پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو درپیش پٹرول بحران پر وزیراعظم نواز شریف کو براہ ..
تازہ ترین : 1

پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو درپیش پٹرول بحران پر وزیراعظم نواز شریف کو براہ راست ذمہ دار قرار دیدیا، بحران کی انکوائری کیلئے چوہدری نثار پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی جائے،سینیٹر سلیم مانڈوی والا ، قمر الزمان کائرہ ، بحرن پر پارلیمنٹ کا اجلاس بھی بلایا جائے جس میں اس پر تفصیلی بحث کرائی جائے،پریس کانفرنس،خورشید شاہ نے پیٹرولیم بحران کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج سے کرا نے کا مطالبہ کردیا ،عدلیہ کے علاوہ کسی انکوائری کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے، مستقبل میں فرنس آئل کا بحران جنم لے گا ،حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوامی مسائل کا پارلیمنٹ کی سفارشات کی روشنی میں حل تلاش کرے، بحران سے قومی خزانہ کو روزانہ بارہ ارب کا نقصان ہورہا ہے،حکومت نے ہماری عدم موجودگی میں پیٹرول لیوی کابل منظور کرائے ہمارا اعتماد کھودیا ہے،پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔21جنوری۔2015ء )پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو درپیش پٹرول بحران پر وزیراعظم نواز شریف کو براہ راست ذمہ دار قرار دیدیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بحران کی انکوائری کیلئے چوہدری نثار پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی جائے بحرن پر پارلیمنٹ کا اجلاس بھی بلایا جائے جس میں اس پر تفصیلی بحث کرائی جائے ۔

گزشتہ روز پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ میں سابق وزیر خزانہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا ،سابق وزیر اطلاعات قمر مان کائرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول بحران کی وجہ حکومت کی بدانتظامی ہے اس پورے بحران کی ذمہ دار سیکرٹری پٹرولیم پر ڈالی جارہی ہے جبکہ اصل ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف ہیں بحران سے عوام کو پریشانی دیکھنا پڑی عوام کے دکھ پر پیپلز پارٹی کسی صورت میں خاموش نہیں رہ سکتی ۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزارت خزانہ اور پٹرولیم اس بحران کے ذمہ دار ہیں حکومت وصولیوں میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے بحران کو ختم کرنے کے لیے حکومت پٹرول فوری درآمد کرے یہ بحران مزید دس دن رہنے کی توقع ہے ۔ قمر الزامان کائرہ نے کہا کہ نواز شریف عوام سے جھوٹے وعدے کئے تھے عوام نے وعدوں پر انہیں ووٹ دیئے لیکن نواز حکومت ایک وعدہ بھی پورا نہیں کرسکی اور تمام دعوے پٹ گئے ہیں حکومت غفلت سے بیدار ہو اور عوامی مطالبات پر حکومت آنکھیں بند نہ کرے لیکن مطالبات کو پورا کرے ۔

انہوں نے کہا کہ میٹرو منصوبہ پر فنڈز ہیں لیکن پٹرول خریدنے کیلئے فنڈز نہیں ہیں یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے وزراء کی نااہلی کا پورے ملک میں تماشا لگا ہوا ہے وزیراعظم نے دو عام افسران پر کمیٹی بنا دی کیا افسران وزراء کی باز پرس کرینگے اور کیا ماتحت افسرن وزراء کا احتساب کرسکیں گے نواز حکومت کے دوران میں سیاسی انتشار معیشت کی تباہی زراعت کی تباہی اہم خدوخال ہیں حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ اداروں کی تباہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بڑے بحران آئے تھے لیکن ہم نے بھی عوام کے ساتھ ایسے سلوک نہیں کیا جو اب حکومت کررہی ہے ۔ کائرہ نے کہا کہ پٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے تاکہ حکومت بجلی کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے انہوں نے کہا کہ وزراء اور وزیراعظم کے مابین کو آرڈنیشن نہیں ہے جس کا نتیجہ بحران در بحران ہے حکومت دہشتگردی کی جنگ کو بہانہ بنا رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی حکومت نے بھی دہشتگردی کی بڑی جنگ لڑی تھی سوات میں پاکستان کا سربز ہلالی پرچم لہرایا تھا اس کے باوجود ہمارے دور میں پٹرول کا بحران پیدا نہیں ہوا تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے اپنے کارکنوں کو ناراض کرکے حکومت کی حمایت جمہوریت کیلئے کررہی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کاسیشن بلایا جائے اور قومی بحث کرائی جائے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی ہے نواز لیگ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر جماعت ہے یہ حکومت انپی خود دشمن ہے اور آئے روز بحران پیدا کرتی رہتی ہے انہوں نے اس بات کو دوہرایا کہ دو حلقوں میں دھاندلی پر پورا الیکشن کالعدم قرارنہیں دے سکتے ۔

حکومت کارکردگی بہتر بنائے اور غاضبوں کی تقسیم کرے ہم موجودہ حکومت کے گریبان اسمبلی میں نہیں پکڑیں گے حکومت کے ساتھ تعاون جاری ہے فیصلہ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ آئندہ اجلاس میں کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں کائرہ نے کہا کہ نواز حکومت کاطرہ امتیاز ہے کہ وہ پہلے اداروں کو تباہ کرکے ان کے شیئرز کم کرتی ہے پھر ان اداروں کو اپنے من پسند بندوں میں اونے پونے فروخت کردیتی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا لیکن پھر بھی ہم عدلیہ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

خبر رساں ادارے کے سوال کے جواب میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پٹرول بحران میں کرپشن کا عنصر نہیں ہے یہ صرف حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ ہے پریس کانفرنس میں اخونزادہ چٹان ، پی اے سی کے افضل چن سینیٹر روبینہ خالد بھی موجود تھے ۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم بحران کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج سے کرائی جائیں،عدلیہ کے علاوہ کسی انکوائری کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے، مستقبل میں فرنس آئل کا بحران جنم لے گا حکومت ہوش کے ناخن لے اور عوامی مسائل کا پارلیمنٹ کی سفارشات کی روشنی میں حل تلاش کرے۔

منگل کو اپنی رہائش گاہ پر ہرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول بحران کی نشاندہی پہلے ہی اسمبلی فلور پر کردی تھی لیکن حکومت نے اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بحران سے قومی خزانہ کو روزانہ بارہ ارب کا نقصان ہورہا ہے۔ حکومتی وزراء نے غیر حاضر رہ کر پارلیمنٹ کو بھی غیر فعال بنا دیا ہے حکومت نے ہماری عدم موجودگی میں پیٹرول لیوی کابل منظور کرائے ہمارا اعتماد کھودیا ہے ۔

خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیٹرول بحران کی نشاندہی اسمبلی فلور پر کی تھی جس پر حکومت نے جواب نہیں دیا۔ حکومت کو کہا تھا کہ اس معاملہ پر توجہ دے۔ حکومت نے چند افسران کے خلاف ایکشن لیا۔ اسحاق ڈار کہتا ہے کہ سازش ہوئی جبکہ دوسرا وزیر کہتا ہے کہ انہیں علم نہیں۔ انہوں نے کہ اکہ اس بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ اوگرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیٹرول سٹاک بارے معلومات رکھے۔

اکیس دنوں کا تیل کمپنیوں کے پا ہونا چاہیے پیٹرول سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری اوگرا پر ہے ساٹھ فیصد تیل درآمد پی ایس او کرتی ہے۔ چالیس فیصد نجی کمپنیاں درآمد کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ روزانہ کھپت پندرہ ہزار ٹن ہے جبکہ کمپنیوں کے پاس صرف اٹھائیس ہزار میٹرک ٹن کا ذخیرہ ہے جو دو دن کی ضروریات کیلئے کافی ہے۔ اپوزیشن نے اپنا کردار ادا کیا ہے جمہوریت کے لئے کردار ادا کریں لیکن حکومت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس او کے 222 ارب روپے کمپنیوں سے وصول کرنا ہے حکومت کے اداروں نے یہ رقم دینی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جواب دے کہ وقت پر تیل کیوں نہیں درآمد کیا۔ حکومت کے ادارے پی ایس او کو ادائیگی کردے تو بحران ختم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بحران کی وجہ سے روزانہ بارہ ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پار ٹی پر تیل کے بحران کا الزام لگانے والے ن لیگ والے اب کہاں ہیں ۔

حکومت اربوں روپے دے کر بھی 320 ارب کا سرکلر ڈیٹ موجود ہے حکومت اس کی بھی وضاحت کرے۔ بجلی کے لائن لائسز بھی بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ تیل کے بحران کا ذمہ دار کون ہے کب تک حل ہوگا اور کتنا تیل برآمد کیا گیا ہے مستقبل میں ایسے بحران کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے اور اوگرانے ریزرو بارے کیا پالیسی بناء ی ہے۔ حکومت ملک کے اندر بہران پدیا کررہی ہے پارلیمنٹ میں وزراء حاضر نہ ہوکر اس کو غیر فعال بنا دیا ہے پیٹرولیم لیوی پر ہم سے وعدہ کیا کہ وہ بل نہیں لائیں گے ہماری غیر حاضری پر وہ بل منظور کرایا۔

یہ حرکت پارلیمنٹ کی تاریخ میں نہیں ہوئی۔ ہمارے اعتماد کو شدید ٹھیس پہچائی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن نے اس بحران پر بحث کیلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے ،قومی اسمبلی اجلاس کیلئے ریکوزیشن دی حکومت دو دن میں اجلاس بلائے۔ حکومت تنقید سے خائف نہ ہو پارلیمنٹ کا اجلاس فوری طلب کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ بحران پر ردعمل میں تاخیر نہیں کی ہم نے بروقت حکومت کو بحران بارے انتباہ کیا اس بحران کا واحد حل پارلیمنٹ میں ہے حکومت ہوش کے ناخن لے اور پارلیمنٹ کو عزت دے اور پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے خمیازہ بھی حکومت کو بھگتنا پڑھ رہا ہے ہم نے حکومت پر ہلکا ہاتھ نہیں رکھا۔

بھاری ہاتھ ہے سازش والی بات غیر حقیقت ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے اب تک جو بحران کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں ان سے مطمئن نہیں ہے۔ اصل ذمہ دار وزیراعظم ہے افسران کو معطل کرکے حکومت بہتر نہیں ہوسکتی ۔ ہم فرینڈلی اپوزیشن نہیں یہ الزام غلط ہے ہم نے مسائل کی نشاندہی کی ہے کیا ہم وزراء کو گھونسا ماریں ایوان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ بحران کی انکوائری سپریم کورٹ کے جج سے ہونی چاہیے۔

خورشید شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئین کے تحت وزیراعظم کو آنا جانا ہے اس قسم کے بحرانوں کے حل کیلئے عزم کی ضرورت ہے۔ جب ہمارے دور میں بحران آتے تھے تو ہم رات کو وزیراعظم سے مل کر فوری حل تلاش کرے ۔ اب وزراء اور وزیراعظم کے مابین کوآرڈینیشن نہیں ہے ہم نے مثبت اپوزیشن کی ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں فرنس آئل کا بحران بھی پیدا ہونے والا ہے کیونکہ پانی اور گیس کی کمی کے بعد تھرمل سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

وقت اشاعت : 21/01/2015 - 06:45:15

اپنی رائے کا اظہار کریں