سانحہ ناولٹی پل فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکن حق نواز قتل کے مقدمہ کی تفتیش ..
تازہ ترین : 1

سانحہ ناولٹی پل فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکن حق نواز قتل کے مقدمہ کی تفتیش نے نیا رخ اختیار کر لیا،مقامی انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل نے قتل اور دہشت گردی کے اس مقدمہ میں اپنے آپ کو بے گناہ کی ضمنی لکھوانے کے بعد فیصل آباد کے بعض اعلیٰ افسران کو تحریک انصاف کے تعلقات کی بناء پر تبدیل کرا دیا

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 14فروری۔2015ء) سانحہ ناولٹی پل فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکن حق نواز قتل کے مقدمہ کی تفتیش نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے‘ مقامی انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے‘ جبکہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل نے قتل اور دہشت گردی کے اس مقدمہ میں اپنے آپ کو بے گناہ کی ضمنی لکھوانے کے بعد فیصل آباد کے بعض اعلیٰ افسران کو تحریک انصاف کے تعلقات کی بناء پر تبدیل کرا دیا ہے جبکہ خبر رساں ادارے کو تبدیل ہونے والے بعض افسران نے بتایا کہ انہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے جبکہ اس واقعہ میں ڈی سی او فیصل آباد اور سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خود ملوث تھے مزید برآں اس سانحہ میں سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور پولیس تھانہ سمن آباد کی طرف سے درج کئے گئے مسلم لیگ (ن) کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے تحریک انصاف کے بعض کارکنوں کو بھی گرفتار کر کے ان کے اس دہشت گردی کے مقدمہ میں ملوث کر دیا گیا جبکہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے مقدمہ کی تفتیش کرنے والے افسران پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ قتل اور نعرے لگانے والوں پر ایک جیسی دفعات لگا کر کس کو جواب دینا چاہتے ہو کیا اللہ کو جواب دینا ہے یا سیاسی لوگوں کو۔

خبر رساں ادارے کو مزید معلوم ہوا کہ اس سانحہ میں ایس ایس پی سپیشل برانچ آصف صدیق جو کہ مسلم لیگ ن کے ایک سابق مرحوم رہنما صوبائی پارلیمانی سیکرٹری و سابق ڈپٹی میئر صدیق سالار کے بھانجے انہوں نے سانحہ ناولٹی پل کی رپورٹ حکومتی جماعت کے خلاف بھجوائی تھی جس کی بناء پر اسے سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل کے کہنے پر صوبائی حکومت نے گزشتہ روز فیصل آباد سے تبدیل کر کے چیف ٹریفک افسر لاہور تعینات کر دیا ہے اور ان کی جگہ شریف ظفر کو ایس ایس پی سپیشل برانچ لگا دیا گیا ہے جبکہ آصف صدیق سی ٹی او کی حیثیت سے لاہور جانا نہیں چاہتے اسی طرح ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل نے تحریک انصاف سے ہمدری اور سانحہ ناولٹی پل کے موقع پر ڈی سی او آفس میں ہونے والے اجلاسوں کی معلومات تحریک نصاف کو پہنچانے کے الزام میں اپنے ہی ڈی او سی صفی اللہ خان اور سابق ایس ایس پی آپریشن امیر عبداللہ خان کو تبدیل کروا چکے ہیں۔

صفی اللہ خان کا تعلق بنوں سے اور امیر عبداللہ خان کا تعلق میانوالی سے تھا۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے پی ٹی آئی کے کارکنوں ملک یاسر اور ملک عاصم کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی گرفتاری پر دستخط کرنے کے سلسلہ میں بعض افسروں نے اختلاف کرتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا چنانچہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر کی ڈانٹ کے بعد پولیس نے اس مقدمہ کی تفتیش کی دوبارہ رپورٹ آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کی ہے اب واضح ہو گیا ہے بعض پولیس افسران حکومتی اراکین اسمبلی اور انتظامیہ کو مقدمہ میں بے گناہ کرنے کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

وقت اشاعت : 14/02/2015 - 09:56:25

اپنی رائے کا اظہار کریں