کشکول کو ضرور توڑیں گے تا کہ آئندہ کشکول اٹھانے کی نوبت نہ آئے، نواز شریف،ملک ..
تازہ ترین : 1
کشکول کو ضرور توڑیں گے تا کہ آئندہ کشکول اٹھانے کی نوبت نہ آئے، نواز ..

کشکول کو ضرور توڑیں گے تا کہ آئندہ کشکول اٹھانے کی نوبت نہ آئے، نواز شریف،ملک سے ہمیشہ کے لئے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیں گے،لوڈشیڈنگ ،گیس اور دیگر مسائل ہمارے دورے میں ختم ہو جائیں گے ،پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے، ملک میں انفراسٹرکچر اور موٹروے کا جال بچھا ئیں گے،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سونا ،تانبا،لوہا جیسی معدنیات سے مالامال کیا ہے،سرمایہ کار معدنیات نکالنے میں سرمایہ کاری کریں ، حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرے گی ،پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ،اقتدار کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا،، ہمت ہارنے والا شخص نہیں ہوں ،ہمارے دورے میں سارے مسائل حل ہو جائیں گے، ،وزیر اعظم کا چینوٹ کے علاقے رجوعہ میں تقریب سے خطاب،وزیر اعظم نے دریافت ہونے والے قیمتی ذخائر کا معائنہ کیا ، ڈاکثرثمر مبارکباد نے اس اہم کامیابی پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی

چینیوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 12فروری۔2015ء)وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی ،سکیورٹی اور بجلی وگیس کا بحران حل کرنا اولین ترجیح ہے ،ملک سے ہمیشہ کے لئے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیں گے،لوڈشیڈنگ ،گیس اور دیگر مسائل ہمارے دورے میں ختم ہو جائیں گے ،پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے، ملک میں انفراسٹرکچر اور موٹروے کا جال بچھا ئیں گے ،پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں کہ یہاں سرمایہ لگائیں،اللہ تعالی نے پاکستان کو لوہے اور تانپے جیسی معدنیات سے مالا مال کیا ہے ،سرمایہ کار رجوعہ میں معدنیات نکالنے میں سرمایہ کاری کریں ،سرمایہ کاروں کو حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرے گی ۔

بدھ کے روز چینیوٹ کے علاقے رجوعہ وزیر اعظم نوازشریف بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچے ،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا ،ارکان اسمبلی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے جبکہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک ،چینی اور جرمن حکام بھی موجود تھے ۔وزیر اعظم نے دریافت ہونے والے قیمتی ذخائر کا معائنہ کیا اور ڈاکثرثمر مبارکباد نے اس اہم کامیابی پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی ۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ذخائر کے نمونوں کو سوئزرلینڈ میں ایس جی ایس لیب لیبارٹری بھجوائے گئے جہاں ان نمونوں کے ٹیسٹوں سے پتہ چلا کہ یہاں بڑی مقدار میں لوہے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان نمونوں کو کینیڈا کی عالمی لیباٹری سے بھی ٹیسٹ کروائے گئے ہیں ۔ذخائر کی دریافت ڈرلنگ کا آغاز 2جولائی 2014 میں شروع کیا گیا جبکہچین اورجرمن کی کمپنیوں نے اس منصوبے میں حصہ لیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی گئی ۔

وزیر اعظم نواز شریف نے دریافت ہونے والے لوہے اور تانبے کے نمونے دیکھے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس کے بعد وزیر اعظم نے منصوبے میں جاری کاموں کا بھی معائنہ کیا ۔اس موقع پر وزیر اعظم کو چینی اور جرمن ماہرین کا تعارف کرایا گیا اور وزیر اعظم نے فرداً فرداً مصافحہ کیا ۔جرمن اور چینی ماہرین نے وزیر اعظم کو منصوبے پر مزید تفصیلی بریفنگ دی ۔

ڈائریکٹر جرگن ہرنیش نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ذخائر انتہائی کم گہرائی میں پائے گئے ہیں ،28 کلو مربع کلو میٹر کے علاقے میں یہ ذخائر پھیلے ہوئے جبکہ سروے کے مطابق200 مربع کلو میٹر کے علاقے میں لوہے اور تانبے کے ذخائر کے موجودگی کے قوی امکانات ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں لوہے کی نسبت تانبے کثیر تعداد میں موجود ہیں جبکہ علاقے میں سونے کے ذخائر بھی پائے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تانبا 5 ہزار اور خام لوہے کی 100 ڈالر قیمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین اور جرمن کمپنیاں منصوبے کی تکمیل کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لارہی ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو لوہے اور تانپے جیسی معدنیات سے مالا مال کیا ہے ،سرمایہ کار رجوعہ میں معدنیات نکالنے میں سرمایہ کاری کریں ،سرمایہ کاروں کو حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرے گی ،آج اگر علاقے کی عوام یہاں ہوتے اور جلسہ ہوتا تو خوشی ہوتی لیکن یہاں سکیورٹی صورت حال کا مسئلہ ہے ۔

مجھے آج یہاں آنے سے روکا گیا کہ سکیورٹی خدشات ہیں لیکن میں پھر بھی یہاں آیا ہوں ۔انشاء اللہ سکیورٹی کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اس لئے ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان شروع کیا ہے انشاء اللہ جلد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ،ہسپتالوں میں مریض رل رہے ہیں ،مریضوں کے پاس ادویات کے لئے پیسے نہیں ہے ،غربت بہت زیادہ ہے، بے روزگاری بہت ہے ،ملک میں انفراسٹرکچر کا نظام نہیں ہے سڑکیں بھی نہیں ہیں ،ملک میں چوری چکاری اتنی زیادہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا،سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ ان مسائل کو کیسے حل کریں ،جس اینٹ کو اٹھاتے ہیں اسی اینٹ کے نیچے گند نکلتا ہے ۔

آج یوسف رضا گیلانی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا کا مشکل ترین کام پاکستان کا وزیر اعظم بننا ہے ۔میں نے چیلنج سمجھ کر اقتدار کو سنبھالا ہے ۔عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور اللہ تعالی کا حکم تھا کہ اس لئے ہم نے یہ چیلنج قبول کیا ہے۔مجھے امید ہے کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور یہ حالات ہمارے دورے میں ہی ٹھیک ہو جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمت ہارنے والا شخص نہیں ہوں ۔شہباز شریف دن رات محنت کررہے ہیں اس طرح ہمیں سب کو مل کر ملک کو ان مسائل سے نکالنے کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو فائدہ ہوا ہے لیکن حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات سے عوام کو فوائد حاصل ہوتے ہیں تو یہ ضرور ملنے چاہئیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میرے سامنے تین بڑے مسائل ہیں ،سکیورٹی ،بجلی اور گیس کا بحران اور ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ۔میں نے ان تینوں بڑے مسائل پر بھر پور توجہ دے رہا ہوں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو آج لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا کیونکہ بجلی کے کارخانے لگانے کے لئے اربوں روپے چاہئیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں ۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی ہوئی ہے جس سے ضرورت اشیاء میں کمی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ میڈیا چینلز خواہ مخواہ ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور عوام کو غلط معلومات دے رہے ہیں ،توانائی کے حوالے سے سوچ مجھ کر معلومات فراہم کیا کریں۔ہم بے بیمان لوگ نہیں ہیں اگر بے ایمان ہوتے تو آج یہاں خوشخبری سنانے نہ آتے ۔ہم ملک کو خوشحالی کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں ،ملک میں موٹروے کا جال بچھانا چاہتے ہیں ،ہسپتالوں کی حالت ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ،غریبوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں ،ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں ،ملک سے اندھیروں کا خاتمہ چاہتے ہیں،بجلی اور گیس کا بحران ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیگا، پاکستان میں صنعتیں لگیں گی ،زراعت ترقی کرے گا ،کسانوں کو فوائد پہنچائیں گے تا کہ کسان اجناس،سبزیاں کم ریٹس پر مارکیٹ میں مہیا کریں تا کہ عوام کو براہ راست فوائد حاصل ہوں اور یہی ہمارا ایجنڈا ہے اور انشاء اللہ ہم اس ایجنڈے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چینیوٹ کی عوام کی عوام اور پورے ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو آج ہونے والے خزانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ چینوٹ میں بہت بڑی فیکٹریاں لگیں گی ،دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں کہ آؤ یہاں چینیوٹ میں سرمایہ لگاؤ۔میں نے آج سونا،تانبا،لوہا اور سلور دیکھا ہے ۔اللہ تعالی نے چینیوٹ میں اوپر فصلیں اور نیچے سونے کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کشکول توڑنے کا وقت آگیا ہے کہ کشکول کو ضرور توڑیں گے تا کہ آئندہ کشکول اٹھانے کی نوبت نہ آئے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور دانشوروں کی موجودگی میں کشکول اپنے ہاتھوں سے توڑ نے کی تقریب منعقد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے مقام پر تھر میں کوئلے کے کان ذخائر موجود ہیں ۔کوئلے کو بیرون ملک سے نہیں بلکہ تھر سے خریدیں گے اور اس سے بجلی بنائیں گے اور ایران سے گیس لیں گے جس کے لئے بات چیت چل رہی ہے ۔

قبل ازیں وزیر اعلی شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان کا تاریخی دن ہے ،آج پاکستانی قوم کے لئے خوشخبری کا دن ہے،پاکستان کی دھرتی میں ذخائر کے دریاچل رہے ہیں ۔2007 ء میں اس پراجیکٹ کو بند کر دیا گیا جبکہ اس کا ٹھیکہ غیر قانونی کمپنی کو غیر قانونی طریقہ سے دیا گیا اور اس ٹھیکے میں کرپشن کی بھرمار تھی ۔یہ منصوبہ ملک سے غربت کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دے گا ۔

انہوں نے کہا کہ آئرن کی تلاش کرنے نکلے تھے اور یہاں لوہا ،تانپااور سونے کے ذخائر نکل آئے ہیں ۔ہم اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر ادا کریں ے کم ہے۔ڈاکٹر ثمرمبارک نے اس منصوبے پر بہت محنت کی اور چینی اور جرمن کمپنیوں کو اس منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈیڑھ ارب سے شروع کیا گیا جو پنجاب حکومت نے خود برداشت کیا ہے ۔یہ منصوبہ 18 کروڑ عوام کی ملکیت ہے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ کشکول توڑنے کا وقت آگیا ہے ہم سب نے تانبے ،لوہے اور سونے کے ذخائر دیکھے ہیں ۔شفاف طریقے سے اس منصوبے کو یہاں تک لائیں ہیں ہم اس خزانے کو فروخت کر کے بیرون ملک سے آئل اور دیگر معدنیات خریدیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ٹھیکہ دنیا کی بہترین چین اور جرمن کمپنیوں کو دیا گیا ہے ۔اس سارے پراجیکٹ میں چینیوٹ کی عوام کا حق ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چینیوٹ کی عوام کو روز گار فراہم کیا جائیگا اور ماہرین کو اس منصوبے میں شامل کیا جائیگا۔یہ منصوبہ ملک سے غربت میں خاتمے کے لئے مفید ثابت ہوگا ۔

جب اپنا قافلہ علم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہئیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
اے وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہی سے نکلے گا
وقت اشاعت : 12/02/2015 - 09:06:04

قارئین کی رائے :

  • عنا یت اللہ شاہ بٹگرامی کی رائے : 12/02/2015 - 09:52:37

    پاکستان کو ترقی دینے کے لیے نظام خلافت راشدہ کی اشد ضرورت ھے

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں