سانحہ یوحنا آباد ،قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس تھائی لینڈ روانہ
تازہ ترین : 1

سانحہ یوحنا آباد ،قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس تھائی لینڈ روانہ

سرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30 مارچ۔2015ء) سانحہ یوحنا آباد میں 2 زندہ جلائے جانیوالے افراد کے بہیمانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس تھائی لینڈ روانہ ہوگئی ہے جبکہ 83 افراد کو اب تک گرفتار کیا جاچکا ہے پولیس نے ان دو افراد کو بھی گرفتار کیا ہے جنہوں نے گاڑی سے پٹرول نکال کر ان پر پھینکا اور اکسایا تھا‘ اس بات کا انکشاف صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور طاہر سندھو نے نجی ہوٹل میں بین المذاہب مکالمہ کی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے سانحہ یوحنا آباد کے بعد اب تک 83 افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو اس بات کا تعین کریگی کہ ان میں سے کونسے افراد اس واقعہ میں ملوث ہیں اور کون بے گناہ ہیں‘ صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور طاہر سندھو نے کہا کہ سانحہ یوحنا آباد کے بعد زندہ جلائے گئے دو بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو ویڈیو فوٹیج کے ذریعے نادرا کی مدد شناخت کیا گیا اور وہ واقعہ کے بعد تھائی لینڈ فرار ہوگیا تھا جس پر تھائی حکومت اور انٹر پول سے رابطے کے بعد ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جو تھائی لینڈ روانہ ہوچکی ہے قوی امکان ہے کہ مرکزی ملزم کو آئندہ چند روز میں گرفتار کرکے پاکستان لایا جائیگا جس کیلئے پاکستانی سفارتخانے کو تمام احکامات جاری کردیئے گئے ہیں سفارتخانے کا عملہ ٹیم کی بھرپور معاونت کررہا ہے مرکزی ملزم کی تلاش کیلئے تھائی لینڈ پولیس نے بھی ملزم کی تصاویر کی شناخت کیلئے متعدد پولیس اسٹیشنوں کو فراہم کردی ہے صوبائی وزیر نے تقریب کے دوران اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ بنیادی طور پر واقعہ میں تین سے چار مرکزی ملزمان ملوث ہیں جنہوں نے ہجوم کو نوجوانوں کو زندہ جلانے پر اکسایا‘ ان میں سے ایک ملزم نے گاڑی سے پٹرول نکالا اور ہجوم کے حوالے کیا جنہوں نے پٹرول چھڑک کر سرگودھا کے نواحی علاقہ کوٹ پہلوان کے رہائشی بابر نعمان اور قصور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد نعیم کو زندہ جلادیا‘ صوبائی وزیر نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان مبینہ طور پر مغرب کے پروردہ افکار کو فروغ دینے والے عناصر کے حمایتی نظر آتے ہیں۔

وقت اشاعت : 30/03/2015 - 09:16:30

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں