یکم جنوری 2013 سے اب تک اعلی تعلیم کے لئے 909 رجسٹرڈ پاکستانی طالب علم بیرون ملک بھیجے ..
تازہ ترین : 1

یکم جنوری 2013 سے اب تک اعلی تعلیم کے لئے 909 رجسٹرڈ پاکستانی طالب علم بیرون ملک بھیجے گئے ہیں ، بلیغ الرحمان ،یوٹیوب سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے بند کی ، انوشہ رحمان کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔28 مارچ۔2015ء) وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت میاں بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ یکم جنوری 2013 سے اب تک اعلی تعلیم کے لئے 909 رجسٹرڈ پاکستانی طالب علم بیرون ملک بھیجے گئے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ یوٹیوب سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے بند کیا ہے ۔ وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت میاں بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ یکم جنوری 2013 س اب تک کے عرصے کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے اعلی تعلیم کے لئے کل 909 رجسٹرڈ پاکستانی طالب علم بیرون ممالک بھیجے گئے ہیں این ٹی ایس ٹیسٹ یا اور کوئی ٹیسٹ لیا جاتا جو پیمانہ کو جانچنے کے لئے کیا جاتا ہے اور الگ یونیورسٹیز کے اپنے اپنے رزلٹ ہوتے ہیں جس کے لئے کامن ٹیسٹ این ٹی ایس لیا جاتا تھا اب بھی ٹیسٹ لئے جاتے ہیں جن کا صرف نام تبدیل کر دیا گیا ہے جیسے بلوچستان میں بی این ٹی ایس لیا جاتا ہے اس وقت این ٹی ایس ، جی اے ٹی کے لئے 1000 روپے اور جی اے ٹی (مضمون) کے لئے 1500 روپے کے اخراجات وصول کر رہا ہے ۔

تاہم اس سلسلے میں ایچ ای سی کو ابھی تک کوئی شکایات موصول نہیں ہوئی ۔ این ٹی ایس کسی فرد کی تعلیم کو جانچنے کا پیمانہ معیار نہیں ہے اس کی بجائے یہ داخلوں اور اسکالر شپ کے لئے امیدواروں کی صلاحیت شفافیت اور ان کی عموممی اور مضمون سے متعلق اہلیت کے بین الاقوامی معیار کا جائزہ سے متعلق ادارہ جاتی ٹیسٹ ہے یہ ٹیسٹ نہ صرف پاکستانی گریجویٹس کی بین الاقوامی صلاحیت میں بہتری لا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی اداروں اور تحقیقی مقابلوں کے مطابق ان کی استعداد کار میں بھی اضافہ کر رہے ہیں ۔

وقفہ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مواصلات انوشہ رحمان نے کہا کہ یوٹیوب کو سپریم کورٹ کے آرڈر پر اور ہم بھی مسلمان ہیں اور نبی کریم سے عقیدت اور احترام میں حکومت نے بھی بند کر دیا ہے ۔ پاکستان کے علاوہ اور بھی مسلم ممالک موجود ہیں جنہوں نے یوٹیوب بند کر دیا ہے پاکستان میں یوٹیوب موکل لائی نہیں ہے اس وت گوگل بھی اور یوٹیوب پر امریکہ کا قانون لاگو ہے پاکستان اس کے لئے جب تک قانون سازی نہیں کی جاتی تب تک یوٹیوب لوکل لائیز نہیں ہو سکتا ہے اس کے لئے پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے جب یہ قانون بن جائے گا تو پھر گوگل اور یوٹیوب پاکستان کا قانون لاگو ہو سکتا ہے ۔

حکومت پاکستان بذریعہ الیکٹرانک کرائم کے امتناع بل 2014 و قانون وضع کرنے کے عمل میں ہے جو پاکستان میں یوٹیوب کی مقام بندی میں مددگار ہو گا ۔ بشرطیکہ یہ ان کے لئے ایک اپنا کاروباری کیس ہو مقام بندی ہونے پر وہ پاکستان کے عدالتی حکمناموں کا جواب دیں گے ۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورشیخ آفتاب نے کہا کہ پی آئی اے کی پرواز کے اپنے گھنٹے ہوتے ہیں جب وہ واپس آ جاتے ہیں تو پھر وہ مخصوص ورکشاپ میں جا کر باقاعدہ چیکنگ کی جاتی ہے ۔ پی آئی اے کے پاس اس وقت جہازوں کی کمی اور عملہ زیادہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ جہازوں کی تعداد بڑھا کر کراچی میں جہازوں کے وقت پر آنے جانے کا مسئلہ ختم کر دیا جائے گا ۔

وقت اشاعت : 28/03/2015 - 02:58:29

اپنی رائے کا اظہار کریں