نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی ..
تازہ ترین : 1

نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے،قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے بجلی پانی کا نیلم جہلم منصوبے میں حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے تاخیر اور لاگت میں کئی گنا اضافے کے علاوہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگل بڈ پر ٹھیکہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار ،گولن گول منصوبے کی لاٹ ایک دو تین کا ٹھیکہ کم ترین بولی دینے والے ٹھیکہ دار کو دینے کی بجائے دباوٴ کے ذریعے بھگادیا گیا جو سرا سر ظلم اور زیادتی ہے، سینیٹر نثار محمد،کمیٹی کے اجلاس میں گولن گول منصوبے کے ایم ڈی کی وضاحت سننے سے انکار، چیئر مین کمیٹی سینیٹر زاہدخان کا سخت برہمی کا اظہار ،پیپکو ، ہیپکو، میپکو، ہیسکو میں قواعد کے خلاف بھرتیوں اور ترقیوں کی تفصیلات کیلئے دو رکنی کمیٹی قائم ، واپڈا اور ڈیسکوز کے معاملات کیلئے ذیلی کمیٹی کا اجلاس 27مارچ اور قائمہ کمیٹی کا اجلاس 26مارچ کو دوبارہ طلب کر لیاگیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 20فروری۔2015ء) قائمہ کمیٹی سینیٹ برائے بجلی پانی کے اجلاس میں نیلم جہلم منصوبے میں حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے تاخیر اور لاگت میں کئی گنا اضافے کے علاوہ گولن گول منصوبے کی پانچ لاٹوں میں سے لاٹ نمبر ایک دو اور تین کی پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگل بڈ پر ٹھیکہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ نیلم ،جہلم پروجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔

کمیٹی کے اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے کنوینیر سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ گولن گول منصوبے کی لاٹ ایک دو تین کا ٹھیکہ کم ترین بولی دینے والے ٹھیکہ دار کو دینے کیبجائے دباوٴ کے ذریعے بھگادیا گیا جو سرا سر ظلم اور زیادتی ہے ۔کمیٹی کے اجلاس میں گولن گول منصوبے کے ایم ڈی کی وضاحت سننے سے انکار کر دیا گیا۔ چیئر مین کمیٹی سینیٹر زاہدخان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے ذریعے سستی بجلی پید ا کرنے کے منصوبوں پر حکومت وزارت پانی و بجلی اور وزارت کے متعلقہ ادارے توجہ نہیں دے رہے حالانکہ بجلی سے زیادہ ملک اور قوم کو پانی کی اشد ضرورت ہے ۔

چترال جیسے پر امن ترین علاقے میں امن و امان کا بہانہ بنا کر ادارے سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ سرکاری ملازم ریاستی ملازم کا کردار ادا کریں نہ کہ کسی کے ذاتی ملازم کا اگر سستی بجلی پید ا کرنے کے منصوبو ں پر قومی جذبے سے توجہ دی جاتی تو لاگت میں کئی گنا اضافہ نہ ہوتا ۔ ایم ڈی نندی پور محمود احمد نے آگاہ کیا کہ چار سو پچیس میگاواٹ منصوبے کی چار ٹربائنوں میں سے تین کا کمیشن ہو گیا ہے 95ملین کلو واٹ فی گھنٹہ سسٹم کو فراہم کی جائیگی اور موجودہ پیداور 3سو میگا واٹ یونٹ ہے ۔

23بلین کا بنیادی منصوبہ اب 58.6بلین میں مکمل ہو گا اور فی یونٹ پیداواری لاگت 18روپے ہو گی ۔ جس پر کمیٹی کے اراکین محسن لغاری نثار محمدنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 2008کا منصوبہ جلد مکمل ہونے کی امید نہیں ۔ایم ڈی نندی پور محمود احمد نے انکشاف کیا کہ اچانک سرکاری فون پر تین دنوں میں پالیسی بنانے کا حکم دیا گیا جس پر عمل کرنے کے پابند تھے ۔

چیئر مین کمیٹی اور ممبران نے کہا کہ ملازم کسی ذات کی بجائے ریاست کے ملازم کا کردار ادا کریں ۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبہ 30جون 2015تک مکمل کر لیا جائیگا۔ جس پر کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اگر منصوبہ دی گئی تاریخ پر مکمل نہ کیا جائے تو معاملہ نیب کو بھجوایا جائے ۔سینیٹر نثار محمد نے منصوبے کی لاگت اور اس کے قابل عمل ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور پیپرا رولز کی خلاف ورزی پر منصوبے کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی تجویز دی ۔

کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے ایم ڈی کول انرجی شاہ جہان نے آگاہ کیا کہ گڈانی میں جیٹی کی وجہ سے مسائل تھے حکومت کا بنیادی مقصد سستی بجلی پیدا کرنا ہے جسکے لئے برون ملک سے بھی درآمد کیا جائیگا۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں صرف چین سرمایہ کاری کریگا۔ دوسرے ممالک میں ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے سرمایہ کاری پر پابندی لگا رکھی ہے ۔

سینیٹر محسن لغاری نے پنجاب میں ساہی وال ، مظفر گڑھ ، رحیم یار خان کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ منصوبوں تک کوئلہ اور مشینری پہنچانے کیلئے انفراسٹکچر موجود نہیں حکومت کو ریلوے کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے زائد اخراجات کرنے پڑیں گے ۔حکومت جہاں سے کوئلہ نکلے ان علاقوں میں بجلی کے منصوبے لگائے جائیں ۔

چیئر مین واپڈا ظفر محمود نے کہا کہ سندھ میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے تھر علاقے میں بلاک ون اور بلاک دو سے 660اور 1320میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی ۔ پاک چین سرمایہ کاری سے سالٹ رینج کے علاقے میں 3سو میگا واٹ بجلی پید ا کرنے کا منصوبہ ہے۔ نیلم جہلم پروجیکٹ کے حوالے سے چیئر مین واپڈا ظفر محمود نے آگاہ کیا کہ منصوبے کیلئے اب بھی 475ملین ڈالر کی ضرورت ہے ۔

منصوبہ 2016تک یا اس سے پہلے مکمل کر لیا جائیگا۔ تاخیر کی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی تھی ۔ وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات میں تمام فنڈز جاری ہونے کی یقین دہانی کر ا دی گئی ہے ۔چیئر مین واپڈا کی نیلم جہلم منصوبے کی بریفنگ کے دوران ۔نیلم جہلم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو چیئر مین واپڈا اور چیئر مین کمیٹی دونوں نے سرزنش کرتے ہوئے بولنے سے روک دیا ۔

چیئر مین واپڈا نے کہا کہ وزیر اعظم بجلی بحران کے خاتمے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کروا رہے ہیں اور آگاہ کیا کہ بجلی صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصولی کے خلاف عدالت نے حکم امتناہی جاری کر دیا ہے ۔ ایگزین بنک 300ملین اور کویت فنڈ 30ملین ڈالر دینے پر رضا مند ہیں ۔ ایم ڈی نیلم جہلم نے آگاہ کیا کہ منصوبے کا مجموعی کام ستر فیصد مکمل ہو چکا ہے اگر رقم ملتی رہی تو نومبر 2016میں مکمل کر لیا جائیگا۔

کمیٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چھ سالوں میں اب تک ستر فیصد کام مکمل ہوا ہے ۔ ڈر ہے کہ پانچ سال مذید لگ جائیں گے ۔ چیئر مین واپڈا نے کہا کہ نیلم جہلم کے ساتھ ساتھ تربیلا پر بھی تیزی سے کام جاری ہے داسو ڈیم کیلئے پانچ سو اٹھاسی ملین ڈالر جلد ادا کر دیے جائیں گے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں نیلم جہلم پروجیکٹ کے لئے 26مہنگی ترین گاڑیاں خریدنے اور گولن گول جیسے اہم منصوبے کیلئے سرکاری گاڑی نہ خریدنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

سینیٹر نثا ر محمد نے کہا کہ پیپرا رولز کی خلا ف ورزی پر کوئی سمجھو تہ ممکن نہیں ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروئی کی جانی چاہیے ۔ چیئر مین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ غلط طور پر ٹھیکیدار کو ادا کی گئی رقم بمع سود قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے ۔ سیکریٹری وزارت محمد یونس ڈھاگہ نے وضاحت کی کہ سنگل پارٹی بولی نیپرا رولز کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ، گولن گول منصوبہ کے ٹھیکے کو منسوخ کرنے سے قبل وزارت قانون سے رائے لے لینی چاہیے ورنہ مسائل پیدا ہونگے ۔

ٹھیکیدار عدالت بھی جا سکتا ہے ۔ سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ منصوبے کی تاخیر کو دیکھ کر قانون کی خلاف ورزی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ۔کم ریٹ ٹھیکیدار کو بھگانے والوں کے خلاف کاروائی ضروری ہے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر کے مقابلے میں مالا کنڈ ڈویژن سے 97فیصد وصولیوں کے باوجود علاقے میں 14سے اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

چیئر مین واپڈا نے وضاحت کی کہ ڈسٹری بیوشن نظام پرانہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں واپڈا فاونڈیشن سے ٹرانسفارمرز کی مرمتی بھی جلدی نہیں ہوتی ۔ورکشاپس کو اپ گریڈ کرنے کیلئے کوشاں ہیں ۔ اجلاس میں پیپکو ، ہیپکو، میپکو، ہیسکو میں قواعد کے خلاف بھرتیوں اور ترقیوں کی تفصیلات کیلئے سینیٹر نثار محمد اور خالدہ پروین پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ۔ واپڈا اور ڈیسکوز کے معاملات کیلئے ذیلی کمیٹی کا اجلاس 27مارچ اور قائمہ کمیٹی کا اجلاس 26مارچ کو دوبارہ طلب کر لیاگیا۔

وقت اشاعت : 20/02/2015 - 09:04:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں