پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر میں 10ارب روپے سے زائد کے 51آڈٹ پیراؤں کو ادائیگیوں ..

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر میں 10ارب روپے سے زائد کے 51آڈٹ پیراؤں کو ادائیگیوں کے بغیر نمٹا دیا،آڈٹ حکام نے ایف بی آر کے مالی سال1996-97ء کی آڈٹ رپورٹ میں لینڈ کسٹمر اورسنٹرل ایکسائز شعبہ میں بھاری مالی بدعنوانی کا کھوج لگایا، حکومت کو ایف بی آر کے حکام سے یہ رقم وصول کر نے کی ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔13 مارچ۔2015ء)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر میں 10ارب روپے سے زائد کے 51آڈٹ پیراؤں کو ادائیگیوں کے بغیر نمٹا دیا،آڈٹ حکام نے ایف بی آر کے مالی سال1996-97ء کی آڈٹ رپورٹ میں لینڈ کسٹمر اورسنٹرل ایکسائز شعبہ میں بھاری مالی بدعنوانی کا کھوج لگایا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایف بی آر کے حکام سے یہ رقم وصول کرے۔

ایف بی آر کی گرانٹ 51میں یہ بھاری مالی بدعنوانی کا کھوج لگایا۔آڈٹ حکام نے بی اے سی کی ذیلی مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس جس کی صدارت ایم این اے افضال رانا عبدالمنان اور شاہدہ اختر علی کر رہے تھے میں مؤقف اختیار کیا اور 96 ملین روپے1996ء میں غبن کئے تھے اور اگر اس رقم پر مارک اپ ڈالا جائے تو یہ 10ارب بنتی ہے۔رپورٹ کے مطابق آڈٹ محکمہ کے جو افسران ایف بی آر میں آڈٹ کیلئے بھیجے گئے تھے وہ بھی ایف بی آر کے کرپٹ اہلکاروں کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے بھی کرپشن میں اپنے ہاتھ دھولئے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس اہم آڈٹ اعتراضات کو نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمانہ انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے ۔

وقت اشاعت : 13/03/2015 - 09:09:01

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں