امریکی بحری بیڑوں کو سمندر برد کر سکتے ہیں:ایران، امریکا ایران کا کچھ بھی نہیں ..
تازہ ترین : 1
امریکی بحری بیڑوں کو سمندر برد کر سکتے ہیں:ایران، امریکا ایران کا کچھ ..

امریکی بحری بیڑوں کو سمندر برد کر سکتے ہیں:ایران، امریکا ایران کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔ تہران کے خلاف واشنگٹن کی گیدڑ بھبھکیاں زبانی کلامی ہیں۔ عملا امریکا کے پاس پاسداران انقلاب کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں، نیول چیف ایڈمرل علی فدی

تہرا ن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20جنوری۔2015ء)ایران کی مسلح افواج کے نیول چیف ایڈمرل علی فدی نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ پاسداران انقلاب امریکا کے جنگی بحری بیڑوں کو سمندر میں غرق کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی نیول چیف نے ان خیالات کا اظہار خلیجی ریاست اومان کے ایک عسکری وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس نے گذشتہ روز ان سے نیشنل ملٹری کالج کے سربراہ جرل سالم بن مسلم بن علی قطن کی قیادت میں تہران میں ملاقات کی۔

اس موقع پر ایرانی نیول چیف مسٹرعلی فدی کا کہنا تھا کہ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس نے 13 ارب ڈالر خرچ کر کے اپنے بحری بیڑے ناقابل تسخیر بنا دیے ہیں لیکن امریکیوں کو یہ اندازہ نہیں کہ پاسداران انقلاب کی تیز رفتار آبدوزیں ہی امریکی بیڑوں کو سمندر میں غرق کرنے کے لیے کافی ہیں۔خبر رساں ایجنسی”فارس“ کے مطابق ایڈ مرل علی فدوی نے کہا کہ امریکا ایران کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ہے۔

تہران کے خلاف واشنگٹن کی گیدڑ بھبکیاں زبانی کلامی ہیں۔ عملا امریکا کے پاس پاسداران انقلاب کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہے۔خیال رہے کہ ایرانی نیول چیف کی جانب سے خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری بیڑوں کو سمندر برد کرنے کی دھمکی پہلی بار نہیں آئی بلکہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کی دھمکیاں سامنے آچکی ہیں جس میں ایرانی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ چند سیکنڈز میں امریکی بحری بیڑے کو سمندر میں ڈبو سکتے ہیں۔

حال ہی میں ایڈمرل فدوی نے اپنے ایک دوسرے بیان میں کہا تھا کہ امریکا کبھی نہیں چاہے گا کہ خلیج میں اس کے فوجی اڈوں پر ایک گولی بھی چلائی جائے کیونکہ امریکا خطے میں اپنے مفادات کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا ہے۔ایرانی پاسدارن انقلاب کے ڈپٹی چیف کرنل حسین سلامی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آواز سے تیز رفتارمیں سفر کرنے والے میزائل موجود ہیں جو لمحوں میں امریکی بحری بیڑوں کو تباہ کردیں گے۔

وقت اشاعت : 20/01/2015 - 09:03:30

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں