ریحام خان جھوٹا الزام لگانے پر مجھ سے معافی مانگیں، ڈاکٹر اعجاز، شادی بعد میں ..
تازہ ترین : 1

ریحام خان جھوٹا الزام لگانے پر مجھ سے معافی مانگیں، ڈاکٹر اعجاز، شادی بعد میں نے ریحام اور اپنے بچوں کا ہمیشہ خیال رکھا، سابق شوہر

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19جنوری۔2015ء ) عمران خان کی اہلیہ ریحام خان کے سابق شوہر ڈاکٹر اعجاز رحمان نے گھریلو تشدد اور سختی کرنے کے الزامات پر اپنی سابق اہلیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔برطانوی اخبار کے مطابق ریحام خان کے سابق شوہر ڈاکٹراعجاز رحمان کا کہنا ہے کہ ریحام کی جانب سے دوسری شادی کے بعد مجھ پر گھریلو تشدد اور ازدواجی رشتے کے دوران سختی کرنے کے الزمات عائد کرنا دراصل میرے کردار اور شخصیت کو بدنام کرنے کی سازش ہے لہذا ایسا کرنے پر ریحام خان ایک ہفتے کے اندر اندر سب کے سامنے مجھ سے معافی مانگیں۔

ڈاکٹر رحمان کا کہنا تھا کہ ریحام خان جانتی ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ سچ نہیں ہے اور اب میں ان الزامات کا جواب دے کر کسی پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہتا لیکن اگر ریحام نے سچائی بیان نہ کی تو میں اپنا دفاع ضرور کروں گا۔ ریحام خان کی جانب سے طلاق کے بعد بے یارو مدد گار چھوڑنے کے الزام پر ڈاکٹر رحمان نے کہا کہ میں نے ریحام اور اپنے بچوں کا ہمیشہ خیال رکھا لیکن شادی کے بعد ریحام خان نے یہ الزامات محض اس لئے لگائے تاکہ وہ اپنے مخالفین کی ہمدردی حاصل کرسکیں۔

اس سے قبل ایکسپریس ٹریبیون کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر رحمان نے تشدد کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جھوٹ اور من گھڑت ہے میں نے کبھی بھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کبھی کسی بھی قسم کیگھریلو تشدد میں ملوث رہا، ریحام سے شادی بعد میں نے ہمیشہ ان کی اور بچوں کی دیکھ بھال اچھے انداز میں کرتے ہوئے انہیں ہر قسم کی پرتعیش زندگی کی سہولت فراہم کی اور انہیں ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔

ڈاکٹر رحمان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں گھریلو تشدد ایک سنجیدہ مجرمانہ کارروائی ہے جس پر سزا ہوسکتی ہے جب کہ میں لندن میں این ایچ ایس میں ایک اہم عہدے پر کام کرتا ہوں اور اگر میں کسی بھی قسم کے گھریلو تشدد میں ملوث ہوتا تو مجھے پریکٹس سے روک دیا گیا ہوتا، برطانیہ میں کرمنل ریکارڈ بیورو ہر سال جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹرز کو کلیئر قرار دے کر پریکٹس کی اجازت دیتے ہیں جب کہ میرا تمام ریکارڈ صاف ہے۔

وقت اشاعت : 19/01/2015 - 06:54:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں