یم کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے پر آرمی افسر ..
تازہ ترین : 1

یم کورٹ میں آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے پر آرمی افسر لیفٹیننٹ کرنل منیر گل کے کورٹ مارشل سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف دائر وزارت دفاع کی نظر ثانی کی درخواست سماعت کیلئے منظور ،مقدمہ کو تین رکنی بینچ کے روبرو لگانے کا حکم ، عدالت فوجی عدالتوں کے سیکشن 55 کے دائرہ کار کے تعین کیلئے اس مقدمے کی تفصیل سے سماعت کرے گی ،جسٹس جواد ایس خواجہ

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء) سپریم کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے پر آرمی افسر لیفٹیننٹ کرنل منیر گل کے کورٹ مارشل سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف دائر وزارت دفاع کی نظر ثانی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی ۔ مقدمہ کو تین رکنی بینچ کے روبرو لگانے کا حکم ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت فوجی عدالتوں کے سیکشن 55 کے دائرہ کار کے تعین کیلئے اس مقدمے کی تفصیل سے سماعت کرے گی ۔

پیر کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اس دوران وزارت دفاع کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے لیفٹیننٹ کرنل منیر گل کے کورٹ مارشل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی اور کہا کہ فیصلے پر نظر ثانی کی جائے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اس کیس کی سماعت تین رکنی بینچ کرے گا اس لئے اس مقدمے کو تین رکنی بینچ کے روبرو لگانے کا حکم دے رہے ہیں بعد ازاں عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظوری کرلی اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل منیر گل پر آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے پر آرمی نے انہیں نوکری سے برخاست کردیا تھا جس پر انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے ان کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا تھا جس پر وزارت دفاع نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جو سپریم کورٹ نے خارج کردی تھی منیر گل کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم نے موقف اختیار کیا تھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن 55کے تحت کسی بھی فوجی ملازم کی ادارے کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہی کورٹ مارشل کیاجاسکتا ہے ۔

وقت اشاعت : 03/02/2015 - 08:22:41

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں