حساس اداروں نے وفاقی پولیس کے چرسی پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کردیا، ..
تازہ ترین : 1

حساس اداروں نے وفاقی پولیس کے چرسی پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کردیا، منشیات فروشی کی کثرت اور جرائم میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے 11ہزار 9سو پولیس اہلکاروں کے بارے مکمل معلومات جمع کی جائیں گی، ذرائع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30 مارچ۔2015ء )وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات حساس اداروں نے وفاقی پولیس کے چرسی پولیس اہلکاروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کردیا ، وفاقی دارالحکومت میں دیگر صوبوں کی نسبت منشیات فروشی کی کثرت اور جرائم میں ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے 11ہزار 9سو پولیس اہلکاروں کے بارے مکمل معلومات جمع کی جائیں گی۔ ذرائع،سچ تو یہ ہے کہ وفاقی پولیس کی مدد کے بغیر منشیات کافروخت اور استعمال ممکن نہیں ہو سکتا کیا کریں اپنے پیٹ سے پردہ اٹھانے والی بات ہے ۔

آئی جی اسلام آبادپولیس کے اعلیٰ افسر کا انکشاف ۔خبر رساں ادارے کو ذرائع سے حاصل مصدقہ معلومات کے مطابق سیکرٹریٹ بلاک کے داخلی راستوں پر پولیس وردی میں منشیات کی فروخت کی اطلاعات کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی پولیس کو منشیات سے پاک اور جرائم پر قابو پانے کے لیے نئے سرے سے تیار کیا جائے گا ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حساس اداروں کی ٹیمیں اسلام آباد کے 19تھانوں سمیت داخلی ،خارجی ناکوں اور پولیس رہائشی گاہوں پر پوچھ گچھ کے ذریعے منشیات کے عادی اور منشیات فروخت کرنے والے پولیس اہلکاروں کی معلومات وزارت داخلہ کو دی جائیں گی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کو معلوم اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے باعث جہاں منشیات فروشی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہیں جرائم کی تعداد اور نت نئے واقعات خبروں کی زینت بن رہے ہیں جس سے پولیس کی بدنامی سمیت نیشنل ایکشن پلان بھی بری طرح متاثر ہو رہاہے ۔حساس اداروں کی جانب سے وفاقی پولیس میں موجود چرس ،شراب ،پورڈر ،افیون کی عادی اور فروخت کرنے والوں کی لسٹیں مرتب کی جائیں گی ۔

خبر رساں ادارے کے رابطہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ پولیس کی کاررکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے ان کے پاس اس حوالے سے معلومات نہیں تاہم سچ تو یہ ہے کہ وفاقی پولیس کی مدد کے بغیر منشیات کافروخت اور استعمال ممکن نہیں ہو سکتا کیا کریں اپنے پیٹ سے پردہ اٹھانے والی بات ہے ۔

وقت اشاعت : 30/03/2015 - 09:36:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں