اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی بجلی کے اضافی بلوں کیخلاف دائر درخواست میں ..
تازہ ترین : 1

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی بجلی کے اضافی بلوں کیخلاف دائر درخواست میں ایڈووکیٹ عبدالرحمن ایس علوی کو فریق بننے کی اجازت دے دی، درخواست گزار نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے زائد اضافی بلوں کو چیلنج کر رکھا ہے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔29جنوری۔2015ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بجلی کے اضافی بلوں کیخلاف دائر کی گئی درخواست میں ایڈووکیٹ عبدالرحمن ایس علوی کو فریق بننے کی اجازت دے دی‘ درخواست گزار نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے زائد اضافی بلوں کو چیلنج کیا ہے اور کیبنٹ کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار عبدالرحمن ایس علوی ایڈووکیٹ عدالت عالیہ میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی اسد عمر‘ ڈاکٹر شیریں مزاری اور ڈاکٹر عارف علوی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے وصول کئے گئے اضافی بلوں کو چیلنج کیا تھا لہٰذا مجھے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں آئین کے تحت فریق بننے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے استدعاء منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو اسد عمر کیس میں فریق بننے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ عبدالرحمن ایس علوی نے وزارت پانی و بجلی‘ نیپرا‘ آئیسکو و بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بجلی صارفین سے وصول کئے گئے کروڑوں روپے کی مد میں وصول کردہ رقوم کو چیلنج کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اضافی بلوں پر وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور ایک کمیٹی بنانے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن اب تک اس کمیٹی کی رپورٹ میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور نہ ہی اس رپورٹ پر عملدرآمد ہوا ہے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ نے بجلی کے اضافی بلوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت عالیہ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابات بھی طلب کئے تھے۔ عدالت نے سیکرٹری پانی و بجلی کو اضافی بلوں کی رپورٹ عدالت میں جمع نہ کرانے پر دس ہزار روپے جرمانہ بھی کیا تھا۔

وقت اشاعت : 29/01/2015 - 08:31:13

اپنی رائے کا اظہار کریں