بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث میری ٹائم ..
تازہ ترین : 1
بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث ..

بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث میری ٹائم سیکیورٹی پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے، جنرل راشد محمود ،عالمی برادری کو لاحق خطرات اور چیلنجز جیسے بحری قذاقی اور دہشت گردی، قدرتی وسائل کا غیر قانونی استعمال، سمندری آلودگی، غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے غیر تسلی بخش تیاری چند انتہائی اہم معاملات ہیں ،اس نوعیت کے بین الاقوامی اجلاسوں میں مفصل غور وخوص کی ضرورت ہے،چھٹی بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 17فروری۔2015ء) تبدیل ہوتے ہوئے عالمی منظر نامے اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث میری ٹائم سیکیورٹی پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ عالمی برادری کو لاحق خطرات اور چیلنجز جیسے بحری قذاقی اور دہشت گردی، قدرتی وسائل کا غیر قانونی استعمال، سمندری آلودگی، غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے غیر تسلی بخش تیاری چند انتہائی اہم معاملات ہیں جن پراس نوعیت کے بین الاقوامی اجلاسوں میں مفصل غور وخوص کی ضرورت ہے‘۔

یہ بات چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے چھٹی بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاء اللہ اور نیشنل سینٹر فار میری ٹائم پالیسی ریسرچ (NCMPR) کے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) آصف ہمایوں بھی اس موقع پر موجود تھے۔ بحری معیشت ، ماحولیات اور سیکیورٹی تعاون ۔

مغربی بحرالکاہل اور بحر ہند کو قریب لانا ‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی تین روزہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ۔ کانفرنس کا انعقاد نیشنل سینٹر فار میری ٹائم پالیسی ریسرچ(NCMPR) نے پاک بحریہ کے اشتراک سے کیا تھا ۔ کانفرنس کے دوران میری ٹائم سیکیورٹی، معیشت اور ماحولیات کے ماہرین نے مختلف بحری موضوعات پر مقالے پیش کیے۔ آٹھ ممالک سے آئے ہوئے 17مقررین نے کانفرنس میں شرکت کی اور بحر ہند اور بحر الکاہل کے بحری خطوں کو قریب تر لانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

کانفرنس سے پاکستان اور دنیا بھر سے شرکت کرنے والے ماہرین کو باہم گفت و شنید کا ایک بہترین موقع ملا۔ اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ بحر ہند ۔ بحرالکاہل کے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے سے متعلق چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس کا اہم سبب خطے کے سیاسی و سماجی حالات اور معاشی امکانات ہیں۔ اس منظر نامے میں بحری خطرات اور کمزوریوں میں کمی لانے کے لیے مربوط کوششیں درکار ہیں۔

لہذا خطے کے ساحلی ممالک کو مقابلے کی بجائے تعاون کے جذبے کے ساتھ مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضر ورت ہے۔ بالخصوص فوجی قوت میں اضافہ ، بحری افواج کی تعیناتی اور وسائل کا استعمال علاقائی تناؤ میں اضافے کا سبب نہ بنے ۔ مہمان خصوصی نے مزید کہا کہ اس طرز کی کانفرنسز اور دیگر فورمز جیسے انڈین اوشن نیول سمپوزیم (IONS) اور ویسٹرن پیسفک نیول سمپوزیم (WPNS) خطے کے ممالک کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور کئی متنازعہ مسائل پر غور کرنے ، اقوام کو قریب کرنے اور باہمی تناؤ میں کمی لانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں ۔

بعد ازیں مہمان خصوصی نے ان طلبا میں انعامات بھی تقسیم کیے جنہوں نے کانفرنس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والے مضمون نویسی اور پوسٹر کے مقابلے میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ذکا ء اللہ اور NCMPRکے ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) آصف ہمایوں نے طلبا کی تخلیقی صلاحیت اور محنت کی تعریف کی۔NCMPRاپنے قیا م سے لے کر اب تک چھ بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنسز کی میزبانی کر چکا ہے۔

بحری معاملات میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس ادارے میں میری ٹائم پالیسی ریسرچ اور مختلف مضامین کے مطالعے کے لیے ’تھنک ٹینک‘ اوربحری امور کے جائزے کے لے ایک خصوصی نشست بھی قائم ہے۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مقررین ، مندوبین، دانشوروں، بحری امور کے ماہرین اور مشاہدین کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ نیول افسران نے بھی شرکت کی۔

وقت اشاعت : 17/02/2015 - 09:14:24

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں