فلسطینی ریاست کی حمایت کا جرم،اسرائیل کا سویڈن کی وزیر خارجہ کو دورہ کی اجازت ..
تازہ ترین : 1

فلسطینی ریاست کی حمایت کا جرم،اسرائیل کا سویڈن کی وزیر خارجہ کو دورہ کی اجازت دینے سے انکار، فلسطین کی حمایت واپس یا سویڈن میں حکومت ہی تبدیل کر دی جائے،اسرائیل کا مطالبہ

اسٹاک ہوم(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔18جنوری۔2015ء)اسرائیل نے یورپی ملک سویڈن کی وزیرخارجہ مارگوٹ فالسٹروم کو فلسطینی ریاست کی حمایت کی پاداش میں اپنے ہاں دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کی حمایت واپس لی جائے یا سویڈن میں حکومت ہی تبدیل کر دی جائے۔ اسرائیل اس سے قبل بھی سویڈن کی طرف سے خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت پر اسٹاک ہوم سے سخت احتجاج کرچکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سویڈش وزیرخارجہ مسز مارگوٹ فالسٹروم کو تل ابیب میں دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کو نازیوں کے مظالم س بچانے والے سویڈیش سفارت کار ’راوول والین باری ‘کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں مدعوکیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا کہ سویڈش وزیرخارجہ کو تل ابیب دورے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

دونوں ملکوں کے حکام کی جانب سے دورہ کی منسوخی کی الگ الگ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ اسرائیلی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدارایمانویل نوکشن نے سویڈش ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن کی وزیرخارجہ کو اسرائیل میں کسی سرکاری تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں نہ تو وزیرخارجہ سے ملنا تھا اور نہ ہی وزیراعظم سے ان کی ملاقات کا کوئی شیڈول طے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سویڈن نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسٹاک ہوم کے طرزعمل کو ہم دوستانہ نہیں کہہ سکتے۔ان کا اشارہ سویڈن کی جانب سے فلسطینی ریاست کی حمایت کی طرف تھا۔ ادھر دوسری جانب سویڈش وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ فالسٹروم کے دورہ اسرائیل کی منسوخی ان کی ملاقاتوں کا شیڈول طے نہ ہونے کے باعث ہوئی ہے۔

قبل ازیں سویڈش وزارت خارجہ کے سیکرٹری اریک بومان کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ کا دورہ اسرائیل منسوخ نہیں ملتوی ہوا ہے اور اس کا دونوں ملکوں کے درمیان ناراضی یا کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے حکام سے ملاقاتوں کا شیڈول طے نہ ہونے کی وجہ سے دورہ ملتوی کیا گیا ہے۔ نیز وزیرخارجہ اسرائیل کی نئی حکومت کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتی ہیں اور وہ سترہ مارچ کے انتخابات کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

دوسری جانب اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے ایک اسرائیلی سفارت کار کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ تل ابیب اور اسٹاک ہوم کی ایک دوسرے سے شکایات اب بھی قائم ہیں۔ ان شکایات کو دور کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ سویڈن فلسطینی ریاست کی حمایت پر اسرائیل سے معافی مانگے اور دوسرا یہ کہ سویڈن میں حکومت تبدیل کی جائے اور نئی حکومت کے ساتھ اسرائیل اپنے تعلقات بہترکرسکتا ہے۔

سویڈش میڈیا کے مطابق اسٹاک ہوم کی طرف سے فلسطینی ریاست کی حمایت پراسرائیل سے معافی مانگنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کم ازکم موجودہ حکومت اپنی باقی ماندہ ساڑھے تین سالہ مدت میں معافی نہیں مانگے گی۔ سویڈش وزیرخارجہ مارگوٹ فالسٹروم اسرائیل کی نئی حکومت سے ملاقات کی خواہش مند ہیں۔ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سر پرہیں۔ ایسے میں سویڈن تل ابیب سے مزید بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہتا ہے۔

سویڈن میں اسرائیل کی زیادہ طرف داری کرنے والی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے رہ نما یان بیور کلونڈ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں چاہے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت ہو یا دائیں بازو کی جماعتیں برسراقتدارہوں اسٹاک ہوم کے فلسطین کے بارے میں موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ تاہم مسٹر کلونڈ نے موجودہ حکومت کی پالیسی کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے باب میں یکسانیت پیدا نہیں کرسکی ہے۔

وقت اشاعت : 18/01/2015 - 08:53:38

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں