تاپی گیس منصوبہ خطے کے تمام ممالک کیلئے اہم ہے ، سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ، نواز ..
تازہ ترین : 1

تاپی گیس منصوبہ خطے کے تمام ممالک کیلئے اہم ہے ، سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ، نواز شریف ، منصوبے کے حوالے سے پاکستان مثبت کردار ادا کریگا ، عوام کی توقعات پرپورا اترنے کیلئے منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد چاہتے ہیں ، وزیراعظم کی بھارت ، ترکمانستان اور افغانستان کے وزراء اجلاس سے گفتگو ، اجلاس میں کنسورشیم رہنما بارے جلد حتمی فیصلہ کرنے پر اتفاق

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12فروری۔2015ء)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پر تیزی کام ہونا چاہیے ،یہ منصوبہ خطے کے تمام ممالک کیلئے اہمیت کا حامل ہے،خطے کے تمام ممالک کو اس منصوبے پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔بدھ کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت تاپی گیس منصوبہ بارے اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت،ترکمانستان اور افغانستان کے وزارت پٹرولیم کے وزراء نے شرکت کی اس موقع پر تینوں ممالک کے وزراء نے وزیر اعظم کو تاپی منصوبے کے حوالے سے اہم امور بارے آگاہ کیا ۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت گیس کی قلت کا سامنا ہے ،عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں،تاپی منصوبے کے حوالے سے پاکستان مثبت کردار ادا کرے گا، تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سے پاکستان میں گیس قلت کم کرنے میں مددملے گی،یہمنصوبہ خطے تمام ممالک کے لئے بہت ہے ،پاکستان تیزی سے اس منصوبے پر عملدرآمد کا خواہاں ہے، پاکستان جلد پیش رفت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ،ہم سب کو اس موقع کو سنجیدگی سے لنیا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں جلد آغاز کے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے ،منصوبے پر کام میں تیز ی سے اس کی لاگت میں اضافہ ہوگا اس منصوبے سے ہماری توقعات وابستہ ہیں تاپی منصوبہ کے تمام ممالک کے لئے اہمیت کا حامل ہیں ۔ اجلاس میں شریک بھارت ، ترکمانستان اور افغانستان کے وزراء کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تمام ممالک کے لئے بہترین مفاد میں ہے اجلاس میں جلد کنسورشیم رہنما بارے حتمی فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔

وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ تاپی کے تمام ر کن ممالک کے سربراہوں نے 2010ء میں بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کئے تھے گیس پائپ لائن پراجیکٹ کی 1680 کلو میٹر پائپ لائن ترکمانستان سے افغانستان پاکستان اور بھارت کو سالانہ 3.2 کیوبک فٹ گیس سپلائی کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوگی ۔

وقت اشاعت : 12/02/2015 - 09:17:58

اپنی رائے کا اظہار کریں