انتخابات چوری ہوئے یا نہیں ؟چاہتے ہیں جو ڈیشل کمیشن ہاں یا نہ میں فیصلہ کرے،اسحاق ..
تازہ ترین : 1
انتخابات چوری ہوئے یا نہیں ؟چاہتے ہیں جو ڈیشل کمیشن ہاں یا نہ میں فیصلہ ..

انتخابات چوری ہوئے یا نہیں ؟چاہتے ہیں جو ڈیشل کمیشن ہاں یا نہ میں فیصلہ کرے،اسحاق ڈار،عمران چاہئیں تو آدھے گھنٹے میں جوڈیشل کمیشن بن سکتا ہے،کمیشن کے فیصلے سے دودھ کا اور پانی کا پانی ہو جائے گا، تین شقوں پر اختلافات تھے،تحریک انصاف کو خط اور ای میل بھیج دی ہیں ،آئین اور قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں ،جہاں تحریک انصاف جیتے وہاں الیکشن ٹھیک اور جہاں (ن) لیگ جیتے وہاں دھاندلی ہوئی ہے،عمران خان کی یہ مثبت سوچ نہیں ہے،وزیر خزانہ کی وفاقی وزیر انوشہ رحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25جنوری۔2015ء)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹراسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن عمران خان کے ان الزامات کی تحقیقات بنایا جارہا ہے جو انہوں نے گزشتہ تین مہینوں میں اپنے جلسوں اور پریس کانفرنسز کے دوران لگائے ہیں ،پورے الیکشن کی چھان بین کرنا ممکن نہیں۔ عمران چاہئیں تو آدھے گھنٹے میں جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں ،جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آئیگا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا،ہماری کوشش ہے کہ کمیشن جلد از جلد بن جائے ۔

19 اور20 جنوری کو تحریک انصاف کے ساتھ خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں،تحریک انصاف کے ساتھ تین سیکشنز پر اختلافات تھے ،پی ٹی آئی کو خط اور امیل بھیج دی ہیں جو انہوں نے تصدیق کر دی ہے ۔ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ نے ہفتہ کے روزوفاقی وزیر انوشہ رحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے دھاندلی کے بارے میں صرف ہاں یا نا میں جواب دینا ہے اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کا ایک ہی فیصلہ آئے کہ آیا عام انتخابات چوری ہوئے ہیں یا نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے ہماری پوری کوشش ہے کہ کمیشن جلد از جلد بن جائے ۔انہوں نے کہا کہ شاہ عبد اللہ پاکستان کے ہمدرد اور سچے دوست تھے ۔پاکستان نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا اس لئے عمران خان کی جدہ میں پریس کانفرنس کا جواب نہیں دیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے حوالے سے سے تحریک انصاف کو خط اور ای میل بھیج دی ہیں ۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے ای میل ور خط کی تصدیق کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن کے ڈرافٹ میں 2 لفظ تبدیل کئے ہیں ۔آئین اور قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنانا چاہتے ہیں ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طے ہوا تھا کہ نئے قانون کے تحت مذاکرات ہوں گے ۔انکوائری کمیشن آرڈیننس کے ذریعے بنانے کا مطالبہ تسلیم کیا ۔ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے ہمارے مطالبے کو تسلیم کیا ہے ۔

19 اور20 جنوری کو کو تحریک انصا ف کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے 24 کو دوبارہ شروع کئے ۔20 جنوری کو اسد عمر نے ایک تجویز دی جو میں نے قبول کر لی اور یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ایکٹ56 کی بجائے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کمیشن بن جائے ۔تحریک انصاف کے ساتھ تین سیکشنز پر اختلافات تھے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ میں الیکشن ٹھیک ہوئے ہیں اس لئے وہاں پر سینیٹ انتخابات میں حصہ لوں گا۔

جہاں تحریک انصاف جیتی ہے وہاں الیکشن ٹھیک ہوئے ہیں اور جہاں مسلم لیگ (ن) جیتی ہے وہاں دھاندلی ہوئی ہے ۔عمران اس الیکشن کو شفاف سمجھتے ہیں جہاں سے وہ جیتے ہیں پھر تو کل جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آئے گا تو عمران خان کہیں گے جوڈیشل کمیشن ٹھیک نہیں ہے ۔یہ ایک اچھی سوچ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے 2013 کے انتخابات کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ انتخابات چوری ہوئے ہیں یا نہیں ۔

یہ فیصلہ جوڈیشل کمیشن نے کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت عدالتی کمیشن میں بیان ریکارڈ کرا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہالیکشن ٹریبونل نے اب تک400 اپیلیں نمٹا چکے ہیں ، 500 عذرداریوں کی تفصیلات جوڈیشل کمیشن میں لانا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس طرح جویشل کمیشن کا فیصلہ آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں ۔عمران خان مان جائیں تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن سکتا ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 80 فیصد سیاسی جماعتوں نے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے حکومتی مسودے کی حمایت کی ہے ۔تحریک انصاف چاہتی ہے بہت سے جواب آئیں تا کہ مزید گرداڑے۔ہم چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کا ایک جواب آنا چاہیے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جدہ میں کہا کہ جوڈیشل کمیشن بن جائے تو اسمبلیوں میں چلے جائیں گے عمران کی مثبت سوچ کا خیر مقدم کرتا ہوں،انتخابی اصلاحات کے بارے میں پانچ نکات پر اتفاق ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلیوں کی شکایات مہذب ملکوں میں بھی ہوتی ہیں۔جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ آئے گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد 13 اگست کو ہم نے سپریم کورٹ کوجوڈیشل کمیشن بنانے کے حوالے خط بھیجا کیونکہ جوڈیشل کمیشن آئین کے تحت پہلے بھی بنتے رہے ہیں ۔مگر اس خط کا ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور لگتا یہی ہے کہ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے خدشات کے بعد عدلیہ نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق ہمیں اطلاع نہیں کیا ۔

وقت اشاعت : 25/01/2015 - 05:07:17

اپنی رائے کا اظہار کریں