آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ کیس ،130 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جار ی،بھارتی سپریم کورٹ ..
تازہ ترین : 1

آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ کیس ،130 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جار ی،بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو6 ہفتوں میں الیکشن کرانے کا حکم دیدیاسری نواسن تمام الزامات سے بری ،بھارتی کرکٹ بورڈ کیلئے دروازے بند، آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے ،سری نواسن کا داماد گروناتھ میاپن اور رجھستان رائلز کے مالک راج کندھارا قصور وار قرار،2 ججوں پرمشتمل کمیٹی تشکیل ،کمیٹی چنائی سپر کنگ اور رجھستان رائلز کے مستقبل کا فیصلہ کریگیبی سی سی آئی کے معاملات عوامی ہیں،عدالت ہی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے،آئی پی ایل میں چند لوگوں کی اجارہ داری ہے، بھارتی سپریم کورٹ

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23جنوری۔2015ء)بھارتی سپریم کورٹ نے آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ کیس کا 130 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ کو 6 ہفتوں میں نئے الیکشن کرانے کا حکم جاری کر دیا ۔عدالت نے انٹرنیشنل کونسل کے چیئرمین سری نواسن کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ کے دروازے بند کر دیئے اور حکم دیا کہ آئندہ سری نواسن بی سی سی آئی کے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی وہ بی سی سی آئی کے صدر بن سکتے ہیں۔

عدالت نے 2 ججوں پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دے دی ۔ جمعرات کے روز بھارتی سپریم کورٹ نے آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بی سی سی آئی کے معاملات عوامی ہیں اور بی سی سی آئی کے معاملات کا عدالت ہی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ریمارکس میں مزید کہا گیا کہ آئی پی ایل میں چند لوگوں کی اجارہ داری ہے۔عدالتی فیصلے میں سری نواس کے داماد گروناتھ میاپن جوئے ملوث پائے گئے ہیں جبکہ رجھستان رائلز کے مالک اور بھارتی اداکارہ شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندھارا بھی قصور وار ٹھہرائے گئے ہیں ان پر بھی جوئے میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

فیصلے کے مطابق انٹرنیشنل کونسل کے چیئرمین سری نواسن کے داماد اور راجھستان رائلز کے مالک راج کندھارا جوئے میں ملوث پائے گئے جبکہ سری نواسن پر اپنے داماد کے جرم کی پردہ پوشی کے الزامات کے ثبوت نہیں ملے ۔اس لئے سری نواسن کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے ۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چنائی سپر کنگ اور رجھستان رائلز کے مستقبل کا فیصلہ عدالت کرے گی ۔دو ججوں پر مشتمل دو رکنی کمیٹی اس معاملے کو تفصیلی جائزہ کے بعد رپورٹ پیش کرے گی۔شواہد ملے ہیں ۔واضح رہے کہ آئی پی ایل ایڈیشن2013 میں سپاٹ فکسنگ ہوئی تھی اور 17 ماہ تک عدالت میں کیس کی کارروائی جاری رہی ۔

وقت اشاعت : 23/01/2015 - 05:18:13

اپنی رائے کا اظہار کریں