پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور ..
تازہ ترین : 1

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور تعیناتیوں کی وزارت اطلاعات سے تفصیلات طلب کرلیں،کمیٹی نے نئی گاڑیوں اور موبائل فونز کی خریداری پر ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز التواء میں ڈال دی،ریڈیو پاکستان کی کارکردگی2ماہ میں بہتر بنانے کی ہدایت، پی ٹی وی سالانہ 5 ارب روپے لائسنس فیس کی مد میں صارفین سے وصولنے کے باوجود 80کروڑ روپے خسارہ میں کیوں جا رہے ہیں، کمیٹی کا ایم ڈی پی ٹی وی سے استفسار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 26فروری۔2015ء) قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے بیرون ملک تعینات پریس انفارمیشن آفیسرز کے ڈومیسائل اور تعیناتیوں کی وزارت اطلاعات سے تفصیلات طلب کرلیں، کمیٹی نے نئی گاڑیوں اور موبائل فونز کی خریداری پر ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز التواء میں ڈال دی،ریڈیو پاکستان کی کارکردگی2ماہ میں بہتر بنانے کی ہدایت، پی ٹی وی سالانہ 5 ارب روپے لائسنس فیس کی مد میں صارفین سے وصولنے کے باوجود 80کروڑ روپے خسارہ میں کیوں جا رہے ہیں، کمیٹی کا ایم ڈی پی ٹی وی سے استفسار ۔

کمیٹی کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے مغل بادشاہ نور الدین جہانگیرکے مقبرہ کی مرمت کیلئے 96لاکھ کا ٹینڈر خلاف ضابطہ جاری کیا، جس پر پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر چوہدری اعظم نے موقف اختیار کیا کہ اشتہارات کا خرچہ بچانے کیلئے پہلے سے کام کرنے والے ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

پی اے سی کا ریڈیو پاکستان کو 2009 سے اب تک کے اکاؤنٹ تفصیلات پی اے سی کے سامنے پیش کرنے کا حکم ، ریڈیو پاکستان میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے وقت 4000روپے ریڈیو ٹیکس اور نئے موبائل خریدنے پر بھی ریڈیو ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی، یہ عمران گردیزی نے دی ہے۔ ڈی جی ریڈیو نے کمیٹی کو بتایا کہ پینشنز کی ادائیگیوں کیلئے رقم نہیں ہے، ہمیں پینشن کی ادائیگی کیلئے ہر سال ایک ارب روپے درکار ہوتے ہیں، پینشن ادا کرنے کیلئے وزارت خزانہ سے سات ارب روپے مانگے ہیں، ریڈیو پاکستان کو نجی شعبے کے اشتہارات سے چلانا ہو گا، نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور موبائل کی خریداریوں پر ریڈیو ٹیکس لگ جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ممبر کمیٹی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ سارا بلوچستان اور خیبرپختونخوا روزانہ فجر کی نماز کے بعد امریکہ ، روس، چائنہ اور بھارت کے ریڈیوز سے حالات حاضرہ سنتے ہیں مگر ریڈیو پاکستان ان کی طرح خبریں دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے، کیا وجہ ہے کہ ریڈیو پاکستان وائس آف امریکہ اور بی بی سی کے نقش قدم پر نہیں چل سکتا۔ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے ریڈیو کی کارکردگی بہتر بنا کر دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کمیٹی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ٹیلی ویژن ہر سال لائسنس فیس کے نام پر 5 ارب روپے بجلی بلوں کے ذریعے اور ایڈورٹائز کے نام پر ساڑھے تین ارب روپے کما رہا ہے پھر بھی اسے 80کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ٹی وی نے خلاف ضابطہ الاؤنسز دے کر 32لاکھ 40 ہزار روپے کا اعلان کیا ہے جس پر ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر با اختیار ہے یہ فیصلہ اس نے کیا ہے، کار مینٹیننس ایک ہزار سے چار ہزار روپے اور ہاؤس رینٹ 12800 سے 18800 کیا گیا تھا،کمیٹی نے آڈٹ اعتراض کو نمٹا دیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ٹی وی نے 91 لاکھ 76ہزار روپے کی اشیاء خریدی تھیں، جس پر ایم ڈی پی ٹی وی نے بتایا کہ 2002 میں پیپرا رولز اپنائے گئے تھے اب سارا کام پیپرا رولز کے مطابق ہو رہا ہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پیپرا رولز کو فالو نہ کرنا زیادتی ہے اس سے پنڈورا بکس کھل جائے گا تو مشکلات ہوں گی، کمیٹی نے اس آڈٹ اعتراض کو بھی نمٹا دیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی ٹی وی نے آزاد کشمیر میں 70لاکھ 28ہزار روپے نقصان کیا،جس پر حکام نے بتایا کہ ہنگامی حالت میں کام کرنا پڑا تھا،جس کے باعث مذکورہ کنڈیکٹر کو ٹھیکہ دیا گیا، کمیٹی نے آڈٹ پیرا نمٹا دیا۔

وقت اشاعت : 26/02/2015 - 08:50:22

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں