سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ، لارجر بینچ کے قیام کیلئے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کردیاگیا،سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی، اسلام آباد کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پرعدالت کا اظہار برہمی ، جواب تین روز میں داخل کرانے کا ،عدالت نے حامد خان کی جانب سے کیس جلد سماعت کے لیے لگانے کی استدعا مسترد کردیا، بینچ کا قیام چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے ہم انہیں جلد بینچ قائم کرکے مقدمہ کی سماعت کے لیے لگانے کا نہیں کہہ سکتے ،سپریم کورٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 25فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام اور اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کرتے ہوئے ان سے لارجر بینچ کے قیام کی استدعا کی ہے ۔ اسلام آباد کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پرعدالت کا اظہار برہمی ، جواب تین روز میں داخل کرانے کا حکم دیا ہے ۔

عدالت نے حامد خان کی جانب سے کیس جلد سماعت کے لیے لگانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینچ کا قیام چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے ہم انہیں جلد بینچ قائم کرکے مقدمہ کی سماعت کے لیے لگانے کا نہیں کہہ سکتے ۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کے پاس اٹھارہویں ترمیم کا معاملہ پہلے ہی زیر سماعت ہے اٹھارہویں ترمیم اور اکیسویں ترمیم کے مقدمہ میں ایک ہی طرح کے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا آئینی و قانونی جواب درکار ہے ۔

دونوں طرح کے معاملات کے حوالے سے تفصیل سے سماعت کے بعد ہی فیصلہ جاری کیا جائے گا تاہم یہ تین رکنی بینچ کسی بھی قسم کی ہدایات جاری نہیں کررہا معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کررہے ہیں کہ وہ اس پر لارجر بینچ تشکیل دیں جبکہ وفاقی حکومت سمیت چاروں صوبوں نے فوجی عدالتوں اور اکیسویں ترمیم کے حوالے سے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کرادیئے ہیں ۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منگل کے روز فوجی عدالتوں اور اکیسویں ترمیم کیخلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت دیگر درخواستوں کی سماعت کی اس دوران حامد خان ، عرفان قادر ، اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر درخواست گزاروں کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ۔ سپریم کورٹ بار صدر فضل حق عباسی ، چاروں ایڈووکیٹس جنرل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اس مقدمے میں دو پہلو ہیں ایک اٹھارہویں ترمیم اور دوسری یہ نئی درخواستیں ہیں دونوں درخواستیں الگ الگ سنی جانی تھیں مگر عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اس حوالے سے جواب بھی طلب کئے گئے تھے حامد خان نے بتایا کہ کے پی کے نے جواب داخل کرادیا ہے پنجاب حکومت نے بھی جواب داخل کرادیا ہے تاہم سندھ حکومت نے کہا کہ انہوں نے جواب داخل کرادیا ہے اور وہ کراچی رجسٹری میں داخل کرایا گیا ہے جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ آپ نے یہاں جواب کیوں داخل نہیں کرایا بلوچستان حکومت نے بھی جواب داخل کرادیا ہے ۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پہلے ہم اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے سماعت کرنی ہے اس کے بعد اکیسویں ترمیم کے حوالے سے بات ہوگی اٹارنی جنرل سمیت سب نے اکیسویں ترمیم کے حوالے سے جوابات داخل کرادیئے ہیں ہم یہ درخواستیں چیف جسٹس کو ارسال کررہے ہیں کہ وہ اس کے لیے فل کورٹ بینچ قائم کرسکیں یہ ان کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ اس کا کب بینچ قائم کرتے ہیں تین رکنی بینچ کسی کو ہدایات جاری نہیں کرسکتا عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سب نے جوابات داخل کرادیئے ہیں عدالت نے پوچھا کہ اسلام آباد کے علاقے سے کسی نے جواب داخل کرایا ہے بتایا گیا کہ جواب داخل نہیں کرایا گیا تین دن میں جواب داخل کرانے کا حکم عدالت نے برہمی کا بھی اظہار کیا کہ اسلام آباد کی جانب سے جواب کیوں داخل نہیں کرایا گیا کیس کے حوالے سے لارجربینچ قائم کرنے کے لیے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو ارسال کیا جاتا ہے اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کی جاتی ہے۔

وقت اشاعت : 25/02/2015 - 09:17:24

اپنی رائے کا اظہار کریں