اپوزیشن کے شدیداحتجاج کے باوجودحکومت نے انتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں ..
تازہ ترین : 1

اپوزیشن کے شدیداحتجاج کے باوجودحکومت نے انتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں 120دنوں کی توسیع ایوان سے لے لی ، حکومت 2روزمیں بل لے آئے حمایت کریں گے ،خورشیدشاہ، آرڈیننس فیکٹریوں کوبندہوناچاہئے ،فہمیدہ مرزا، افسوس حکومت ایوان کوڈائننگ کلب میں تبدیل کررہی ہے ،نویدقمر،ایم کیوایم کی طرف سے آرڈیننس میں توسیع کی حمایت،بل بھی لانے کا مطالبہ، ایسابل لایاجائیگاجس پرتمام اپوزیشن جماعتوں کااتفاق ہوگا،شیخ آفتاب کی یقین دہانی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10فروری۔2015ء)قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے انتخابی فہرستوں اورحلقہ بندیوں کے حوالے سے آرڈیننس میں 120دن کی توسیع پراپوزیشن جماعتوں کے شدیداحتجاج کے باوجودانتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں 120دنوں کی توسیع ایوان سے سے لے گئی ،قائدحزب اختلاف سیدخورشیدشاہ نے کہاہے کہ حکومت 2روزمیں بل لے آئے حمایت کریں گے ،آرڈیننس کی کسی صورت توسیع نہیں ہونی چاہئے ،سابق سپیکرفہمیدہ مرزانے کہاکہ آرڈیننس فیکٹریوں کوبندہوناچاہئے ،سیدندیدقمرنے کہاکہ آرڈیننس آئین کی خلاف ورزی ہے ،ہمیں پارلیمنٹ کومضبوط بناناچاہئے افسوس حکومت ایوان کوڈائننگ کلب میں تبدیل کررہی ہے ،ایم کیوایم نے آرڈیننس میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے ایوان میں بھی لانے کامطالبہ کردیا،حکومت کی جانب سے شیخ آفتاب نے یقین دلایاہے کہ ایسابل لایاجائیگاجس پرتمام اپوزیشن جماعتوں کااتفاق ہوگا۔

پیرکی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب وزیرپارلیمانی امورنے انتخابی فہرستیں آرڈیننس 2014ء اورحلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس2014میں 120دن کی توسیع چاہی توپیپلزپارٹی کے سینئررکن پارلیمنٹ سیدنویدقمرنے مخالفت کردی اورکہاکہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ حکومت کے پاس ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے ،مگراس کے باوجودآرڈیننس کاسہارالیکرآئین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے حالانکہ 18ویں ترمیم کے وقت یہ اتفاق کیاگیاکہ قانون سازی کیلئے آرڈیننس کاسہارانہیں لیاجائیگا،مگرافسوس اس جانب زورنہیں دیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ بتایاجائے کہ اگرآرڈیننس کے ذریعے قانون سازی ہوگی توپھرپارلیمنٹ کی کیاضرورت ہے ،اس ایوان کوکیوں ڈیٹنبنگ کلب بنایاجارہاہے کیااس ایوان میں ہم صرف وزیراعظم کی کرسی بچانے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں کیوں کہ حکومت اپوزیشن کی اچھی چیزوں سے استفادہ نہیں کرتی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت بہترقوانین لیکرآئیں ہم تعاون کیلئے تیارہیں ،ہمیں اپنے آپ پربھروسہ نہیں ہے اورپارلیمانی جماعتوں پراعتمادنہ کرناانتہائی شرمناک ہے ،حکومت اس معاملے کوموٴخرکرے اوراس معاملے پرباقاعدہ قانون سازی لائی جائے ،اس کے بعدایوان میں لایاجائے ،بعدازاں جماعت اسلامی کے رکنصاحبزادہ شیراکبرخان نے کہاہے کہ اس بل کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ حکومت کے طریقہ کاردرست نہیں ہے ،نواب یوسف تالپورنے اس معاملے پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کوفٹبال کی طرح دھکیلاجارہاہے ،اس صورتحال میں کیوں ہم ایوان کواعتمادمیں نہیں لیتے ،ایازسومرونے بھی اس کی مخالفت کی اورکہاکہ بتایاجائے وجہ کیاہے کہ نوے روزکے آرڈیننس کو120دن توسیع دی جارہی ہے ۔

افسوس جوبل اپوزیشن لائی ہے وہ بل ایوان میں پیش نہیں ہوئے ،متحدہ قومی موومنٹ کے رکن ایس اے اقبال قادری نے کہاکہ یہ آرڈیننس انتہائی اہم ہے کیوں کہ ہم سے ایک بڑی کوتاہی ہے جولوکل حکومتوں کے حوالے سے ہے جبکہ حکومت بھی لوکل حکومتوں کی حمایتی نہیں ہے اس لئے اس بارے ایوان میں قانون سازی نہیں ہورہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت اس بارے ایک بل لایاجائے قائمہ کمیٹی بہتراس بل کوایوان میں پاس کرانے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے ۔

رکن قومی اسمبلی اعجازجاکھرانی نے کہاکہ اس بل کی توسیع نہیں ہونی چاہئے اگراس ایوان میں قانون سازی نہیں ہوتی توپھرتحریک انصاف ایوان میں نہ آکردرست کررہی ہے کیوں اس ایوان کوغیرفعال کیاجارہاہے ۔بعدازاں وزیرمملکت شیخ آفتاب نے حکومت کی جانب سے آرڈیننس میں توسیع کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے پربل اس لئے لیکرآناچاہتے ہیں کہ تمام جماعتوں سے اس پراتفاق رائے قائم کریں اورمتفقہ طورپراس کوایوان سے منظوربھی کرائیں گے ۔

اس لئے اپوزیشن اس بل کی توسیع ہونے دے ۔بعدازاں ایم کیوایم کے رکن آصف حسنین نے کہاکہ لولی لنگڑی جمہوریت کوبلدیاتی الیکشن کے بغیرچلارہے ہیں ۔ اس اجلاس میں بل ضرورلایاجائے تاکہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں مگرفی الوقت اس آرڈیننس کی توسیع کی حمایت کرتے ہیں ،کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ سابق سپیکرفہمیدہ مرزانے کہاکہ ہمیں اب آرڈیننس کی فیکٹری بندکرناہوگی اگراس پارلیمنٹ کومضبوط کرناہے توپھرہمیں قانون سازی کرنی چاہئے ۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں ضرورآرڈیننس کے سہارے لئے گئے مگراب اس کورکناچاہئے کیونکہ اپوزیشن ہراچھے بل کی حمایت ضرورکرتی ہے حکومت نہ جی ایس ٹی کے معاملے پارلیمنٹ میں لاتی ہے اورنہ ہی بلدیاتی حکومتوں کے حوالے سے معاملہ ایوان میں لایاجارہاہے ،اس آرڈیننس کی توسیع کے بجائے بل لایاجائے ۔بعدازاں اپوزیشن کے شدیداحتجاج کے باوجودانتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں 120دنوں کی توسیع ایوان سے سے لے گئی ، اوربعدازاں حلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس 2014پیش کردیاجس پرقائدحزب اختلاف نے کہاکہ 2روزمیں اس بارے بل لایاجائے ،ایوان میں اپوزیشن اس کی حمایت کریگی،بعدازاں حلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس 2014میں 120دن کی توسیع دیدی

وقت اشاعت : 10/02/2015 - 09:25:26

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں