ترک وزیراعظم کا اسلام آباد میں مصروف دن، پاکستان، ترکی معاہدوں کی تقریبات ، سیاسی ..
تازہ ترین : 1
ترک وزیراعظم کا اسلام آباد میں مصروف دن، پاکستان، ترکی معاہدوں کی تقریبات ..

ترک وزیراعظم کا اسلام آباد میں مصروف دن، پاکستان، ترکی معاہدوں کی تقریبات ، سیاسی و عسکری حکام سے ملاقاتیں، پاکستان اور ترکی کا تجارت‘ معیشت‘ زراعت‘ توانائی‘ دہشت گردی کے خلاف اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار،ہر مشکل گھڑی میں ترکی پاکستان کے ساتھ ہے‘ پاکستان کا ہر مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے‘ آئندہ دو سالوں میں باہمی تجارت اور 3 ارب ڈالر تک لے جائیں گے‘ ترک وزیراعظم کا اعلان، بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا، نواز شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 18فروری۔2015ء) پاکستان اور ترکی نے تجارت‘ معیشت‘ زراعت‘ توانائی‘ دہشت گردی کے خلاف اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے کہا ہے کہ ہر مشکل گھڑی میں ترکی پاکستان کے ساتھ ہے‘ پاکستان کا ہر مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے‘ آئندہ دو سالوں میں باہمی تجارت اور 3 ارب ڈالر تک لے جائیں گے‘ حکومت پاکستان کی طرف سے بھارت سے تعلقات کی بہتری اور علاقے میں امن کے لئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہیں‘ پیرس میں حملے پر اگر عالمی برادری مشترکہ مارچ کرتی ہے تو پاکستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور مسجدوں کو جلائے جانے پر بھی یکجہتی کا مظاہرہ ہونا چاہئے جبکہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امن میں ترکی کا احسن کردار ہے۔

بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا۔ وہ منگل کو یہاں سٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس اور مختلف شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مجھے ترکی کے وزیراعظم اور ان کے وفد کا خیرمقدم کر کے خوشی ہوئی ہے پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے ہمارے درمیان منفرد تعلقات ہیں اور باہمی اعتماد میں گہرائی ہے ترکی نے پشاور میں ہونے والے سانحہ پر پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور ہم ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں۔

دونوں ملکوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ ترکی کا اقتصادی ترقی اور علاقائی و عالمی امن میں اہم کردار ہے ہم نے سٹریٹجک تعاون کونسل کے چوتھے اجلاس میں باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور مالیات معیشت‘ توانائی‘ تعلیم ‘ سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اس عزم کو دہراتے ہیں کہ اپنے خصوصی تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنر شپ میں تبدیل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارتی سمجھوتے سے اس جانب پیش رفت ہو گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان دہشتگردی کے خلاف تعاون مضبوط ہو گا اور اج ہونے والے سمجھوتوں سے بھی اس تعاون کو فروغ ملے گا۔ ہمارے درمیان ہمیشہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ دونوں ملک اپنے علاقوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں انہیں مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ مواقع بھی دستیاب ہیں۔

میں نے ترک وزیراعظم کو اپنی امن کی خواہش اور ترقی کے لئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ پاکستان بھارت سے اچھے ہمسائیگی تعلقات اور تمام تنازعات کا حل چاہتا ہے توقع ہے کہ بھارت بھی تعمیری رویے کا مظاہرہ کرے گا تاکہ خطے میں سٹریٹجک استحکام قائم کیا جا سکے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا ہے۔

انہوں نے نبی پاک کے خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام اور نبی پاک کی توہین ہر گز قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان خطے میں امن استحکام اور باہمی علاقائی و عالمی سطح پر تعاون کے فروغ کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ میں وزیراعظم کی حیثیت سے پہلی مرتبہ پاکستان آیا ہوں لیکن وزیرخارجہ اور دیگر حیثیتوں میں کئی مرتبہ آ چکا ہوں۔

مجھے یہاں آنے پر خوشی ہوئی ہے ہم نے مشترکہ کونسل کے اجلاس کی صدارت کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں سے قریبی مذہبی و ثقافتی تعلقات ہیں اور ہم پاکستانی عوام کی یکجہتی کو نہیں بھلا سکتے۔ پاکستان کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہمارا مسئلہ پاکستان کا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے عارضی بے گھر افراد اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لئے اضافی 2 کروڑ ڈالرز دینگے۔

کسی قسم کی ضرورت ہو ہم ساتھ ہیں۔ سٹریٹجک تعاون کونسل میں دوطرفہ اور عالمی امور کا جائزہ لیا اور اہم فیصلے کئے۔ آنے والے مہینوں میں مزید سمجھوتے ہونگے ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ 2 سالوں کے دوران تجارتی حجم کو 3 ارب ڈالرز اور اس کے بعد 5 سے 10 ارب ڈالرز تک لے جائیں۔ آزادانہ تجارت کے سمجھوتے سے مزید مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی فاصلوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مواصلاتی رابطے کم ہیں۔

بحری‘ فضائی اور ریل رابطوں کو بڑھانے کے لئے سمجھوتے کریں گے کیونکہ تجارت بڑھانے کے لئے مواصلاتی رابطے ناگزیر ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے بھی حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کی تعداد 51 ہو چکی ہے اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون مزید مضبوط ہو گا۔ ہم مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان اور ترکی میں بھی امن قائم ہو گا۔

افغانستان میں نئی حکومت آنے کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان شاندار تعاون ہے اور اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔ ترک وزیراعظم نے بھارت سے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور علاقے میں امن کے لئے پاکستان کے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لئے کوششوں اور درپیش چیلنجوں میں ساتھ دیتے رہیں گے۔ دہشت گردی اور دیگر امور پر ہمارا موقف یکساں ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر دہشت گردی کے خلاف مارچ ہوتا ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں تو پاکستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور مسجدوں کو جلانے کے واقعات پر بھی یکجہتی کا اظہار ہونا چاہئے۔ اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں ہم دونوں جمہوری ملک ہیں اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرا دورہ مختصر ہے مگر وعدہ کرتا ہوں کہ جلد طویل دورے پر آؤں گا۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان 11 معاہدوں کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔منگل کے روز پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹرٹیجک تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد 11 معاہدوں کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ،معاہدوں میں تعلیم ،تجارت ،مواصلات،انرجی ،سائنس و ٹیکنالوجی ،تیل و گیس کی پیداوار،ریلوے، ٹرانسپورٹ ،سڑکیں،بینکنگ اورعلاقائی تعاون سمیت دیگر شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔

اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور ترک وزیر اعظم احمد داؤ اوگلو بھی موجود تھے ۔تقریب کے آخر میں دونوں ممالک کے سربراہان نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اور مصافحہ کیا۔ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤ اوگلو وزیر ہاؤس پہنچنے پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پرتپاک استقبال کیا ،منگل کے روز ترک وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر پہنچے ،ترک وزیر اعظم جب وزیر اعظم ہاؤس پہنچے تو وزیر اعظم نواز شریف نے ترک ہم منصب اور ان کی کابینہ کا پرتپاک استقبال کیا اور فرداً فرداً مصافحہ کیا ۔

اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے ،بعد ازاں ترک وزیر اعظم کو پاک فوج کے چاق وچوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا ،اس موقع پر ترک وزیر اعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔جس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اور ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی ۔ملاقات میں دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات ،تجارتی اور اقتصادی تعاون ،خطے کی صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں پاکستان اور ترکی کے درمیان چوتھے سٹرٹیجک تعاون کونسل کے اجلاس ہوا ،اجلاس کی صدارت وزیر اعظم نوازشریف اور ترک وزیر اعظم نے مشترکہ طور پر کی۔صدرمملکت ممنون حسین نے ترک وزیراعظم احمدداوٴداو گلوکونشان پاکستان ایوارڈسے نوازا،دونوں رہنماوٴں کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔ترک وزیراعظم نے منگل کی شب ایوان صدرمیں صدرممنون حسین سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماوٴں کے درمیان پاکستان اورترکی کے تعلقات اورباہمی دلچسپی کے امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔

ملاقات کے بعدایوان میں ترک وزیراعظم کواعلیٰ ترین سول ایوارڈدینے کی تقریب منعقدہوئی ،جس میں ممنون حسین نے احمدداوٴداوگلوکواعلیٰ ترین سول ایوارڈنشان پاکستان عطاء کیا،ترک وزیراعظم کوسول ایوارڈپاک ترک تعلقات میں نمایاں کرداراداکرنے پردیاگیاپاکستان اور ترکی نے دہشتگردی ،انتہاء پسندی کے خاتمے کے عزم کااعادہ کیاہے جبکہ دونوں ملک دہشتگردی ،انتہاء پسندی ،منظم جرائم کے خاتمے ،انسدادمنشیات ،پولیس کی تربیت ،دفاع ،فنانس بینکنگ ،کیپٹل مارکیٹ کے فروغ اورمنی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے ایک دوسرے سے تعاون بڑھائیں گے۔

یہ بات ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد او غلو کے دورہ پاکستان کے موقع پر دوطرفہ مذاکرات اور معاہدوں پر دستخظوں کے بعد جار ہونیوالے پاک ترک مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ہے۔اعلامیہ کے مطابق توانائی کے شعبے میں تیل ،قدرتی گیس،کوئلے ،پانی اوردیگرذرائع سے بجلی کی پیداواربڑھانے کے لئے تعاون کیاجائیگا۔مشترکہ اعلامیے میں کہاگیاکہ دونوں ممالک کے جوائنٹ روڈٹرانسپورٹ کمیشن کااجلاس رواں سال ہوگا،جس میں دوطرفہ روڈٹرانسپورٹ معاہدے کے طریقہ کارکوحتمی شکل دی جائے گی ،ایکوکنٹینرٹرین چلانے کیلئے کوششیں تیزکی جائیں گی اوردونوں ممالک کے ریلوے کے درمیان تعاون کے مواقع کابھی جائزہ لیاجائیگا۔

دونوں ممالک نے اتفاق کیاکہ سمندری راستے سے تجارت کوفروغ دیاجائے ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپوسٹل سروسزکے شعبوں میں تعاون بڑھایاجائے ،اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان اساتذہ اورطلبہ کے وفودکے تبادلے بھی ہوں گے۔دونوں ممالک نے اتفاق کیاکہ خوراک اورغذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون کوموٴثرحدتک بڑھایاجائے گا،اعلیٰ سطحی تزوارتی تعاون کونسل کاآئندہ اجلاس 2016ء میں انقرہ میں ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے منگل کے روز اسلام آبادمیں ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو سے ملاقات کی -ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور پاک ترک تعلقات کومزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا-وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے تہذیبی ، ثقافتی ، تاریخی او ربرادرانہ تعلقات قائم ہیں-پاکستان اور ترکی کی باہمی دوستی سود مند معاشی تعلقات میں بدل رہی ہے-پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی روایات کے حامل دوستانہ تعلقات نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں-انہوں نے کہاکہ ترکی پاکستان کا مخلص دوست ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہاہے-سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت ترک حکومت اورعوام نے ہمیشہ اپنے پاکستانیوں بھائیوں کا بھر پور ساتھ دیاہے- متعدد ترک کمپنیاں پنجاب حکومت کے سا تھ مل کر مختلف شعبوں میں کام کررہی ہیں-صوبائی دارالحکومت میں میٹروبس کا شاندار منصوبہ پاک ترک دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے - پاکستان مسلم لیگ( ن) کی قیادت ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتی ہے- انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان اور ترکی کے مابین معاشی ،تجارتی اور سماجی شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں- ترکی کی موجودہ قیادت اور حکومت کے دوران ترکی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہواہے-ترکی دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بن چکا ہے اور ترکی کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے-انہوں نے کہاکہ پاکستان او ر ترقی کے عوام بھائی چارے ،محبت اور دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہیں- ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دونوں ممالک کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے- وزیراعظم ترکی کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے-پاکستانی عوام زلزلے اور سیلاب کے دوران اپنے ترک بھائیوں کی محبت اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے-انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ طیب اردگان ہسپتال ترک عوا م او رحکومت کا پاکستانیوں کے لئے شاندار تحفہ ہے-ترک وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ترکی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتاہے -پاک ترک دوستی کے فروغ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کا کردار لائق تحسین ہے - ترکی او رپاکستان ترقی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلیں گے ۔

قبل ازیں ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلونے کہا ہے کہ ہم پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہیں پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی اور اس کا جھنڈا ترکی کا جھنڈا ہے اس یکجہتی کے جذبات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں کیا ۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نیٹویٹ میں بتایا کہ ملاقات میں انتہائی کھلے ماحول میں دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا ترکی کے کے وزیراعظم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا ۔

وقت اشاعت : 18/02/2015 - 09:15:13

اپنی رائے کا اظہار کریں