موجودہ ہاکی کھلاڑیوں کی حالت زار دیکھ کر سابق اولمپئنز مدد کیلئے تیار، لیگز کھیلنے ..
تازہ ترین : 1
موجودہ ہاکی کھلاڑیوں کی حالت زار دیکھ کر سابق اولمپئنز مدد کیلئے تیار، ..

موجودہ ہاکی کھلاڑیوں کی حالت زار دیکھ کر سابق اولمپئنز مدد کیلئے تیار، لیگز کھیلنے اور غیر ملکی شہریت کیلئے معاونت کی پیشکش کردی،ہمیں بھکاری بناکر رکھ دیا گیا ہے، اپنے بیوی بچوں کو مزید بھوک میں مبتلا ہوتا نہیں دیکھ سکتے، زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا تو قومی ٹیم کی بجائے انٹرنیشنل لیگز ہی ہماری اولین ترجیح ہوگی، ہاکی پلیئرز کی دوہائیاں

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27جنوری۔2015ء ) موجودہ ہاکی کھلاڑیوں کی حالت زار دیکھ کر سابق اولمپئنز مدد کیلیے تیار ہوگئے، دنیا بھر میں لیگز کھیلنے اور غیر ملکی شہریت کیلئے معاونت کی پیشکش کردی۔سینئرز کے نقش قدم پر چل کر بغاوت کرنے اور ملکی ٹیم کی نمائندگی کرنے سے انکار کی صورت میں قومی کھیل کو مستقبل میں ایک اور بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پلیئرز کے مطابق ہمیں بھکاری بناکر رکھ دیا گیا ہے، اپنے بیوی بچوں کو مزید بھوک میں مبتلا ہوتا نہیں دیکھ سکتے، زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا تو قومی ٹیم کی بجائے انٹرنیشنل لیگز ہی ہماری اولین ترجیح ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق ہاکی پاکستان کا وہ واحد کھیل ہے جس نے اولمپکس اور ورلڈ کپ سمیت دنیا بھر کے ٹائٹلز جیت کر دنیا بھر میں ملک کا سبز ہلالی پرچم لہرایا، گرین شرٹس کی ان بڑی کامیابیوں کے باوجود گول کیپر قاسم سمیت سابق اولمپئنز اور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی بڑی تعداد غربت اور بیماریوں کا مقابلہ کرتے کرتے دنیا سے چلی گئی جبکہ بعض پلیئرز باہر کے ممالک میں سکونت اختیار کر چکے ہیں اورلیگ ہاکی کھیل کر یا کوچنگ کے ذریعے اپنے اہلخانہ کی باعزت طور پر کفالت کر رہے ہیں۔

ان کھلاڑیوں میں سلمان اکبر (ہالینڈ)، وسیم احمد ( آسٹریلیا)، غضنفر علی، عدنان ذاکر، عمران یوسف، عرفان یوسف (انگلینڈ) اور عدنان مقصود (روس) قابل ذکر ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیرون ممالک میں رہنے والے کھلاڑیوں نے موجودہ پلیئرز کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اب کچھ اپنے بارے میں بھی سوچیں اور قومی ٹیم کو خیر باد کہہ کر انٹرنیشنل لیگز کھیلنے اور انٹرنیشنل شہریت لینے کو ترجیح دیں، اگر وہ حامی بھرتے ہیں تو ہم ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ذرائع کے مطابق پرکشش پیشکش ملنے کے بعد موجودہ کھلاڑیوں نے بھی اپنے سینئرز کے نقش قدم پر چلنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے اور مستقبل مین ان کی ترجیح قومی ٹیم کی بجائے لیگز معاہدے کی پاسداری ہوگی۔

وقت اشاعت : 27/01/2015 - 07:43:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں