گذشتہ پانچ سالوں میں 638 ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا،وزیرداخلہ، ..
تازہ ترین : 1

گذشتہ پانچ سالوں میں 638 ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا،وزیرداخلہ، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ‘ملک میں صرف اڑھائی فیصد سمگل شدہ اشیاء موجود ہیں،اسحاق ڈار،اسلام آباد میں 101 مدارس ہیں، 17 ارب روپے کے جعلی ٹیکس ریفنڈ کی نشاندہی کرکے مسترد کردئیے‘ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 13فروری۔2015ء)حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایاہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں 638 ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا،سب سے زیادہ 304دہشت گرد کے پی کے میں مارے گئے‘ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں‘ سندھ میں 1261 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کردئیے ہیں‘ اسلام آباد میں 101 مدارس ہیں جبکہ 17 ارب روپے کے جعلی ٹیکس ریفنڈ کی نشاندہی کرکے مسترد کردئیے ہیں‘ ملک میں سمگل شدہ اشیاء میں کمی آئی ہے‘ ملک میں صرف اڑھائی فیصد سمگل شدہ اشیاء موجود ہیں اور سمگلنگ کیخلاف سخت اقدامات کئے گئے ہیں‘ 50 فیصد سمگل شدہ اشیاء پکڑی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا ۔وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے مقامی ٹرانسپورٹ سیکٹر کو فائدہ مل رہا ہے ہم اس منصوبے کے تحت اشیاء پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگاتے‘ کسٹمز ٹرانزٹ روٹ پر طورخم اور کوہاٹ پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں‘ اینٹی سمگلنگ فورس اور ایف سی کو بھی سمگلنگ روکنے کیلئے اختیارات دئیے گئے ہیں‘ پٹرولیم اشیاء کی سمگلنگ میں کمی آرہی ہے‘ حکومت نے ایک جامع اینٹی سمگلنگ حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بتایا گیاکہ پٹرولیم اشیاء کی کمی کے باعث کرایوں میں کمی واقع ہوئی ہے‘ ایک سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ آئی ڈی پیز کی بحالی پر 107 ملین ڈالر خرچ کئے گئے ہیں‘ امداد دینے والوں میں چین‘ امریکہ‘ ڈنمارک‘ برطانیہ‘ جاپان‘ متحدہ عرب امارات‘ کینیڈا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ آئی ڈی پیز کی بحالی پر کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں کل 638 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ سب سے زیادہ دہشت گرد 304 خیبر پختونخواہ‘ 226 سندھ‘ 46 پنجاب اور 55 بلوچستان میں ہلاک ہوئے۔ آزاد جموں و کشمیر میں 4 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صرف 3 ہیں۔ ان میں ملکی و غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ دہشت گردوں کیخلاف آپریشن صرف خیبر پختونخواہ تک ہی محدود نہیں بلکہ جہاں بھی خطرہ ہوا حکومت وہاں ایکشن لے گی۔

حکومت نے انسداد دہشت گردی فورس بنائی ہے۔ 3 ہزار سے زائد ایلیٹ فورس کو تربیت دی گئی ہے۔ اداروں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنایا ہے۔ تمام صوبوں میں فورس بنائی جائے گی۔ سکیورٹی فورس کی اہلیت اور صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ سندھ میں اس سال 1261 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان میں ملتان‘ سکھر موٹرویز‘ لاہور‘ کراچی موٹرویز‘ گریٹر کراچی واٹر سکیم‘ کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ‘ متحرک سکینر کی تنصیب‘ تھرمل پاور سٹیشن جامشورو‘ جامشورو میں کول منصوبہ‘ تھرکول کینال منصوبہ‘ گرین لائن بس منصوبہ کراچی‘ سکھر حیدرآباد موٹرویز منصوبہ وغیرہ شامل ہیں۔

حکومت نے بتایا کہ پٹرول قیمتوں میں کمی کے بعد ریلوے کرایوں میں 5 فیصد کمی کی گئی ہے۔ پی آئی اے نے بھی عمرہ فلائٹس کے کرایوں میں 7900 روپے تک کمی کی گئی ہے۔ صوبائی حکومتیں بھی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے اس ایکٹ کے تحت جی ایس ٹی میں اضافہ کررہے ہیں پھر بھی جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے زیادہ پاکستان میں قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

حکومت علاج کو ٹیکسوں کے اندر ریلیف دے رہی ہے۔ اگر بجٹ ٹارگٹ مکمل ہوئے تو یہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگی۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی سے ٹیکسوں میں 80 ارب روپے کم ٹیکس اکٹھے ہوں گے۔ نئے ٹیکس عائد کرکے یہ کمی اب 40 ارب روپے ہوگی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ حکومت نے اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جی ایس ٹی میں کمی لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

حکومت نے دعویٰ کیا ہے پٹرول قیمتوں پر ٹیکسوں میں اضافے سے عوام خوش ہیں۔ عوام کو پٹرول اب 112 روپے فی لیٹر کی بجائے 70 روپے میں مل رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ میٹرو بس منصوبہ پرا لاگت 45 ارب روپے ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبہ 23مارچ کو مکمل ہوگا۔ مارچ کے وسط میں بسیں چلنا شروع ہوجائیں گی۔ وفاقی حکومت نے 23 ارب دئیے ہیں۔

بسوں کی خریداری اسی رقم سے کی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملک میں 1888 منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے چالان عدالتوں میں بھیج دئیے گئے ہیں۔ حکومت نے منشیات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ نئے پولیس سٹیشن قائم کریں گے۔ انسداد منشیات فورس بھی قائم کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام اور مانیٹرنگ کی جارہی ہے اس حوالے سے انٹیلی جنس شیئرنگ بھی ہورہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور اس سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخواہ کو مجموعی طور پر 87 ارب روپے فراہم کئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ نادرا نے اپنے دفاتر کی دیکھ بھال پر گذشتہ پانچ سالوں میں صرف 87 ارب روپے فراہم کئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ نادرا نے اپنے دفاتر کی دیکھ بھال پر گذشتہ پانچ سالوں میں صرف 27 ملین روپے خرچ کئے ہیں۔

نادرا نے اسٹیٹ بینک بلڈنگ میں ڈیٹا سنٹر اور پروڈکشن سنٹر پر 269 ملین روپے خرچ کئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد میں کل 101 مدارس ہیں جن میں سے رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 175 اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 53 ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیمز کی بقایا جات کی کل رقم 30.86 ارب روپے بقایا ہے جس میں سے 9 ارب جاری کردئیے گئے ہیں جبکہ 17 ارب روپے کلیمز قرار دئے گئے ہیں۔

وقت اشاعت : 13/02/2015 - 09:29:21

اپنی رائے کا اظہار کریں