وزیر خزانہ سحاق ڈار نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں ریحام خان سے مدد کی ..
تازہ ترین : 1
وزیر خزانہ سحاق ڈار نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں ریحام خان ..

وزیر خزانہ سحاق ڈار نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں ریحام خان سے مدد کی درخواست کر دی ، بھابھی عمران خان کوراضی کرلیں تومسئلہ آدھے گھنٹے میں حل ہوجائے گا،جوڈیشل کمیشن کے معاملے میں سازش اورمنصوبہ بندی کے الفاظ پراختلاف ہے حکومت خورشید شاہ سمیت کسی بھی نیوٹرل امپائر کو بطور ثالث قبول کرنے کو بھی تیار ہے ،یکم جولائی سے انفرادی ٹیکس نمبر ختم ہوجائیں گے اور شناختی کارڈ نمبر ہی ٹیکس نمبر ہوگا ، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1فروری۔2015ء)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں ریحام خان سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہاہے کہ بھابھی عمران خان کوراضی کرلیں تومسئلہ آدھے گھنٹے میں حل ہوجائے گا،جوڈیشل کمیشن کے معاملے میں سازش اورمنصوبہ بندی کے الفاظ پراختلاف ہے حکومت خورشید شاہ سمیت کسی بھی نیوٹرل امپائر کو بطور ثالث قبول کرنے کو بھی تیار ہے ،یکم جولائی سے انفرادی ٹیکس نمبر ختم ہوجائیں گے اور شناختی کارڈ نمبر ہی ٹیکس نمبر ہوگا۔

ہفتہ کو یہاں وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پرسیلزٹیکس میں اضافے سے جنوری میں بارہ ارب روپے کی اضافی آمدن ہوئی۔ ٹیکس مزید پانچ بڑھنے سے فروری میں 28 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہوگا ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پٹرول کی قیمت میں دس روپے فی لیٹرکمی کرنی تھی تاہم سیلزٹیکس بڑھنے یہ کمی سات روپے ننانوے پیسے لیٹرہوگی۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائرپندرہ ارب ڈالرسے زیادہ ہوگئے ہیں۔

چھ ماہ میں ایف بی آرریونیومیں 12.7 فیصد اوربجٹ خسارے میں دواعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا تجارتی خسارہ نوارب 80کروڑڈالررہا۔ ترسیلات زر15فیصد بڑھیں 2001سوبائیس نئی کمپنیاں رجسٹرڈہوئیں 219 ارب کے زرعی قرضے جاری کئے گئے۔ تیس جنوری 2015تک ترقیاتی منصوبوں کیلئے 184ارب دیئے۔اسحاق ڈارنے کہاکہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ میں 3.4 فیصد کمی کی گئی ہے۔ یکم جولائی 2015 سے انفرادی طورپرقومی شناختی نمبرٹیکس نمبرکے طورپراستعمال ہوسکے گا۔

ایک سوا ل کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہاکہ عمران خان معیشت پر سیاست بند کردیں، پٹرول سستا ہونے سے حکومت کی ٹیکس وصولی میں 68ارب روپے کی کمی ہورہی تھی، اس لیے دو بار پٹرول پر سیلزٹیکس بڑھایا ہے، اس کے باوجود 40ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ عمران خان کہتے ہیں حکومت نے 300ارب روپے ہڑپ کرلیے ہیں ہمیں تو 68ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں جو 10.75 روپے کم ہونا تھیں لیکن ان میں سے 2.76 روپے حکومت ٹیکس کی مد میں رکھے گی، عوام کو قیمتوں میں 7.99 روپے کمی کا فائدہ حاصل ہوگا اسی طرح ہائی اوکٹین کی قیمت جو 14.98 روپے کم ہونا تھا اس میں سے 3.16 روپے ٹیکس، کیروسین آئل سے 2.42 روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل سے 3.18 روپے اور لائٹ ڈیزل سے 2.28 روپے حکومت رکھے گی جس سے حکومتی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے حکومت پر پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے 300 ارب روپے کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔میڈیا سوالات کے جواب وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں ریحام خان سے مدد کی درخواست کردی۔ اسحاق ڈارنے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے میں سازش اورمنصوبہ بندی کے الفاظ پراختلاف ہے۔

بھابھی عمران خان کوراضی کرلیں تومسئلہ آدھے گھنٹے میں حل ہوجائے گا۔ایک سوا ل کے جواب میں اسحا ق ڈار نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے تنازعہ حل کرنے کیلئے خورشید شاہ کی ثالثی قبول کرنے پر بھی تیار ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے سازش یا بائی ڈیزائن کے الفاظ شامل کرنا پڑیں گے۔

اگر کمیشن کے قواعدو ضوابط میں یہ الفاظ لکھ دیئے جائیں کہ انتخابات میں کسی سازش کے زریعے منظم دھاندلی کی گئی تو وزیراعظم کمیشن کے قیام سے متعلق آرڈیننس جاری کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خورشید شاہ سمیت کسی بھی نیوٹرل امپائر کو بطور ثالث قبول کرنے کو بھی تیار ہے تاہم خورشید شاہ ثالثی کیلئے تحریک انصاف کی طرف سے گرین سگنل کے منتظر ہیں۔

آرڈیننس کے زریعے کمیشن کا قیام جلد ممکن ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بل لانے کی صورت میں 6 ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بننے میں محض دو الفاظ کی رکاوٹ ہے، یہ واضح ہونا چاہیے کہ انتخابی سسٹم کی کمزوریاں کسی طور سازش نہیں فاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ یکم جولائی سے انفرادی ٹیکس نمبر ختم ہوجائیں گے اور شناختی کارڈ نمبر ہی ٹیکس نمبر ہوگا، شرح منافع کم ہونے کے باعث قومی بچت اسکیمز پر بھی شرح منافع کم ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ اخراجات کے حوالے سے آخری چھ ماہ کے دوران آئی ڈی پیز اور نیشنل ایکشن پلان کے باعث زائد اخراجات متوقع ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جس طرح تمام سیاسی جماعتوں نے ملک کر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے قومی ایکشن پلان تشکیل دیا ہے اسی طرح معیشت پر بھی ایکشن پلان بننا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں بجلی کے نقصانات کوکم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری کر رہے ہیں تاہم ان کے ملازمین بے روزگار نہیں ہوں گے بلکہ ڈسکوز کی صرف انتظامیہ تبدیل ہوگی اور کسی بھی ملازم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانس سکیم جو 9.4 فیصد پر تھی اب یکم فروری سے کم ہوکر 9 فیصد ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طول معاشی سہولت بھی یکم فروری سے کم ہوکر 7.5 فیصد پر آجائیں گی۔

وقت اشاعت : 01/02/2015 - 09:52:16

اپنی رائے کا اظہار کریں