پا کستان اور آ ذاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا،کشمیری ..
تازہ ترین : 1
پا کستان اور آ ذاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا ..

پا کستان اور آ ذاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا،کشمیری شہدا کی یاد میں صبح نو بجے ملک بھر میں ایک منٹ کی خا موشی اختیار کی جائے گی،وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں بڑی بڑی ریلیوں اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنا ئی جائیں گی، وزیر اعظم محمد نواز شریف کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا بھی امکا ن ،قومی اسمبلی میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو سلام کی قرارداد متفقہ منظور،پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار

لاہور،اسلام آباد، مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5فروری۔2015ء) پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں آج جمعرات کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا اس موقع پر ملک میں عام تعطیل ہوگی ، پانچوں صوبوں و آزاد کشمیرمیں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں جماعة الدعوة،جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کی طرف سے خصوصی پروگرامات ہوں گے۔ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کشمیری قائدین سے ملاقاتیں کریں گے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب متوقع ہے۔

کشمیری شہدا کی یاد میں صبح نو بجے ملک بھر میں ایک منٹ کی خا موشی اختیار کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق یوم یکجہتی کشمیر پانچ فروری کے موقع پر وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں بڑی بڑی ریلیوں اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ خواتین اور بچے بھی ان پروگرامات میں شریک ہونگے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پوری پاکستانی قوم مکمل جو ش و خروش سے اپنے جذبات اور احساسات سے دنیا کو آگاہ کرے گی۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر سے قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر پر الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کروانے کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔جب کہ جماعة الدعوة کے تحت اسلام آباد ،لاہور و دیگر شہروں میں اظہار یکجہتی کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ پانچ فروری کو صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم محمد نواز شریف حریت رہنماوٴں سے ملاقاتیں کریں گے وزیر اعظم محمد نواز شریف کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب متوقع ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں قومی پروگرامات کے حوالے سے ہدایات جاری کردی گئیں ہیں خصوصی پارلمیانی کشمیر کا وفد بھی یوم یکجتی کشمیر کے موقع پر اقوام متحدہ کے دفتر یاداشت دینے کے لیے جائے گا۔ حسب روایت یوم یکجتی کشمیر آزاد کشمیر،گلگت بلتستان فاٹا سمیت ملک بھر میں جوش خروش سے منایا جائے گا۔ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر ریلیاں ہوں گی۔

جماعة الدعوة کے تحت لاہور میں ناصر باغ سے ہائیکورٹ چوک تک کشمیر کارواں نکالا جائے گا جس میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوں گے۔کارواں کے اختتام پر جلسہ عام ہو گا جسے مذہبی ،سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔کراچی میں سفاری پارک سے شاہراہ کشمیر تک جماعة الدعوة کشمیر کارواں نکالے گی۔جماعت اسلامی کے تحت مظفر آباد میں یکجہتی کشمیر کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق،جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحما ن مکی و دیگر خطاب کریں گے۔

اسلام آباد میں فیض آباد تا آبپارہ چوک جماعة الدعوة کے کشمیر کارواں سے مولانا امیر حمزہ،مولانا فضل الرحمان خلیل و دیگر خطاب کریں گے۔ حکومت کی جانب سے کوہالہ کے مقام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی خصوصی پارلیمانی کشمیر کا وفد اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں مسئلہ کشمیر پر قرار دادوں کی یاد دہانی کے لئے یادداشت پیش کرے گا۔ پاکستانی سفارتخانون اور مشنز کو بھی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے خصوصی تقریبات کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان کا سفارتی عملہ پاکستانی کمیونٹی کی معاونت سے خصوصی پروگرامات منعقد کریں گے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے اور یورپی یونین کے مختلف ممالک میں بھی ریلیاں ہوں گی۔لاہور،اسلام آباد،مظفر آباد،کراچی،کوئٹہ،پشاور و دیگر شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے حق خود ارادیت انسانی حقوق کے تحفظ اور دیگر مطالبات پر مبنی بڑے بڑے بینرز لگا دیئے گئے ہیں۔

امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے پاکستانی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے سلسلہ میں کراچی سے پشاور تک ملک کے کونے کونے میں ہونے والے جلسوں، کانفرنسوں اور کشمیر کارواں میں بھرپور انداز میں شریک ہوں تاکہ دنیا کو مضبوط پیغام دیا جاسکے کہ پوری پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی جارحیت کے خلاف متحد وبیدار ہے اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ادھریوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے قومی اسمبلی میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو سلام کی 13 نکاتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ، یہ قرارداد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے نوجوانوں کے اغواء اور مقبوضہ کشمیر میں ناقابل شناخت اجتماعی قبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے،بھارتی حکومت ایسی تمام یکطرفہ کوششوں سے احتراز کرے جس سے مقبوضہ کشمیر کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت اور آبادی کے تناسب کو رائے شماری سے پہلے بدلا جاسکے ۔

قرارداد میں ان تمام شہداء کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے آزادی کے اصولی موقف کی خاطر اپنی جانیں قربان کردیں جبکہ ایوان میں ان نڈر کشمیریوں کی جرات اور بہادری کو بھی سلام پیش کیا گیا جنہوں نے سات لاکھ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر انسانی مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان کشمیری عوام کی حق پر مبنی جرات مندانہ جدوجہد کیلئے اپنی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا عہد اور عزم کرتا ہے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہیں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے یعنی اس تنازعہ کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے آزادانہ ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ قرارداد میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے نوجوانوں کے اغواء اور مقبوضہ کشمیر میں ناقابل شناخت اجتماعی قبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے ۔

یہ ایوان تسلیم کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تنازعات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام اس تنازع کے حل میں پوشیدہ ہے، اقوام متحدہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرو گروپ کے کردار اور افادیت میں اضافہ کرے ۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف احتجاجاً گزشتہ سال بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا مقبوضہ کشمیر کی اکثریتی آبادی نے بائیکاٹ کیا ہے ہم بھارتی حکومت کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ ایسی تمام یکطرفہ کوششوں سے احتراز کرے جس سے مقبوضہ کشمیر کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت اور آبادی کے تناسب کو رائے شماری سے پہلے بدلا جاسکے ۔

قرارداد میں بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال بزدلانہ فائرنگ کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں متعدد فوجی جوانوں اور شہریوں نے جام شہادت نوش کیا اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا یہ ایوان اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری پر ایک بار پھر زور دیتا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی روشنی میں کئے گئے وعدوں کے مطابق کرے ۔

جبکہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے بارے میں بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں نام نہاد انتخابات کبھی بھی استصواب رائے کا نعم البدل نہیں ہوسکتے ، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ، عالمی برادری اس مسئلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے ،ان خیالات کا اظہار سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی قوم پرست جماعت جموں وکشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنا چاہتی ہے اس مقصد کیلئے مقبوضہ کشمیر میں غیرریاستی افراد کو آباد کیا جارہا ہے تاکہ مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے اور وہاں لسانی اور مذہبی تقسیم پیدا کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اندرون اور بیرون ملک کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منا ر ہے ہیں اس کا مقصد اس عزم کی تجدید کرنا ہے کہ ہم کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں نے بھارتی مظالم کیخلاف بڑی جدوجہد کی ہے بھارتی فوج نے اس تحریک کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی اور لاتعداد لوگوں کو قتل کیا گیا خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بڑی تعداد میں بچے یتیم ہوئے ۔

یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی الیکشن اقوام متحدہ کے زیر انتظام استصواب رائے کا نعم البدل نہیں ہوسکتے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے حالیہ دورہ پاکستان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ کشمیر کاز کی حمایت کی ہے اور ہم جموں وکشمیر کے بار ے میں او آئی سی کے رابطہ گروپ سے مطمئن ہیں جو آذربائیجان ،نائجر ، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل ہے اس کے باقاعدہ اجلاس ہوتے ہیں اور کشمیریوں سے اظار یکجہتی کی قراردادیں منظور کی جاتی ہیں ۔

انہوں نے سیکرٹری جنرل کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے مطالبے کو بھی سراہا ۔ سفیروں کو بتایا گیا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کیلئے او آئی سی کے خود مختار مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق کے قیام کا کشمیریوں نے خیر مقدم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 57ملکوں پر مشتمل او آئی سی دنیا کے پانچویں حصہ آبادی کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی جی ڈی پی کھربوں ڈالر ہے جو بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ، مقبوضہ کشمیر سے فوج نکالنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے روکنے کیلئے دباؤ ڈال سکتے ہیں ۔

اس موقع پر سفیروں نے پاک بھارت تعلقات او دیگر حوالوں سے سوالات بھی کئے جن کے سیکرٹری خارجہ نے تسلی بخش جواب دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن کے بعد اب ورکنگ باؤنڈری پر بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور دو پاکستانی فوجیوں اور کئی شہریوں کی گزشتہ ماہ شہادت کے بعد کشیدگی بڑھی ہے ۔ مسئلہ کشمیرکی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں ۔

وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر نے کہا ہے کہ آج جمعرات کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن بھر پور انداز میں منایا جائیگا ،کشمیریوں کی 67 سال کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں،ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی ،وزیر اعظم نواز شریف مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی اور آزاد جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ انسانی حقوق کا قاتل بھارت کبھی بھی سلامتی کونسل کا ممبر نہیں بن سکتا ۔

1999 میں نواز شریف کی حکومت کو نہ ہٹایا جاتا تو آج مسئلہ کشمیر حل ہو گیا ہوتا،بھارت کے ساتھ سیکرٹری سطح پر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں،آج کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی منا کر آنے والی نسلوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔برجیس طاہر نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے ،کشمیری عوام کی 67 سال کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جائیگا اور ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی ،برجیس طاہر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ،انسانی حقوق کا قاتل بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بننے کا اہل نہیں ہے،کشمیری بھارت کے مظالم کے باوجود حق پر ڈٹے ہوئے ہیں،کشمیری بھائیوں کے ساتھ یوم یکجہتی بھر پور انداز میں منائیں گے، پاکستانی میڈیا کشمیریوں کی جدوجہد کو بھر پور انداز میں اجاگر کرے،برجیس طاہر نے کہا کہ امریکہ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے ،21ویں صدی میں انسانوں کو غلام بنا کر رکھنا کہاں کا انصاف ہے ،ہمارے پاس تمام میکنزم تیار ہے،ہم آنے والی نسلوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ ہے ،بھارت مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کر کے انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے ، انہوں نے کہا کہ بھارت سے سیکرٹری سطح پر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں،یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 1975ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا جو1989 سے اب تک جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین کی کوششوں سے اب تک یہ دن تسلسل سے منایا جارہا ہے ، انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت کو جبراً نہ ہٹایا جاتا تو آج مسئلہ کشمیر کا حل ہو چکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مشرف نے بھارت کے شہر آگرہ سے واپس آ کر کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا تھا،پوری دنیا کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

وقت اشاعت : 05/02/2015 - 05:23:56

اپنی رائے کا اظہار کریں