سندھ حکومت نے ٹھٹھہ کے ونڈکوریڈورمیں 49.5میگاواٹ ونڈانرجی پروجیکٹ 1408ایکڑاراضی ..
تازہ ترین : 1
سندھ حکومت نے ٹھٹھہ کے ونڈکوریڈورمیں 49.5میگاواٹ ونڈانرجی پروجیکٹ 1408ایکڑاراضی ..

سندھ حکومت نے ٹھٹھہ کے ونڈکوریڈورمیں 49.5میگاواٹ ونڈانرجی پروجیکٹ 1408ایکڑاراضی الاٹ کردی،مفاہمتی یادداشت پردستخط کیلئے تقریب کاانعقاد، بریگیڈیئر (ر) طارق اعزاز نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیئے

کراچی( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔26جنوری۔2015ء)سندھ حکومت نے ضلع ٹھٹھہ کے ونڈ کوریڈور میں 49.5میگاواٹ ونڈ انرجی پروجیکٹ کیلئے ماسڑونڈ انرجی لمٹیڈکو 1408ایکڑ اراضی الاٹ کردی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی محکمہ انرجی کی جانب سے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب میں ماسٹر ونڈ انرجی لمیٹڈ کیجانب سے بریگیڈیئر (ر) طارق اعزاز نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیئے ۔

انرجی کے اس منصوبے پر 130، ملین امریکی ڈالر لاگت آئے گی جس کا بندوبست مقامی و غیر ملکی اداروں کے تعاون سے کیا گیا ہے ۔ منصوبے کی لاگت کا بڑا حصہ اوورسیز پرائیویٹ انویسٹمینٹ کارپوریشن ، یوایس اے کی جانب سے فراہم کیا جائے گا ۔ جبکہ منصوبے کی باقی ماندہ سرمایہ کاری مقامی بنیکوں کے کنسورشیم سے پوری کی جائے گی پروجیکٹ سے تجارتی بنیادوں پر پیدا وار جولائی 2016ء میں شروع ہوجائیگی جس کے بعد نیشنل گرڈ میں142.1میگاواٹ بجلی ہر سال شامل کی جائے گی۔

پروجیکٹ کی تعمیر کا ٹھیکہ چائنہ کی کمپنی پاور چائنا اور ہوڈونگ انجینئرنگ کارپویشن لمیٹڈ کو دیا گیا ہے جو 33، ٹربائین لگائے گے جبکہ ہر ٹربائین 1.5، میگاواٹ بجلی پیدا کریگا ۔اس سلسلے میں نیپرا مذکورہ کمپنی سے ریٹ مقرر کرچکی ہے ۔ یہ پروجیکٹ ماحولیاتی عالمی اصولوں کے مطابق تعمیر کیا جائیگا ۔ سندھ کے ونڈ کوریڈور میں 55، ہزار میگاواٹ پاور پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ اس وقت صرف اس کا ایک فیصد یعنی 156.4، میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے ۔

جو نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی ۔ سندھ حکومت ونڈ کوریڈور سے بجلی پیدا کرنے کی بھرپور کوششیں کررہی ہے جس کے تحت مقامی اور غیر ملکی سرمایاکاروں کو بھرپور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔ اس سلسلے میں محکمہ توانائی کی پالیسی ِ ،ٹیکینکی معاملات، سپورٹ فریم ورک ، انفرااسٹرکچر کی ترقی ، سرمایاکاروں کو سہولیات فراہم کرنا ، بینک ایبل ڈیٹا جمع کرنا ،ون ونڈ و سہولیات ، عالمی اداروں سے ٹیکینکی معاونت جس میں نارتھ امریکہ ، یورپ اور چائنا کے چوٹی کے ماہرین سے معاونت جیسے اقدامات شامل ہیں سرمایاکاروں کی دلچسپی کومدنظررکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سندھ ونڈ کوریڈور کی صلاحیتوں سے فائدہ لیتے ہوئے مستقبل میں ونڈ انرجی پیدا کرنے کا بڑا مرکز بن کر ابھرئے گا ۔

وقت اشاعت : 26/01/2015 - 07:15:08

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں