امریکا، آزادی اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان ، ٹیکساس میں مقامی ..
تازہ ترین : 1
امریکا، آزادی اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان ، ٹیکساس ..

امریکا، آزادی اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان ، ٹیکساس میں مقامی تنظیم کا 3 مئی کو گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان ، آ ن لائن مقابلے میں انعام بھی دیا جائے گا،رپورٹ

ڈیلاس (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22 مارچ۔2015ء) امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک مقامی تنظیم نے گارلینڈ سینٹر میں 3 مئی کو گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔ آ ن لائن مقابلے میں انعام بھی دیا جائے گا۔میڈیارپورٹ کے مطابق امریکامیں اظہار آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی پروگرام اور مظاہرے اور نفرت انگیز تحریر و تقریر کے پروگرام تشکیل دینے میں سرگرم عمل امریکا کی غیر سرکاری تنظیم امریکن فریڈم ڈفیس انسٹیٹیوٹ ہے۔

خفیہ طور پر ریپبلکن پارٹی کی ذیلی تنظیم ٹی پارٹی سے تعلق رکھنے والی پامیلا گیلر جو اس تنظیم کی صدربھی ہے، 14 جون 1958ء کو نیو یارک کے علاقے لانک آلینڈ کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئی ،اس نینمائش کا مقام ”کرسٹی کالی ویل سینٹر“ رکھا ہے جبکہ اس کا عنوان بھی ”اظہار رائے کی آزادی کے لئے کھڑے رہو“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔واضح رہے کہ یہ وہ ہی مقام ہے جہاں مقامی امریکن مسلم تنظیم نے ایک ماہ قبل کانفرنس بعنوان ”نبی کے ساتھ کھڑے رہو“ منعقد کی تھی۔

2010ء میں پامیلا گیلر نے (AFDI) نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی جس میں رابٹ اسپنسر اس کے ہمراہ تھے جبکہ انہی کے ہمراہ وہ ایک کتاب میں معاون مصنف بھی تھی جس کا نام (The post-American Presidency: The Obama Administration War on America) تھا، اس کتاب میں اوباما حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 2010ء سے 2014ء تک اس نے مختلف جگہوں پر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کیلئے خطاب کئے۔ 2013ء میں اس کو جوئشڈفیس لیگ کینیڈا نے بحیثیت مقرر بلایا۔

2010ء میں گراؤ نڈ زیرو مسجد کی تعمیر پر احتجاج کیا اور مسلمانوں کے خلاف اشتہاری مہم چلائی۔ مقامی میڈیا کی جانب سے پامیلا گیلر کو متعدد بار ہدف تنقید بناتے ہوئے اس پر نفرت انگیز مہم چلانے پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا تاہم جو بھی ان پر تنقید کرتا اْن کو وہ جواباً شدید تنقید کا نشانہ بنا کر اْن پر مختلف قسم کے الزامات لگاتی رہیں۔ پامیلا انتہائی چست اور کھلے گلے والے لباس پہنتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے لباس سے نفرت ہے تو اس طرح کے لباس اس کو پسند ہیں۔

وقت اشاعت : 22/03/2015 - 10:02:45

اپنی رائے کا اظہار کریں