دہشت گردوں کی حمایت کے الزام پر کشیدگی،قطرنے مصر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا
تازہ ترین : 1

دہشت گردوں کی حمایت کے الزام پر کشیدگی،قطرنے مصر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

دوحہ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 20فروری۔2015ء)قطر نے لیبیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد مصر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔لیبیا کی وزراتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسا عرب لیگ کے اجلاس کے دوران مصر کے وفد کی جانب سے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزام کے بعد کیا گیا ہے۔قطر نے مصر کی جانب سے عرب لیگ کے ایک دوسرے رکن ملک پر فوجی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور شہری ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

حالیہ برسوں میں دوحا اور قاہرہ کے باہمی تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔قطر کی حکومت مصر کے سابق صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلیمین کی حامی تھی۔ مرسی کو سنہ 2013 میں فوج نے معزول کر دیا تھا۔قطر کا ٹیلی وڑن چینل الجزیرہ اس کشیدگی کی بڑی وجہ ہے۔مصری حکام کا الزام ہے کہ وہ محمد مرسی کے حامیوں کی زبان بولتا ہے اور اس کے صحافیوں کے خلاف مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔

مصر کی فضائی فوج نے 21 مصری قبطی عیسائیوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے کے بعد پیر کو لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔قاہرہ میں ایک اجلاس کے بعد عرب لیگ کے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ لیگ مصر کی جانب سے حملوں کے جواز کو سمجھتی ہے اور مصر کی جانب سے لیبیا کی فوج کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہتھیاروں کی سپلائی پر عائد رکاوٹ ختم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔

تاہم قطر کی جانب سے اس بیان پر تحفظات کے اظہار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔عرب لیگ میں مصر کے مستقل نمائندے طارق عدیل نے مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قطر کی جانب سے تحفظات کے اظہار سے دہشت گردی کے لیے قطر کی حمایت صاف ظاہر ہوتی ہے۔‘دوسری جانب قطر کے سرکاری ادارے کیو این اے پر شائع بیان میں قطر کے وزارتِ خارجہ کے اہلکار سعد بن علی المھندی نے مصری نمائندے کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ’سچائی، دانشمندی اور عرب لیگ کے اقدامات کے خلاف ہے۔

‘ان کا کہنا تھا کہ ’عرب لیگ میں ریاست کے نمائندے نے صرف یہ نشاندہی کی تھی کہ مصر کو ایک دوسرے رکن ملک میں فوجی کارروائی سے قبل قطر سے بھی مشورہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں شہریوں کی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔‘

وقت اشاعت : 20/02/2015 - 09:11:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں