حکومت ملک سے توانائی کے بحران کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے ،وزیر خزانہ اسحاق ..
تازہ ترین : 1

حکومت ملک سے توانائی کے بحران کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فنڈز کے استعمال کے حوالہ سے مکمل بریفنگ قابل تعریف ہے ،امید ہے مستقبل میں سلسلہ برقرار رہے گا ، اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 16فروری۔2015ء)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت ملک سے توانائی کے بحران کے حل کو اولین ترجیح دے رہی ہے ،اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فنڈز کے استعمال کے حوالہ سے مکمل بریفنگ قابل تعریف ہے ،امید ہے مستقبل میں سلسلہ برقرار رہے گا۔ وہ اتوار کو یہاں ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ کو سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سلمان سیٹھی کی جانب سے توانائی بحران کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ملک سے بجلی کی قلت کے خاتمہ کیلئے توانائی کے شعبہ کے منصوبوں کیلئے 18 ہزار 783 ملین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی کے توانائی منصوبوں میں 16 منصوبے بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کے 9 اور بجلی کی تقسیم کے 4 منصوبے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن مکمل کرے گا۔

انہیں بتایا گیا کہ این ایچ اے کے 2.13 ارب ڈالر کے 11 قرض سے جاری منصوبوں کیلئے 1.24 ارب ڈالر مل چکے ہیں، بقیہ 990 ملین ڈالر آئندہ اڑھائی سال کے دوران ملیں گے۔ قومی اقتصادی راہداری سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، نیشنل ہائی وے سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، نیشنل ٹریڈ کوریڈور ہائی وے انوسٹمنٹ، خانیوال۔ملتان موٹروے پراجیکٹ اور مالاکنڈ ٹنل پراجیکٹ ان منصوبوں میں نمایاں ہیں۔

وزیر خزانہ کے گرانٹ پراجیکٹس کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری اقتصادی امور نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبوں میں این ایچ اے کے قلات۔کوئٹہ۔چمن ہائی وے ، پشاور۔طورخم روڈ سمیت دیگر پروگرام شامل ہیں، یہ این ایچ اے کے زیر اہتمام 8 گرانٹ پراجیکٹس ہیں جن کی گرانٹ 360 ملین ڈالر ہے، جن میں سے دسمبر 2014ء تک 215 ملین ڈالر صرف کئے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اقتصادی امور ڈویژن کے ڈونرز اور فنڈز فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ موثر رابطے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے ملک کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے فنڈز کے استعمال کے حوالہ سے مکمل بریفنگ کو بھی سراہا اور توقع ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔

وقت اشاعت : 16/02/2015 - 08:59:42

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں