وزارت خزانہ بری الذمہ؟،پٹرول بحران حکومت کے خلاف گہری سازش ہے،ذمہ داروں کا تعین ..
تازہ ترین : 1
وزارت خزانہ بری الذمہ؟،پٹرول بحران حکومت کے خلاف گہری سازش ہے،ذمہ ..

وزارت خزانہ بری الذمہ؟،پٹرول بحران حکومت کے خلاف گہری سازش ہے،ذمہ داروں کا تعین کریں گے،وزیر خزانہ،وزیر اعظم تحقیقات کررہے ہیں ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہیے ،وزارت خزانہ نے پی ایس او کا ایک روپیہ بھی نہیں دینا،پٹرول سٹاک کیوں نہ کیا گیا؟ ،جاپان لاکھڑا پاور پلانٹ کیلئے85 کروڑ ڈالر دیگا،جاپانی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی،تحریک انصاف مان جائے تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن جائے گا ، پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20جنوری۔2015ء)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کو پٹرولیم بحران سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول بحران پیدا کر کے حکومت کے خلاف سازش کی گئی ،وزیر اعظم تحقیقات کررہے ہیں جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔وزارت خزانہ کے ذمے پی ایس او کا ایک پیسہ بھی نہیں، حکومت کا حصہ ہونے پر پیٹرول بحران پر بدانتظامی کا اعتراف کرتا ہوں۔

۔پٹرول بحران بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا۔پی ایس او کورقم فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔تحریک انصاف مان جائے تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن جائے گا،آئین و قانون کے اندر رہ کر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں،آج یا کل جہانگیر سے ملوں گا۔لاکھڑا پاور پلانٹ کیلئے جاپان 85 کروڑ ڈالر فراہم کریگا۔جاپانی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی جو انہوں نے رضامندی ظاہر کی ۔

پاکستان اور جاپان کے درمیان مئی میں سٹرٹیجک ڈائیلاگ ہوں گے۔جاپان پاکستان میں سرمایہ کاری کو بڑھانا چاہتاہے۔ پیر کویہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پٹرول بحران سے متعلق جتنی باتیں کی گئیں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں ۔پٹرول بحران پیدا کر کے حکومت کے خلاف سازش کی گئی ۔وزیر اعظم پٹرول بحران پر تحقیقات کررہے ہیں ۔

جو بھی ذمہ دار ہوگا سزاضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے ۔ وزارت خزانہ نے پی ایس او کی کوئی ایل سی نہیں روکی اور نہ ہی پی ایس او نے رقم سے متعلق کوئی کلیم نہیں کیا ۔وزارت خزانہ کا پی ایس او کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایس او کو رقم فراہم کرنا اولین ترجیح ہے ۔

پانی و بجلی کے تمام کلیمز ادا کر چکے ہیں ۔وزارت نے پی ایس او کا ایک روپیہ بھی نہیں دینا۔پانی وبجلی کو تیل فراہم کرنا پی ایس او کی ذمہ داری ہے ۔تمام باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں اور جھوٹ کا پلندا ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جنہوں نے پٹرول کا سٹاک نہیں رکھا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔شپنگ کارپوریشن کا جہاز تیل لینے کیوں نہیں گیا۔ پٹرول بحران بدانتظامی کی وجہ سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں40 فیصد کمی ہوئیں مگر مطلوبہ ذخیرہ نہیں رکھا گیا۔ آئل ذخیرہ نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی پی پیز بحران کے حوالے سے غلط بیان کی گئی ۔آئی پی پیز کو تمام کلیز ادا کر چکے ہیں اور ان کا آڈٹ بھی ہو چکا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ جاپان لاکھڑا پاور پلانٹ کے لئے 85 کروڑ ڈالر فراہم کریگا۔دورہ جاپان سے دو طرفہ تعلقات کو فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔دورے کے دوران جیٹرو کے تعاون سے پاکستان سے متعلق کانفرنس منعقد کی گئی ۔جاپانی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی جو انہوں نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔جاپان پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے دلچسپی رکھتا ہے اور انہوں نے بحران کے خاتمے کے لئے تجاویز بھی دیں ۔

انہوں نے کہا کہ جاپان کے ساتھ پرانے تمام ترقیاتی منصوبے شروع کررہے ہیں۔جاپان کی مدد سے پاکستان میں جلد موٹر سائیکل پلانٹ کام کرے گا۔ جاپانی بینک انٹرنیشنل پاکستانی معیشت سے مطمئن ہے ۔انہوں نے کہا کہ مئی میں جاپان اور پاکستان کے درمیان سٹرٹیجک ڈائیلاگ شروع ہوں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹوکیو میں جمعہ کے روز تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا خط ملا تھا ۔

تین چار مرتبہ رابطہ بھی ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قانون و آئین کے اندر رہ کر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔آج یا کل جہانگیر ترین سے ملوں گا۔آئین و قانون کے باہر کوئی بات قبول نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اگر مان گئی تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارت پانی و بجلی کے واجبات کی ادائیگی ہماری پہلی ترجیح ہے، وزارت خزانہ تیل کی خریداری کی ذمہ دار نہیں، پی ایس او کی نادہندگی کی ذمہ داری بھی وزارت خزانہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

پٹرولیم بحران میں رقم کی فراہمی کا کوئی معاملہ نہیں، وزارت خزانہ پی ایس او کا ایک روپے کی بھی مقروض نہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ کسی بھی شعبے میں کوئی غفلت یا بدانتظامی کا ذمہ دار اس کا براہ راست اس کا سربراہ ہوتاہے۔ پیٹرول کے بحران میں بدانتظامی ہوئی ہے، تیل کی کمپنیوں نے تیل کا ذخیرہ نہیں رکھا، جن اداروں نے ذمہ داری پوری نہیں کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

وزیر پیٹرولیم اس بحران سے متعلق تمام ریکارڈ جمع کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بحران کے ذریعے حکومت کے خلاف گہری سازش ہوئی ہے جس کا جلد از جلد پتہ لگانا چاہیے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ اس وقت بجلی کی مد میں قوم کو 480 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ ہمیں اپنے خسارے پر قابو پانا ہوگا۔ ہمیں ترقیاتی منصوبے ختم کرکے سبسڈی دینے کی روش کو ختم کرنا ہوگا۔ بجلی کے سرکلر ڈیٹ کی مد میں دی جانے والی تمام رقم کا ریکارڈ موجود ہے۔

وقت اشاعت : 20/01/2015 - 09:04:59

اپنی رائے کا اظہار کریں