے تمام الزامات کا تفصیلی جواب دے چکا ہوں۔ لندن فلیٹ درخواست گزار کا ایشو نہیں تھا ایف بی آر عمران خان سے ٹیکس معاملات پر سوال کرسکتا ہے۔

الزامات پر اپنی طرف سے تمام دستاویزات دی ہیں بنی گالہ کے نقشے کی رقم عمران خان نے گوشواروں میں ظاہر کی۔ سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کی لیز زمین کا ریکارڈ حاصل کیا ہے وقت کی کمی کی وجہ سے طریقہ کار کے تحت ریکارڈ جمع نہیں کروا سکا۔ جہانگیر ترین نے 18ہزار 500 ایکڑ زمین 2010 میں لیز پر حاصل کی۔

جہانگیر ترین 1978 سے کاشت کار ہیں جہانگیر ترین گنا‘ کپاس اور آم کی کاشت کاری کرتے تھے۔ 2002 میں جہانگیر ترین نے شوگر مل قائم کی لیز زمین پر گنا اگایا جو جہانگیر ترین شوگر مل نے خریدا۔ 18 ہزار 500 ایکڑ زمین 150 کلومیٹر کے دائرہ میں واقع ہے۔ 18 ہزار ایکڑ زمین پر 86 فارم تھے اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے سوال کیا کہ جہانگیر ترین نے اپنی ذاتی زمین دو سو ایکڑ کس کو فروخت کی اگر کاشت کاری سے بہت آمدن ہورہی تھی تو زمین فروخت کیوں کی اس پر وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ فروخت کی زمین لودھراں میں تھی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ جہانگیر ترین کے پاس اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین لیز پر تھی۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ زمین لیز کے ثبوت موجود ہیں۔ لیز لی گئی زمین پر گنے کی کاشت کی جاتی ہے کاشت ہونے والا گنا جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کو فروخت کیا جاتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جان بوجھ کر واضح نہیں کرنا چاہتے تھے آج جج صاحب نے بتا دیا۔

اس پر جسٹس عمر نے کہا کہ شک پیدا ہورہا ہے کہ زمین کسی اور کے نام پر حاصل نہ کی گئی ہو چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں میں بے نامی زمین ہوتی ہے۔ معاہدے مشکوک اور جعلی ہوتے ہیں صرف پٹواری کا ریکارڈ بتا سکتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ اس پر جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ آپ نے فارم 7کا ریکارڈ کیوں نہیں رکھا جس میں سب کچھ درج ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ بیان حلفی کیوں سرکاری ریکارڈ کیوں نہیں اس پر وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ چار سال میں کسی عدالت میں خسرہ اور گرداوری کا ریکارڈ نہیں دیا جاسکا۔

عدالتیں ریکارڈ مانگ مانگ کر تھک گئی ہیں یہ تین چار دنوں کی بات نہیں برسوں کا قصہ ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ خسرہ‘ گرداوری اس لئے مانگ رہے ہیں تکاہ پتہ چل سکے کہ غلام احمد ہی زمین کا مالک تھا اس پر وکیل جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ زمین لیز پر لینے کے تمام معاہدے موجود ہیں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ رجسٹرڈ لیز معاہدے نہیں ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا زمین لیز پر لینے کا محکمہ مال کا ریکارڈ موجود ہی جہانگیر ترین کے وکیل نے جواب دیا کہ لیز زمین کی تمام ادائیگیاں کراس چیک کے ذریعے کی گئیں۔ جسٹس عمر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جنہیں ادائیگیاں ہوئیں وہ مالک تھے کہ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زمین کے اصل مالک اور کاشت کاری کا محکمہ مال سے معلوم ہوگا۔

جسٹس عمر نے اس پر کہا کہ خسرہ اور گرداوری منگوانے کا مقصد یہی تھا۔ وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ کراس چیک کے ذریعے مالکان کو چند ہزار کی ادائیگی نہیں کی 2010 میں جہانگیر ترین کو فی ایکڑ 22ہزار روپے آمدن ہوئی جہانگیر ترین کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر چیز کا دستاویزی ریکارڈ رکھا جائے۔ زمین کی کاشت کی آمدن کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ زمین مالکان سے بیان حلفی بھی لئے جاسکتے ہیں اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت کو محکمہ مال کا ریکارڈ درکار ہے محکمہ مال کا ریکارڈ دیں اس ی تصدیق محکمہ مال سے کروا سکتے ہیں اس پر وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ اس علاقے میں زمین مالکان محکمہ مال کے ریکارڈ میں کاشت کار کا نام لکھنے نہیں دیتے کاشتکار زمین پر قبضہ کرلیتے ہیں اس لئے مالکان کا کاشتکار نام درج نہیں کراتے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ لیز معاہدوں پر مالک کی زمین کا نہیں لکھا اس کی زمین کتنی اور کہاں ہی مطمئن کریں جن سے زمین لیز پر لی وہ زمین کے مالک تھے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین نے لیز والی زمین کی 1.9 ارب روپے ادائیگی کی کیا اس ادائیگی کی کوئی اہمیت نہیں ہی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت کی لیز زمین کی ادائیگیوں کے ریکارڈ کی اہمیت نہیں ہے۔

ہم ریکارڈ کو مسترد نہیں کررہے ہم پہلے محکمہ مال کا ریکارڈ دیکھنا چاہتے ہیں اس پر وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ ٹیکس حکام کے روبرو جہانگیر ترین اپنا موقف پیش نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لیز معاہدوں میں زمین کے کھاتوں اور مواضع کا ذکر نہیں ہے کراس چیک ادائیگیوں پر آبزرویشن دی تو آپ کیلئے مسائل ہونگے۔ ممکن ہے کسی کا شناختی کارڈ لیکر لیز معاہدہ لکھ لیا گیا ہو دیکھنا ہے جس سے معاہدہ ہوا کیا وہ مالک تھایا نہیں۔ ادائیگیوں کو بوگس قرار نہیں دیا صرف یہ کہا کہ پہلے ملکیت ثابت ریں اس پر وکیل جہانگیر ترین نے کہا کہ 2010 میں فی ایکڑ آمدن 22ہزار 891 روپے تھی اس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ 22ہزار آمدن اخراجات نکال کر ہوئی عدالت نے کیس کی مزید سماعت بدھ تک کیلئے ملتوی کردی۔

وقت اشاعت : 10/10/2017 - 15:09:53

اپنی رائے کا اظہار کریں