پاک افغان سرحد سے روزانہ 40 سے 50 ہزار افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے،جنرل (ر) عبدالقیوم ..
تازہ ترین : 1

پاک افغان سرحد سے روزانہ 40 سے 50 ہزار افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے،جنرل (ر) عبدالقیوم ، افغانستان کی جانب سے سرحدی دفاع کے لیے فقط 60 چوکیاں ہیں جو ناکافی ہیں ، بی بی سی کو انٹرویو

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2جنوری۔2016ء)پاکستان نے کہاہے کہ پاک افغان سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر 40 سے 50 ہزار افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے تاہم افغانستان کی جانب سے سرحدی دفاع کے لیے فقط 60 چوکیاں ہیں جو ناکافی ہیں۔ یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین جنرل (ر) عبدالقیوم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہی ہے ،انکا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر تین چوکیاں ہیں جن میں خیبر، چمن اور انگور اڈہ شامل ہیں، تاہم درجنوں ایسے مقامات ہیں جہاں سے غیر قانونی طور پر دونوں جانب رہنے والوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے حالیہ دورہ افغانستان میں افعان حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں سرحدی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت پر بات کی۔جنرل (ر) عبدالقیو م نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرحد پر قائم 650 چوکیوں میں باقاعدہ طور پر اہلکار موجود ہوتے ہیں تاہم سرحد کے اس پار افغانستان میں صورت حال مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کی موجودگی کے دور میں بھی ڈرون حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مارنا ممکن نہیں تھا، ان پر حملہ تبھی کیا جاتا تھا جب وہ سرحد پار کر چکے ہوتے تھے۔ دسمبر 2014 میں ختم ہو نیوالے سہ فریقی کمیشن کو دوبارہ بحال کیا جائے چاہیے اس میں صرف پاکستان اور افغانستان کے حکام ہی موجود ہوں تاہم یہ ضروری ہے کہ حکام اس کی مدد سے دو سے تین ماہ میں سکیورٹی امور کا جائزہ لیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے تو چیئرمین جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ یہ سرحد ناہموار اور دشوار گزار ہے یہاں باڑ لگانا بھی آسان نہیں ، ’پاکستانی سرحد کے ساتھ موجود افغان صوبوں کنڑ، نورستان، پکتیکا اور ننگرہار کے سرحدی علاقوں میں افعان حکومت کی رٹ نہیں ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سرحد کی فضائی نگرانی تو کرتا ہے تاہم اس کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کا کھوج لگا سکے۔’ایریئل سرویلینس تو ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس لوگوں کے پیچھا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘

وقت اشاعت : 02/01/2016 - 09:52:03

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں