ڈاکٹر شاہدکی موت حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی ،ڈاکٹربابراعوان،حکومت مسیحاوٴں ..
تازہ ترین : 1

ڈاکٹر شاہدکی موت حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی ،ڈاکٹربابراعوان،حکومت مسیحاوٴں کے بجائے اپنے اثاثے بچانے میں لگی ہے ،ڈاکٹروں کاملک چھوڑکرجانابہت بڑاالمیہ ہے ،نوازشریف کی سوچ تاجرانہ ہے ،احتساب کے اداروں کی زبان کوتالے لگے ہیں،نجی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 21فروری۔2015ء)سابق وفاقی وزیرڈاکٹربابراعوان نے کہاہے کہ ڈاکٹر شاہدکی موت حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی ،حکومت مسیحاوٴں کے بجائے اپنے اثاثے بچانے میں لگی ہے ،ڈاکٹروں کاملک چھوڑکرجانابہت بڑاالمیہ ہے ،نوازشریف کی سوچ تاجرانہ ہے ،احتساب کے اداروں کی زبان کوتالے لگے ہیں ۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے بابراعوان نے کہاکہ پمزکے ڈاکٹرشاہدنوازکی موت حکومت کی نااہلی اورغفلت کی وجہ سے ہوئی ،حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں توحالت جنگ میں ڈاکٹروں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،لیکن افسوس کہ ڈاکٹرشاہدکے لئے حکومت کے پاس ائیرایمبولینس تک بھی نہ تھی اوروہ نہ بچ سکے ۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرملک چھوڑکرجارہے ہیں جوکہ بہت بڑاالمیہ ہے ،لیکن حکومت کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ،حکومت قوم کوحالت جنگ میں چھوڑکرمیٹروبس منصوبہ ،اپنی فیکٹریاں اورمحل بچانے کے چکروں میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ پٹرول مہنگاہونے جارہاہے اس کے ساتھ مہنگائی بھی بڑھے گی ،حکومت نے پٹرول سستاہونے پرٹیکس بڑھایاتھااب ٹیکس اوربڑھے گا،پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعدمہنگائی میں کمی نہیں ہوئی ،لیکن جب قیمت بڑھے گی تومہنگائی بھی بڑھے گی ،کیونکہ مافیاپرحکومت کاکوئی کنٹرول نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی سوچ تاجروں کی ہے ،پٹرول سستاہونے کااعلان وہ جلسوں میں کرتے تھے ،آج مہنگاہونے کابھی اعلان کریں ،عالمی منڈی اورعالمی سطح پرقیمتوں کے تعین کامعیارہے ،لیکن یہاں نظام عالمی طرزکانہیں بلکہ شالمی طرزکاہے ۔انہوں نے کہاکہ احتساب اداروں نے کرناہوتاہے لیکن ہمارے احتساب کے ادارے خاموش ہیں ،احتساب کابڑادارہ پارلیمنٹ ہے ،جواس وقت خاموش ہے ،دوسرادارہ ایف آئی ہے جوحکومت کے کنٹرول میں ہے ۔

اورتیسراادارہ عدلیہ ہے جواپنے آپ کوغیرسیاسی کررہی ہے ،ہمارے اداروں کی زبان پرتالے لگے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری ایلیٹ فورس کے 90فیصداہلکارسیاسی لیڈروں کے گھروں پرفرائض سرانجام دے رہے ہیں ،پولیس کی گاڑیاں وی آئی پی پروٹوکول پراستعمال ہورہی ہیں توعام لوگوں ،سکولوں ،مدرسوں اورپبلک مقامات پرسیکورٹی کہاں ہوگی

وقت اشاعت : 21/02/2015 - 09:16:01

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں