سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور الیکشن کمیشن سے آج تک حتمی تاریخ مانگ لی،صوبے اور الیکشن کمیشن واضح کرے کہ وہ کب تک بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ عدالت بلدیاتی انتخابات نہ کرانے‘ پبلک سیفٹی کمیشن غیر فعال ہونے سے شہریوں کو درپیش مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور عدالتی حکم پر عمل درامد نہ کروانے پر صوبوں کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے،عدالت کا حکم، آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے سیاستدانوں سمیت کوئی بھی کسی بھی مجبوری کے تحت آئین کو بالائے طاق نہیں رکھ سکتا،جسٹس جواد ایس خواجہ ،سندھ میں سیاسی بنیادوں پر حد بندیاں نہیں ہو سکتیں یہ سب ریونیو اسٹیٹ کے تحت ہی ہونا ہے،جسٹس سرمد جلال عثمانی کے ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 27فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد بارے پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے حکومت اور الیکشن کمیشن سے 24 گھنٹوں میں حتمی تاریخ مانگ لی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ صوبے اور الیکشن کمیشن واضح کرے کہ وہ کب تک بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ عدالت اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ جو احکامات عدالت نے نے گاہے بگاہے بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے جاری کئے تھے ان پر حکومتوں نے کس حد تک عمل کیا ہے اور بلدیاتی انتخابات مین تاخیر کا سبب بننے والے ذمہ داروں کے خلاف کیا آئینی و قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

صوبوں نے ایک بار پھر وقت مانگا ہے مگر عدالت بلدیاتی انتخابات نہ کرانے‘ پبلک سیفٹی کمیشن غیر فعال ہونے سے شہریوں کو درپیش مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ اس لئے مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اور عدالتی حکم پر عمل درامد نہ کروانے پر صوبوں کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہ حکم جمعرات کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے جاری کیا۔

جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے جان بوجھ کر عدالت کو مجبوریوں اور مسائل کی بھول بھلیوں میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ان کے اختیارات منتقل کرنے کے لئے بلدیاتی انتخابات نہ کرائیں۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے سیاستدانوں سمیت کوئی بھی کسی بھی مجبوری کے تحت آئین کو بالائے طاق نہیں رکھ سکتا۔ سمجھ میں نہیں آتا صوبے بلدیاتی انتخابات کرانے سے کیوں خائف ہیں کیا وہ عام لوگوں کو ملنے والے اختیارات سے خوفزدہ ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کرانا آرٹیکل 140 اے کے تحت آئینی تقاضا ہے جس پر ہر صورت عمل کرنا ہو گا۔ اگر حکومتوں نے آئین کی پیروی نہیں کرنی تو پھر سب کو کھلے عام لاقانونیت کی اجازت دے دیں۔ جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سندھ میں سیاسی بنیادوں پر حد بندیاں نہیں ہو سکتیں یہ سب ریونیو اسٹیٹ کے تحت ہی ہونا ہے۔ سندھ حکومت 2016ء کی تاریخ کیوں دے رہی ہے جبکہ پنجاب اور سندھ نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے کوئی بھی تاریخ مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

بلدیاتی انتخابات بارے کیس کی سماعت جمعرات کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کی۔ اس دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے اکرم شیخ جبکہ پنجاب اور سندھ کی جانب سے متعلقہ ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے۔ حکومت پنجاب اور سندھ نے عدالتی حکم کے مطابق اپنے اپنے جوابات پیش کئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بلوچستان بار کی درخواست تھی اور انہوں نے ہی انتخابات کرا دیئے ہیں اس کے دور رس نتائج ہیں ہمارے سامنے ہر روز کیس آتا ہے مسئلہ واضح ہے حیدر علی کیس میں بھی خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا انہوں نے بتایا کہ دربدر مارے پھرنے والے انجمن متاثرین تشدد پولیس کے ممبر ہونے چاہئیں کیونکہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ہیں پبلک سیفٹی کمیشن ایک موثر طریقہ ہے عوام الناس کی شنوائی کے لئے پولیس کے پاس ان کی شنوائی نہیں ہے تو وہ لوگ پبلک سیفٹی کمیشن کے پاس چلے جائیں گے وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں موجود ہیں مگر بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹیاں 6 سال سے زائد ہو چکے ہیں غیر فعال ہیں حکومتیں آئین کی پابند ہیں اس کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔

ہر صوبہ اپنے علاقے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گا اور ماتحت لوگوں کو اختیارات کی منتقلی کرے گا۔ اپریل 2010ء سے اب تک بلدیاتی ا نتخابات نہیں کرائے گئے 5 سال کا عرصہ گزر گیا مشکل ترین علاقے بلوچستان میں تو بلدیاتی انتخابات کرا دیئے گئے باقی صوبے نہیں کرا رہے ہیں وہاں پر 3 مرحلے میں مکمل ہو گئے ہیں کے پی کے نے بھی شیڈول دے دیا تھا سندھ ایڈووکیٹ جنرل فتح ملک سے پوچھا کہ بتایئے صوبگے کی آئینی و قانونی طور پر بلدیاتی انتخابات بارے کیا ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ آئین پر یقینی رکھتے ہیں اگر ایسا ہے تو آپ دونوں صوبوں کے لا افسران اونچا پولیس زبان سے اقرار خالی نہیں ہے عملی طور پر بتائیں کہ آپ نے اب تک کیا کیا ہے۔

اگر آپ آئین کے پابند ہیں 140 اے کیا کہتا ہے۔ رزاق اے مرزا آئین پڑھ کر سنائیں جو انہوں نے پڑھ کر سنایا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ نے آرٹیکل پر عملدرامد کرا دیا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا نظام لاگو کر دیا گیا ہے یا نہیں رزاق اے مرزا نے کہا کہ پہلے تھا اب نہیں ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عنان اقتدار میں بیٹھے لوگ آئین کو تسلیم کرتے ہیں آپ نے کہا ہاں ہم نے آپ کو آرٹیکل 140 اے پڑھنے کو کہا آپ نے پڑھنا شروع کیا۔

پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سسٹم لاگو ہے یا نہیں اگر نہیں یہ قانون کی خلاف ورزی ہے ابھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تاخیر نہیں کیا ہے۔ دشواریوں کی وجہ سے کیا آئینی تقاضے کو بالائے طاق رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مجبوری کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آئین پر عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ منطق کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بلدیاتی نظام لاگو کیا جائے پھر سیاسی تحریک اور معاشی مضبوطی کی بات ہو گی۔

کیا یہ عجیب نہیں ہو گا کہ بلدیاتی نظام تو لاگو نہیں ہوا اور لوگوں کو اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ یہی سوال انہوں نے فتح ملک سے بھی کیا اور کہا کہ آپ نے بھی سن لیا ہے آپ بھی آئین کے پابند ہیں بلدیاتی انتخابات کرانا آئین کا تقاضا ہے کیا سندھ میں یہ نظام لاگو ہے اگر نہیں ہے تو آپ کی حکومت کو سراہتے ہیں اختیارات کی منتقلی تو جب ہو گی جب نظام لاگو ہو گا۔

جسٹس جواد نے کہا کہ کیا آئین کی کچھ شقیں ہیں کہ جن کے تحت یہ آئینی معاملہ کسی مجبوری کے تحت زیر التواء رکھا جا سکے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ سندھ اور پنجاب اگر آئین کو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں رکھ سکتے۔ قانون سے نابلد ہونا الگ بات ہے مگر آئین و قانون پر عمل کرنا ہر فرد اور ادارے کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کو چھوٹا صوبہ سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے حکم پر عمل کریں گے پھر بڑے صوبے کریں گے اکر م شیخ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے اور سابقہ حکم پڑھ کر سنایا۔

جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ اور پنجاب بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حتمی تاریخ دیں گے۔ وفاق نے اسلام آباد اور کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات کرانا ہیں سندھ اور پنجاب دونوں اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات بارے بل پیش کرنے کا معاملہ بارے پوچھا اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد بھٹی نے بتایا کہ ابھی تک بل پیش نہیں کیا گیا اکرم شیخ نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے معاملات الیکشن کمیشن میں پیش کر دیئے جائیں گے سندھ حکومت کہتی ہے کہ 2016ء تک تو بلدیاتی انتخابات کی بات نہ کریں۔

کہتے ہیں کہ حد بندیاں کی جانی ہیں اس حوالے سے کوئی قانون بھی پیش نہیں کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چیف سیکرٹری سندھ کہاں ہیں؟ آئے نہیں اس پر اے جی سندھ نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف کراچی پہنچے ہیں اور سیکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہونا ہے وہ وہاں ہیں اکرم شیخ نے کہا کہ پنجاب کا موقف یہ تھا کہ 6 اضلاع کا ریکارڈ نہیں دیا گیا بادل ناخواستہ سندھ نے تعمیل کی پنجاب نے نومبر 2015ء میں انتخابات کرانے کا کہا ہے پنجاب کے 6 اضلاع کا ریکارڈ اب لاہور میں جمع کروا دیا گیا ہے۔

سندھ کا جواب ہمیں نہیں مل سکا ہے اے جی سندھ نے کہا کہ کاپی بھجوا دی گئی ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ اگر آئین کی پیروی نہیں کرنی تو ہر کسی کو اجازت دے دیں کہ وہ بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا پھرے۔ سب سے پوچھنتا چاہئیں گے کہ اگلے اقدامات کیا ہوں گے اگر آئین کی پاسداری صوبائی حکومتیں نہیں کرتیں اور ہمارے احکامات ایسے ہیں کہ جن کی پیروی نہیں کی جا رہی ہے۔

بیانات حلفی بھی درکنار آپ ہماری معاونت کریں کہ عدالت کیا احکامات جاری کرے۔ اگرم شیخ نے کہا کہ جب تک اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہو گی تمام ادارے غیر فعال رہیں گے اور اب یہی حالات ہیں۔ آئین کا مقصد ہی معطل پڑا ہے۔ مئی 2015ء تک کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہو گا۔ حد بندیوں کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیئے گئے تھے جس پر کے پی کے حکومت نے عملدرامد کرا دیا ہے۔

لاہور میٹرو پولیٹن اور 6 اضلاع کا ریکارڈ پنجاب نے نہیں دیا تھا سندھ نے واضح طور پر کہا ہے کہ 2016ء تک تمام تر معاملات مکمل کر لئے جائیں گے عدالت نے کہا کہ حد بندی کب تک مکمل کر لی جائیں گی۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آئین نے کچھ اختیارات بطور عدالت عوام نے ہمیں دی ہیں وہ استعمال ہوں گی یہ کہتے ہیں کہ منتخب حکومتیں ہیں کیا منتخب حکومتیں آئین کو بالائے طاق رکھ سکتی ہیں یا نہیں ہم نے دیکھنا ہے کہ عدالتی حکم پر کس حد تک عمل ہوا ہے اگلا قدم کیا ہونا چاہئے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں عرصہ لگ گیا جسٹس سرمد نے کہا کہ کراچی میں حد بندیوں کا معاملہ ہے وہ اب تک کیوں حل نہیں کیا گیا۔ اے جی سندھ نے کہا کہ بل سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے تنازعہ حد بند یاں 2010ء سے شروع ہوا کئی سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے عدالتوں سے رجوع کیا اور آخر کار سپریم کورٹ نے مسئلہ حل کیا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم وضاحتیں نہیں مانگ رہے اب اس کا وقت گزر گیا اب عمل کا وقت ہے 2005ء سے آئینی تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔

بادی النظر حکومتیں اہل نہیں ہیں کہ جو اس آئین پر عمل کر سکیں ہم سیاستدان نہیں اور نہ ہی سیاست آتی ہے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ جس میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا بن چکا ہے کوئی ہمیں آکر یہ نہ بتائے کہ وہ سیاستدان ہیں اور آئین پر عمل نہ کرنا ان کی مجبوریاں ہیں سیاسی اختلافات کہاں نہیں ہیں ترکی میں بھی لوگ گھتم گتھا تھے وہ یہ تو نہیں کہتے کہ ہم آئین نہیں مانتے ۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ سندھ میں سیاسی بنیادوں پر حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں یہ سب ریونیو اسٹیٹ کے تحت ہی ہوتا ہے اب تک عملی اقدامات کیوں نہیں کئے گئے ۔ کیا سندھ میں الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کا ٹائم فریم دے دے ۔ اے جی سندھ نے کہا کہ جی ہاں دے دے ہم تیار ہیں ۔ ہم نے حلقہ بندیاں کرانی ہیں نشتوں کے مطابق کام ہوتا ہے آپ تاریخ دے دیں ہم انتخابات کرادیتے ہیں ۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ سندھ حکومت 2016ء کا وقت کیوں مانگ رہی ہے اگلے مہینے انتخابات کیوں نہیں کرائے جاتے ۔ اکرم شیخ نے کہا کہ تین سے چار دنوں تک سندھ حکومت الیکشن کمیشن میٹنگ کرے گا اور پھر حد بندیاں ہوں گی ۔ رزاق اے مرزا نے کہا کہ ہم نے تمام تر تفصیلات دے دی ہیں اب الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تاریخ دینا ہے سیکشن 19 کے تحت انتخابات ہوئے ہیں اکرم شیخ نے کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمشن کو پنجاب حکومت نے خط لکھا تھا جو ایک روز قبل لکھا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ سب معاملات مکمل ہیں اب ہم نے ان کو ٹائم فریم دینا ہے پانچ مارچ کو سینٹ کا الیکشن ہونے جارہا ہے مصروفیت ہوگی جسٹس جواد نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے اتنا وقت نہیں دے سکتے ۔

میٹنگ کرنے کے لیے پانچ دن کیسے لگ سکتا ہے سندھ حکومت نے گیارہ فروری 2015ء کو نقشے فراہم کردیئے تھے لمبی تاریخ نہیں دینگے ہمیں بتا دیں کہ ہم نے آئین کو نہیں ماننا میٹنگ کریں اور جواب دیں اس طرح کی وقت دینے عیاشی کی اجازت نہیں دینگے ہر لفظ بتلا رہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرنام چاہتی ہیں اور انتخابات نہیں کرانا چاہتے عوام الناس کو بھی بتادیں کہ ان کو اختیارات منتقل نہیں کئے جائینگے عدالت نے حکمنامے تحریر کرایا کہ اتنی لمبی سماعت ہوچکی ہے مگر صوبائی حکومتیں تاحال انتخابات کرانے سے گریزاں ہیں 140 اے کے تحت انتخابات کرانا ان کی ذمہ داری ہے چار میں صرف بلوچستان نے بلدیاتی انتخابات کرادیئے ہیں اور مقامی حکومتیں فعال ہوچکی ہیں جبکہ کے پی کے حکومت نے بھی عملدرآمد کرادیا ہے اب وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کا انتظار کررہے ہیں ۔

اکرم شیخ نے بتایا کہ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات مئی 2015ء میں ہوں گے اس پر انہیں کمیشن کے نمائندے عبدالرحمان نے کہا کہ ابھی وہ ٹیلی فون کرکے پتہ کرتے ہیں پھر کہنے لگے ایک دن دے دیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ یہ تو عدالت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔ ایڈیشنل ڈی جی عبدالرحمان کو عدالت نے کہا کہ وہ جائیں اور الیکشن کمیشن سے رابطہ کرکے معلومات عدالت کو دیں ۔

پنجاب کے حوالے سے رزاق مرزا نے بتایا کہ تمام تر ضروری معلومات الیکشن کمیشن کو مہیا کردی گئی ہیں ۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ چوبیس فروری کو سب کچھ جمع کروادیا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے سے کیوں خائف ہیں عدالت کو بتایا گیا کہ 36 اضلاع میں سے 35ضلعوں کا ڈیٹا دے دیا ہے صرف ایک لاہور رہ گیا ہے ۔ فوکل پرسنز بھی مقرر کردیئے گئے ہیں لاہور میں کچھ معاملات باقی ہیں جو جلد بتلادیئے جائینیگ ۔

آرڈر جاری کیا گیا کہ عدالت حیران ہے کہ ابھی تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے ہیں ۔ اکرم شیخ نے بتایا کہ پنجاب نے چھ فروری 2015ء کو جو معلومات دیں تھیں ان میں چھ ضلعوں کے حوالے سے معلومات نہیں تھیں چیف سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن کمشن کی یہ معلومات صحیح نہیں ہیں اس حوالے سے فوکل پرسن نے سرٹیفکیٹ دے دیئے ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ لگتا ہے کہ ہمیں بھول بھلیوں میں ڈالا جارہا ہے تاکہ دس سال تک بلدیاتی انتخابات ہی نہ ہوسکیں ۔

سب سلسلہ تو چل میں چل پر ہی چلایا جارہا ہے آرڈ ر میں جسٹس جواد نے لکھوایا کہ سندھ حکومت نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے بل سندھ اسمبلی میں پیش کردیا ہے جس کو اسمبلی نے پاس کردیا ہے تاہم گورنر نے دستخط نہیں کئے ہیں جس کی وجہ سے یہ ابھی قانون نہیں بن سکا ہے ۔ ابھی قانون سازی نامکمل ہے سندھ لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ تمام تر تفصیلات الیکشن کمیشن کو ارسال کردی ہیں تاہم اکرم شیخ نے اس سے انکار کیا ہے ہمیں اس کا شدت سے احساس ہے کہ آئین پر عمل کرکے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ ریکارڈ سے اس حوالے سے کوئی خاص وجوہات بھی نہیں مل سکی ہیں کہ پانچ سال تاخیر کیوں کی گئی بلوچستان میں انتخابات مکمل ہوچکے ہیں کے پی کے حکومت بھی لگتا ہے کہ آئینی تقاضا مکمل کردے گی اور بلدیاتی انتخابات صوبے میں کرادے گی ۔

بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر آئینی طور پر بہت برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بہت سے مقدمات میں عدالت واضح کرچکی ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کی کتنی اہمیت ہے آئین پر عمل نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ضلعی اور تحصیل سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مسائل کا سامنا ہے یہ مسئلہ پنجاب ، سندھ اور کے پی کے کے لوگوں کو درپیش ہے عدالت سے مزید وقت مانگا گیا مگر عدالت شہریوں کی مشکلات پر آنکھیں بندھ نہیں کرسکتی کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی وجہ سے لوگوں کو کس طرح کی مشکلات درپیش ہیں اس لئے ہم مزید وقت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس کیس کو جمعہ کو سماعت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے صوبے اور الیکشن کمیشن واضح کریں کہ وہ آئینی تقاضا پورا کرنے کے لیے کب تک بلدیاتی انتخابات کرادینگے اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ جو احکامات عدالت نے جاری کئے ہیں اس پر کس قدر عمل کیا گیا ہے اور ان پر عمل نہ کرنے سے ذمہ داروں کیخلاف کیا کارروائی کی جاسکتی ہے مقامی حکومتوں کے نظام کو تاخیر کرنے میں کون ذمہ دار ہے ان کے بارے میں بھی تعین ہوگا مزید سماعت آج جمعہ کو ہوگی ۔

وقت اشاعت : 27/02/2015 - 09:14:06

اپنی رائے کا اظہار کریں