سلامتی کونسل‘شام میں کلورین کے حملوں کی مذمت ،امریکہ کی جانب سے پیش کر دہ قرار ..
تازہ ترین : 1

سلامتی کونسل‘شام میں کلورین کے حملوں کی مذمت ،امریکہ کی جانب سے پیش کر دہ قرار داد منظور ، شام کیمیائی ہتھیارں کے امتناع کیلئے کا م کرنے والی تنظیم( او پی سی ڈبلیو) کے تحقیقاتی مشن سے تعاون کرے‘ قرارداد میں مطالبہ

نیو یارک ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔8 مارچ۔2015ء)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں کلورین گیس کے استعمال کی مذمت کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرار داد منظور کرلی ہے اور مستقبل میں کیمیائی حملوں کی صورت میں پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔سلامتی کونسل میں جمعہ کو امریکا کی تیار کردہ قرار داد پر رائے شماری ہوئی ہے اور اس کے حق میں پندرہ میں سے چودہ رکن ممالک نے ووٹ دیا ہے جبکہ وینزویلا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے لیے کام کرنے والی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے تحقیقاتی مشن سے تعاون کرے۔اس میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شام میں کلورین ایسے زہریلے کیمیائی مادے کے استعمال کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرے۔قبل ازیں اوپی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل نے عرب جمہوریہ شام میں کلورین گیس کے بار بار اور منظم انداز میں استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اب اقوام متحدہ کی قرار داد میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار داد نمبر 2118 کے تحت شام پر کیمیائی ہتھیار تیار کرنے ،رکھنے ،ذخیرہ کرنے یا ان کے استعمال پر پابندی ہے۔

وہ ان کی نقل وحمل بھی نہیں کرسکتا اور نہ دوسرے ممالک کو سپلائی کرسکتا ہے۔سلامتی کونسل میں یہ قرارداد او پی سی ڈبلیو کی جانب سے جنوری میں پیش کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں تیار کی گئی تھی۔اس میں اس تنظیم نے انتہائی بااعتماد انداز میں کہا تھا کہ گذشتہ سال شام کے تین دیہات میں کلورین گیس استعمال کی گئی تھی۔شامی فوج پر 2014ء میں ملک کے مختلف علاقوں میں کلورین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔

او پی سی ڈبلیو کے تحقیقاتی مشن نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ کلورین گیس کے حملوں میں ساڑھے تین سو سے ساڑھے پانچ سو تک افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں تیرہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔دسمبر 2014ء میں برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ شامی حکومت نے مشرقی شہر دیرالزور میں ایک اہم ہوائی اڈے کی جانب داعش کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کلورین گیس استعمال کی تھی اور اسدی فوج کی بمباری کے بعد داعش کے جنگجووٴں کو پسپا ہونا پڑا تھا۔

رپورٹ میں گذشتہ سال اپریل سے اگست کے دوران تین دیہات تل مینسے، آل تمنح اور کفر زیتا میں کلورین گیس کے حملوں کا کسی فریق کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔تاہم اقوام متحدہ میں متعین امریکی سفیر سمنتھا پاور نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ ''انتیس شاہدین نے ہیلی کاپٹروں کی جانب سے بم گرانے کی آواز سنی تھی اور انتیس نے کلورین گیس کی بْو سونگھنے کی تصدیق کی تھی۔

اس لیے بات واضح ہے۔شام میں صرف بشار رجیم ہی ہیلی کاپٹر استعمال کررہا ہے''۔واضح رہے کہ شام نے اپنے اعلان کردہ خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے میں کلورین کا ذکر نہیں کیا تھا۔اس زہریلی گیس کو 2013ء میں شام کے خطرناک ہتھیاروں کی تباہی کے لیے امریکا اور روس کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے تحت ایک کیمیائی ہتھیار خیال کیا جاسکتا ہے۔اس کو تجارتی اور گھریلو مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور باغی جنگجو ماضی میں ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔اگست 2013ء میں دمشق کے نواحی علاقے میں خطرناک گیس سیرن کا حملہ کیا گیا تھا۔عالمی برادری نے بشارالاسد کی حکومت پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اور اس کے بعد ہی شامی صدر نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اس کے بعد اوپی سی ڈبلیو اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی نگرانی میں شام سے ایک ہزار تین سو میٹرک ٹن کیمیائی ہتھیار بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے۔کلورین سیرین گیس کے مقابلے میں کئی ہزار گنا کم مہلک ہوتی ہے لیکن کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن کے تحت اس کا استعمال بھی غیر قانونی ہے۔شام نے بھی اس کنونشن پر دستخط کررکھے ہیں۔شامی فوج کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر کلورین کا استعمال امریکا اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے کی شرائط کی بھی خلاف ورزی تھا۔

وقت اشاعت : 08/03/2015 - 10:09:41

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں