محمد عامر کی ڈومیسٹک میں تباہ کن باؤلنگ ،6 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو پی سی بی ..
تازہ ترین : 1

محمد عامر کی ڈومیسٹک میں تباہ کن باؤلنگ ،6 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو پی سی بی گریڈ ٹو کے فائنل میں پہنچا دیا،میری تمام تر توجہ فٹنس اور کارکردگی پر مرکوز ہے اور میں اپنی حالیہ کارکردگی سے مطمئن ہو، محمد عامر ، میرے علم میں نہیں کہ کون سے کھلاڑی میری قومی ٹیم میں شمولیت کے مخالف ہیں اور میں اس تنازع میں پڑے بغیر سب کے لیے قابل قبول بننا چاہتا ہوں، گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2 اپریل۔2015ء) فاسٹ باولر محمد عامر نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین باوٴلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو پی سی بی گریڈ ٹو کے فائنل میں پہنچا دیا۔ایل سی سی گراونڈ لاہور میں کھیلے گئے پی سی بی گرڈ ٹو کے پہلے سیمی فائنل میں محمد عامر نے چودہ اوورز میں سنتالیس رنز دے کر چھ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

بارش سے متاثرہ اس میچ کو ایک ایک اننگ تک محدود کردیا گیا جس میں عامر نے شاندار باوٴلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ میری تمام تر توجہ فٹنس اور کارکردگی پر مرکوز ہے اور میں اپنی حالیہ کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ کون سے کھلاڑی میری قومی ٹیم میں شمولیت کے مخالف ہیں اور میں اس تنازع میں پڑے بغیر سب کے لیے قابل قبول بننا چاہتا ہوں۔

عامر نے کہا کہ اب تک مجھے جتنے بھی موقع ملے ہیں، میں نے کارکردگی دکھائی ہے اور باقی کام سلیکشن کمیٹی کا ہے، میں اپنی کارکردگی اور اخلاق سے ٹیم میں جگہ بناوٴں گا۔محمد عامر نے کہا کہ اب تک چار میچوں میں بائیس وکٹیں حاصل کی ہیں اور یہی میرا ہدف ہے کہ جو بھی موقع ملے اس میں اپنی اہلیت ثابت کروں۔یاد رہے کہ محمد عامر کو سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ باوٴلر محمد آصف سمیت 2010 میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

تینوں کھلاڑیوں کو اس جرم میں جیل بھی کاٹنی پڑی تھی۔عامر کی سزا کا خاتمہ ستمبر میں ہونا تھا لیکن آئی سی سی نے اینٹی کرپشن یونٹ کے تعاون اور ان کے مثبت رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔محمد عامر نے 14 ٹیسٹ میچوں میں 51 جبکہ 15 ایک روزہ میچوں میں 25 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

وقت اشاعت : 02/04/2015 - 02:55:18

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں