وزیر اعظم کی زیر صدارت بجلی بحران کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس،وزیر اعظم نے بجلی ..
تازہ ترین : 1
وزیر اعظم کی زیر صدارت بجلی بحران کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس،وزیر ..

وزیر اعظم کی زیر صدارت بجلی بحران کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس،وزیر اعظم نے بجلی کے بریک ڈاؤن بارے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی، وفاقی وزیر خواجہ آصف کی بجلی بریک ڈاؤن کے حوالے سے وزیر اعظم کو بریفنگ،کے الیکٹرک سے 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے نئے معاہدے کی اصولی منظوری ،سکیورٹی ادارے بجلی کی ٹرانسمشن لائنز اور گرڈ سٹیشن کی حفاظت کو یقینی بنائیں،آئندہ بجلی بریک ڈاؤن جیسے واقعات سے بچنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں، نواز شریف کی ہدایت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27جنوری۔2015ء)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ملک میں بجلی کے حالیہ بریک ڈاؤن کا سخت نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ کے الیکٹرک سے650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے نئے معاہدے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بریک ڈاؤن جیسے واقعات سے بچنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں ،سکیورٹی ادارے بجلی کی ٹرانسمشن لائنز اور گرڈ سٹیشن کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے پیر کے روز بجلی بحران کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے شرکت کی ۔اجلاس میں بجلی بحران ،فرنس آئل کی کمی اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا اور اجلاس میں کے الیکٹر ک کے ساتھ نئے معاہدے اور نئی شرائط کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے ۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے گزشتہ روز بڑے پیمانے پر بجلی بریک ڈاؤن کے حوالے سے وزیر اعظم کو تفصیلی آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی کو 650 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے نئے معاہدے کی اصولی منظوری دی ۔ کے الیکٹر ک کے ساتھ نئے معاہدہ اور نئی شرائط سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کئے جائیں گے ۔اس موقع وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں بڑے پیمانے پر حالیہ بجلی بریک ڈاؤن کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کا نظام معمول پر لانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے جائیں،وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ سکیورٹی ادارے بجلی کی ٹرنسمشن لائنز اور گرڈ سٹیشن کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور آئندہ بجلی بریک ڈاؤن جیسے واقعات سے بچنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔

وقت اشاعت : 27/01/2015 - 08:16:26

اپنی رائے کا اظہار کریں