موبائل فون کے ذریعے ماوٴں اور نومولود بچوں کی زندگی کی جنگ

موبائل فون کے ذریعے ماوٴں اور نومولود بچوں کی زندگی کی جنگ

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔18 مارچ۔2015ء)بھارت میں ہزاروں مائیں زچگی کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں جبکہ لاکھوں بچے پانچ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی انتقال کر جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے موبائل فون پیغامات پر مبنی آگاہی کا ایک پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس موبائل فون سروس کے ذریعے حاملہ ماوٴں کو ویکسینیشن اور خوراک کے حوالے سے بھی آگاہی دی جائے گی۔

بھارت کی قریب ایک ارب 25 کروڑ آبادی کے لیے ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔ اسی باعث بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں زچگی کے دوران ماوٴں اور نومولود بچوں کی ہلاکت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔اس صورتحال میں ایسے دْور دراز علاقوں میں موجود حاملہ اور نومولود بچوں کی ماوٴں کو صحت سے متعلق معاملات اور مشوروں کے لیے بھارت نے اپنے موبائل فون نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے 950 ملین صارفین ہیں اور یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔

بھارتی وزرات صحت کے ایک اہلکار منوج جھلانی کے مطابق، ”یہ ہمارے لیے ایک بہت اہم ترجیح ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سروس ملک کے آٹھ ہندی بولنے والے صوبوں میں 15 اگست سے شروع کر دی جائے گی۔ اس سروس کے ذریعے ویکسینیشن اور حاملہ ماوٴں کو خوراک کے حوالے سے بھی آگاہی دی جائے گی۔’قِلقاری‘ یعنی بچے کا کھلھلا کر ہنسنا، نامی اس پراجیکٹ کے سپروائرز منوج جھلانی کے مطابق، اس پروگرام میں حمل کے مختلف مرحلوں اور بچے کی عمر کے مختلف مراحل کے لیے خصوصی ریکارڈ شدہ پیغامات تیار کیا کیے جائیں گے۔

بھارت میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں صفائی اور نکاسی آب کی ناقص صورتحال اور غربت کے باعث بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ سال 2013ء کے دوران 50 ہزار ماوٴں کی دورانِ زچگی ہلاکت ریکارڈ کی گئی جبکہ 13 لاکھ بچے پانچ برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی انتقال کر گئے۔ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماوٴں اور بچوں کی ان ہلاکتوں کی بڑی وجہ نمونیا اور ناکافی خوراک جیسے معاملات ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔

زیادہ تر خواتین گھر پر ہی بچے کو جنم دیتی ہیں جہاں نہ صاف پانی ہوتا ہے اور نہ ہی ٹائلٹس۔ جبکہ حکومتی ہسپتالوں میں بھی گنجائش سے کہیں زیادہ رش رہتا ہے۔اس پروگرام کا پائلٹ پراجیکٹ بھارت کے مشرقی صوبہ بِہار میں شروع کیا گیا تھا جہاں گزشتہ 18 ماہ کے دوران قریب ایک لاکھ دیہی خاندانوں نے اس میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ چونکہ بھارت میں صحت کے شعبے کے لیے فنڈز ناکافی ہیں اس لیے موبائل فون پیغامات کے ذریعے صحت سے متعلق معلومات لوگوں تک پہنچانا ایک کم خرچ طریقہ ہے۔

اس نئے پراجیکٹ کو بِل اور میلنڈا گیٹس فاوٴنڈیشن کے علاوہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی امدادی کام کرنے والی شاخ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس پروگرام کے تحت حاملہ خواتین تک پہنچنے کے لیے بھارت کی نیشنل ڈیٹا بیس سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

وقت اشاعت : 18/03/2015 - 10:04:51

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں