وفاق المدارس کے سرپرست اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی ..
تازہ ترین : 1
وفاق المدارس کے سرپرست اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا ..

وفاق المدارس کے سرپرست اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی سیمینار کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے،طبیعت کی خرابی کے باوجود اپنا خطاب اطمینان سے مکمل کیا،ہم حکمرانوں کے دوست ہیں مگر انہوں نے دوستوں کو دشمن سمجھنا شروع کردیا ہے‘ مولانا عبدالمجید لدھیانوی،علماء کرام مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو پاکستان نہ بنتا‘ سیمینار سے زندگی کا آخری خطاب

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2فروری۔2015ء) وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی اتوار کی دوپہر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیمینار میں اپنے آخری خطاب کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ مرحوم وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلی ہونے کے علاوہ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر اور کہروڑ پکا میں ایک مدرسے کے مہتمم اعلی بھی تھے۔

مرحوم نے اپنی زندگی کا آخری خطاب اتوار کی دوپہر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام وفاق کے دفتر گارڈن ٹاؤن ملتان میں واقع ان کی قیادت میں ”مدارس و مساجد کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں“ کے حوالے سے منعقد ہونے والے سیمینار میں کیا۔ مرحوم نے اپنے خطاب کے دوران بھی اپنی ناسازی طبع کا ظہار کیا تاہم علماء کرام کی موجودگی کے پیش نظر مرحوم نے اپنی ناسازی طبع کو پس پشت ڈال کر اپنا خطاب مکمل کیا۔

اس موقع پر موجود سینکڑوں علماء جوکہ جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں سے وہاں جمع ہوئے تھے‘ نے مرحوم کا آخری خطاب سنا اور بعدازاں ان کے انتقال کی خبر سن کر شدید غم اور دکھ میں مبتلاء ہوگئے۔ مرحوم کو دل کا دورہ پڑنے کے دوران فوری طور پر طبی امداد کیلئے کارڈیالوجی ہسپتال ملتان لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے اور انتقال کرگئے۔قبل ازیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلی اور عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے کہا ہے کہ علماء کرام مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو پاکستان وجود میں نہ آتا‘ ہم حکمرانوں کے دوست ہیں دشمن نہیں لیکن حکمرانوں نے دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوست سمجھنا شروع کردیا ہے۔

اتوار کو یہاں وفاق المدارس کے مرکزی دفتر میں منعقدہ سیمینار سے اپنی زندگی کا آخری خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو اپنے عہد کی پابندی نہیں کرتا وہ دین دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے وفادار ہونے کا حکمرانوں کو یقین دلاتے ہیں۔ ہم پر اعتماد کرلو ہم دشمن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران دشمنوں کے کہنے پر دوستوں سے عہد و پیماں توڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علماء نے تو پاکستان بنایا۔ اگر علماء مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو پاکستان نہ بنتا۔ حکمران اس بات کا جائزہ لیں کہ معاہدہ کس نے توڑا۔ ملک میں کرپشن کا راج ہے۔ حکمرانوں نے باہر خزانے بھر لئے ہیں اور حکمرانوں کی لغت میں دیانتداری کا لفظ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران سوچیں کہ پاکستان کو برباد کرنے میں حکمرانوں کا کردار ہے یا علماء کا‘ ہم پاکستان کے دشمن نہیں وفادار ہیں۔

اسلام کے نام پر ملک بنا تھا۔ حکمران مدارس کی مخالفت کرکے اپنی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ حکمران مسلمان بن جائیں اور مدارس اسلام کا قلعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام گھروں اور بازاروں سے نکل چکا ہے اور اب مدارس میں موجود ہے۔ اسلام کو بچانے کی بجائے اسلام کو اختیار کیا جائے تو حکمران خود بچ جائیں گے۔ حکمرانوں نے دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوست سمجھ لیا ہے۔

سیمینار کے اختتام سے قبل دس قراردادیں پیش کی گئیں جو سیمینار کے شرکاء نے منظور کیں۔ قراردادوں کے مطابق مساجد اور مدارس کے ذمہ داران ملک عزیز پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ملکی سیاست‘ ترقی اور امن کی خاطر ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اس سلسلے میں دہشت گردی اور بدامنی کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ہر مخلصانہ اقدام کی نہ صرف یہ کہ ہم حمایت کرتے ہیں بلکہ حکومت کیساتھ تعاون کیلئے بھی تیار ہیں۔

مدارس اور مساجد کے ذمہ داران قومی ایکشن پلان اور اکیسویں ترمیم میں مدارس‘ دینی مراکز اور مذہبی و فرقہ کو بطور خاص ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ دہشت گردی کو مذہب اور مذہبی اداروں سے جوڑنے کے ہر عمل کو ہم مذموم قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کیخلاف تمام اقدامات کو وسعت دے کر ہر طرح کی دہشت گردی کا سدباب کیا جائے۔

مدارس و مساجد کا نمائندہ اجتماع واضح کرتا ہے کہ مدارس و مساجد کی حریت اور خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ دین اسلام کے ان مقدس اداروں کا تحفظ آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک کیا جائے گا۔ یہ سیمینار حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مدارس و مساجد پر چھاپوں اور مذہبی راہنماؤں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں معاہدے کے مطابق متعلقہ وفاق سے رجوع کیا جائے۔

سیمینار سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ایمپلی فائر اور سپیکر سے متعلق قانون کا اطلاق معاشرے کے تمام طبقات اور تمام مکاتب فکر پر بلاتفریق کیا جائے اس سلسلے میں غیر تحقیقی رپورٹنگ پر مقدمات کے اندراج کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مدارس و مساجد کی رجسٹریشن کا عمل تیز اور آسان کیا جائے اس سلسلے میں درپیش تمام رکاوٹوں کو فی الفور ختم کیا جائے۔

یہ نمائندہ اجتماع مدارس کی کردار کشی کرتے ہوئے حکومتی اہلکاروں اور میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کرتا ہے کہ بے بنیاد اور بلا تحقیق باتوں پر افواہوں کی بنیاد پر مدارس پر الزامات فی الفور بند کئے جائیں۔ سیمینار میں فرانس کی طرف سے شائع کردہ توہین آمیز خاکوں کی پرزور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ مقدس شخصیات کی توہین کیخلاف قانون سازی کرے۔ سیمینار میں سانحہ شکارپور کی پرزور مذمت کی گئی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے قادیانی نواز خاتون کو گورنر پنجاب بنانے کی تجویز پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلام اور ریاست میں ملکی آئین سے انحراف کرنے والی خاتون کو اعلی عہدہ نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

وقت اشاعت : 02/02/2015 - 09:20:45

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں