افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں،پاکستان کی ..

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں،پاکستان کی پیشکش ،افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے،پڑوسی ملک کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں،بھارتی سیکرٹری خارجہ کی دورہ پاکستان کے حوالے سے حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ،بھارت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام ایشو پر بات ہوگی ،ٹریک ٹو کوششیں براہ راست مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں،بھارت کی طرف سے کشتی کا ڈرامہ رچایا گیا جو اپنے انجام تک پہنچ رہا ہے، پاکستان میں سزائے موت ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے ،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 21فروری۔2015ء)پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے حامی بھر لی ،پاکستان نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سہولت کار بننے کے لئے تیار ہیں،افغانستان میں امن پاکستان اورپورے خطے کے مفاد میں ہے ،بھارتی سکرٹری خارجہ کی دورہ پاکستان کے حوالے سے حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ،بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو کوششیں براہ راست مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ،بھارت کی طرف سے کشتی کا ڈرامہ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے ،پاکستان میں سزائے موت ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے ۔

ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سہولت کار بننے کے لئے تیار ہیں ،افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے ،افغانستان میں مستقل امن کے خواہاں ہے اور پڑوسی ملک سے تعلقات میں مزید بہتری چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کو دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہیں گے ،بھارتی سیکرٹری خارجہ کے پاکستان دورے کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی اور نہ ہی مذاکرات کی تاریخ طے ہوئی ہے ،پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے نہیں کتراتا، پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے۔

، بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات میں کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کی طرف سے رچایا جانے والا دہشت گردی کشتی کا ڈرامہ منظر عام پر آگیا ہے اور اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پاکستانی پانیوں میں کوئی کشتی غائب نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہپاک بھارت مذاکرات میں ٹریک ٹو کوششیں جاری رہتی ہیں ، ٹریک ٹوکوششیں براہ راست مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ،تسنیم اسلم نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات پاکستان کے شیئر نہیں کی ہیں۔

8 سال بعد بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ سانحہ کی تحقیقات کر کے ملزموں کو سزا دی جائے ۔ایک اور سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ سزائے موت ملکی قوانین کے مطابق ہے ، پاکستان سزائے موت پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کررہا ہے ۔

وقت اشاعت : 21/02/2015 - 08:52:38

اپنی رائے کا اظہار کریں