منظوری کے بغیر نئے ٹیکسز کا نفاذ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے،خورشید ..
تازہ ترین : 1

منظوری کے بغیر نئے ٹیکسز کا نفاذ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے،خورشید شاہ ،ا سکے جمہوریت پر منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں،عمران خان بیوقوف آدمی ہیں، اسے حالات کا بالکل اندازہ نہیں ہے حکومت سندھ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے کتنی کوششیں کررہی ہے،اوباما کا پاکستان نہ آ ناحکومت کی سفارتی سطح پر ناکامی ہے،پریس کانفرنس سے خطاب

رحیم یارخان (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 16فروری۔2015ء) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشیداحمد شاہ نے کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ نے نوازحکومت کو بچایا تھامگر اب نوازحکومت اسحاق ڈار کے ذریعے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نئے ٹیکسز کا نفاذ کررہی ہے جو پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے جس کے جمہوریت پر منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کے ڈویژنل کوارڈینیٹر چوہدری جاوید اقبال وڑائچ کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت بارے پارٹی نے انہیں ابھی تک آگاہ نہیں کیالیکن ایم کیو ایم کا نا حکومت میں شامل ہونے کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی حکومت سے جانے کا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ سینیٹ کیلئے جن لوگوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں انکی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے منظوری لینے یا نہ لینے بارے بھی وہ لاعلم ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کی عوام کی محرومیاں دورکرنے کیلئے دو نئے صوبے ملتان اور بہاولپور بنانے کے حق میں ہے اور پنجاب اسمبلی میں جب بھی انہیں دوتہائی اکثریت ملی وہ یہ نئے صوبے ضرور بنائیگی۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے جنوبی پنجاب سے کسی کو بھی سینیٹ کا ٹکٹ نہ دیئے جانے بارے انہوں نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے اسے ن لیگ کے جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے 120ایم پی ایز کی حق تلفی قرار دیتے ہوئے اسے جنوبی پنجاب کے عوام کی بھی حق تلفی قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان نے سانحہ شکار کو حکومت سندھ کی ناکامی قرار دیاعمران خان بیوقوف آدمی ہیں اور اسے حالات کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ حکومت سندھ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے کتنی کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے ذریعے فوجی عدالتوں کا قیام بھی جمہوریت کی فتح قرار دیااور بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ آمریت کی بجائے جمہوریت کے ذریعے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے امریکہ صدر اوباما کے بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان نہ آنے کو بھی حکومت کی سفارتی سطح پر ناکامی قرار دیتے ہوئے کہاکہ دو بابے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی وزارت خارجہ چلا رہے ہیں جو انکے بس کی بات نہیں ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر جاوید اکبر ڈھلوں ‘سیکرٹری جنرل رئیس دین محمد ورند ‘جام شمس الدین‘چوہدری یعقوب سندھو اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ قبل ازیں چک 100/pمیں ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے 63اجتماعی شادیو ں کے پروگرام میں بھی سید خورشید علی شاہ نے شرکت کی اور اس نیک کاوش کو سراہتے ہوئے انہوں نے دیگر مخیر حضرات سے بھی فلاحے عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر دلچسپی لینے کی اپیل کی۔

وقت اشاعت : 16/02/2015 - 08:59:42

اپنی رائے کا اظہار کریں