ڈیرہ غازیخان،دارالامان سے نوجوان لڑکی عملہ کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر خریدار ..
تازہ ترین : 1

ڈیرہ غازیخان،دارالامان سے نوجوان لڑکی عملہ کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر خریدار گینگ نے نکلوائی ،سلسلہ کو دبانے کے لیے چوکیدا معطل ، پر ای ڈی او کمیونٹی کی الگ سے انکوائری کرکے ذمہ داران کے خلا ف کاروائی کی یقین دہانی

ڈیرہ غازیخان (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23 مارچ۔2015ء)دارالامان سے نوجوان لڑکی پرا سرار طور پر لاپتہ سول جج سعدیہ لقمانی نے 18 مارچ کو دارامان بھجوائی تھی گزشتہ روز عملہ کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر خریدار گینگ نے نکلوائی سلسلہ کو دبانے کے لیے چوکیدار کو معطل کر دیا میڈیا کے رابطہ کرنے پر ای ڈی او کمیونٹی کی طرف سے الگ سے انکوائری کرکے ذمہ داران کے خلا ف کاروائی کی یقین دہانی تفصیلات کے مطابق 17 مارچ کو عائشہ بی بی سکنہ لاہور نے پولیس ریسکیو15 پر کال کرکے اطلاع دی کہ وہ لاہور سے یہاں اپنے تعلقہ سلیم نامی شخص کے پاس آرہی تھی کہ اسے چند افراد مجھے اغواء کرکے فروخت کرنا چاہتے ہیں عائشہ کی اطلاع پر تھانہ سٹی پولیس کے اے ایس آئی جہانزیب پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے تومذکورہ اغواء کار پولیس کو دیکھ کت فرار ہوگئے جبکہ اے ایس آئی جہانزیب نے اسے حفاظتی تحویل میں لیکر علاقہ مجسٹریٹ سول جج سعدیہ لقمانی کی عدالت میں پیش کیا جنہوں نے اسے دارامان بھجو ادیا ذرائع کے مطابق 18 مارچ کو دارامان میں داخل ہونے کے بعد مبینہ خریدارون نے بھاری نذرانہ کے عوض عائشہ بی بی کو وہاں سے نکلوالیاواقعہ کی اطلاع ملنے پر لڑکی کے لاپتہ ہونے کی خبرکی تصدیق کے لیے انچار ج دارامان زرینہ بی بی سے رابطہ کیا تو انہوں نے فون پر بات نہیں کی جبکہ ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئرمحمد فاروق کا فون بھی بند تھا رابطہ کرنے پر ای ڈی او کمیونٹی ڈیویلپمنٹ محمد احمد خان لغاری نے بتایاکہ ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر اور سپریٹنڈنٹ دارامان کے معاملات کے انچاج ہیں ڈسٹرکٹ آفیسر نے دارامان کے چوکیدارمحمد اسحاق کو معطل کر دیا ہے اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر تونسہ کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا گیا ہے او ر متعلقہ تھانہ سول لائن کو بھی رپٹ درج کراکر واقعہ پر قانونی کاروائی کے لیے لکھا گیا ای ڈی او نے صحافیوں کے اتفسار پر کہ اتنے سنگین واقعہ پر صرف چوکیدارکی معطلی کافی ہے ای ڈی او نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ کے الگ سے وہ خود بھی انکوائری کرائینگے اور متعلقہ تمام تر ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

وقت اشاعت : 23/03/2015 - 09:19:39

اپنی رائے کا اظہار کریں