عدالتی احکامات کے باوجود سی ڈی اے اہلکاروں نے 13ہزار سے زائد کنال سرکاری مقبوضہ ..
تازہ ترین : 1

عدالتی احکامات کے باوجود سی ڈی اے اہلکاروں نے 13ہزار سے زائد کنال سرکاری مقبوضہ زمین خالی کروانے کی بجائے اربوں روپے مالیت کی مزید زمینوں پر قبضہ کروا دیا،ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ کی آشیرباد سے نالوں کا رخ موڑ کر سینکڑوں کنال زمین غیر قانونی طور پر امراء کے حوالے ،شہریوں کی زمینوں کی بازیابی اور کرپٹ افسروں کو کٹہرے میں لانے کیلئے سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی اپیل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔15جنوری۔2015ء)سپریم کورٹ کے احکامات پر سی ڈی اے کے اہلکاروں نے 13ہزار سے زائد کنال پر مشتمل سرکاری مقبوضہ زمین خالی کروانے کی بجائے اربوں روپے مالیت کی مزید زمینوں پر قبضہ کروا دیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ کی آشیرباد سے نالوں کا رخ موڑ کر سینکڑوں کنال زمین غیر قانونی طور پر امراء کے حوالے کردی گئی۔

شہریوں نے زمینوں کی بازیابی اور کرپٹ افسروں کو کٹہرے میں لانے کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی اپیل کردی۔سید نجم الحسن نامی شہری کی طرف چیف جسٹس آف پاکستان کو درخواست دی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجود سی ڈی اے نے ابھی تک بااثر لوگوں سے سرکاری زمین واگزار نہیں کروائی البتہ سی ڈی اے شعبہ انوائرنمنٹ کے ایک رینج آفیسر اعجاز الحسن نے اپنے افسران کی آشیرباد سے پوش سیکٹروں کے قیمتی پلاٹ اونے پوے داموں بااثر لوگوں کا قبضہ کروا دیا۔

رینج آفیسر اعجاز الحسن جو کہ اس وقت کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک بن چکے ہیں۔گریڈ سولہ میں ہونے کے باوجود وہ مبینہ فارم ہاؤس کے مالک ہیں۔رینج آفیسراعجاز الحسن نے ای الیون کے جنگل کو صاف کرکے زمین پر مقامی لوگوں کا قبضہ کروا دیا اور خود تمام قیمتی لکڑ فروخت کرکے رقم خود بھی رکھی اور افسران کا مبینہ حصہ بھی پہنچایا ۔یہاں پر بھی نالے کا رخ موڑ دیا گیا۔

اسی طرح ایف الیون میں بھی قدرتی نالے کا رخ موڑ کر4کنال قیمتی زمین ایک بااثر شخص کے حوالے کردی اور اس زمین کی کم وبیش قیمت30 کروڑ روپے تھی جبکہ ایف الیون ون میں نالے کے ساتھ ساتھ موجود40قیمتی پلاٹوں پر بھی ملی بھگت سے قبضہ کروایا گیا۔سی ڈی اے شعبہ پلاننگ کے مطابق ان پلاٹوں کی اصل قیمت دو ارب روپے سے بھی زیادہ تھی۔رینج آفیسر اعجاز الحسن نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کے بہت قیمتی سیکٹر ایف ایٹ ون کی گلی نمبر33 میں نالے کے قریب سی ڈی اے کھوکھے کے ساتھ50کنال کے قریب سرکاری زمین کو مبینہ طور پر فی کس15سے 20لاکھ روپے لیکر قریبی رہائیشیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا اور ایک معروف سیاسی خاتون سمیت اس گلی کے اکثر رہائشیوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور اس زمین کی قیمت بھی دو ارب روپے سے زیادہ تھی۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سی ڈی اے انوائرنمنٹ کا اصل کام وفاقی دارالحکومت کے ماحول کو آلودگی سے پاک بنانا اور مزید شجرکاری کے ذریعے ماحول کو خوبصورت اور پر فضا بنانا ہے مگر اعجاز الحسن نے نہ صرف سرکاری زمینوں پر بااثر لوگوں کے مبینہ قبضے کروائے بلکہ کم وبیش ایک ہزار سے زائد درخت بھی کٹوا کر فروخت کروادئیے۔سی ڈی اے کی چھاپہ مار ٹیم کے کچھ اہلکاروں نے ڈپٹی ڈی جی انوائرنمنٹ افتخار اعوان کو ان قبضوں کی بات شکایت کی تو افتخار اعوان نے فوری طور پر موقع پر قبضے دیکر اعجاز الحسن کیخلاف ڈی جی انوائرنمنٹ شیخ سلیمان کو ایکشن کیلئے استدعا کی اور کہا کہ اسے فوری طورپر معطل کیا جائے اور تمام قبضوں کی شفاف انکوائری کروائی جائے۔

رینج آفیسر اعجاز الحسن کیخلاف کارروائی کرنے کی یہ سمری گزشتہ برس 30جنوری2014ء کو کی گئی تھی لیکن اعجاز الحسن نے اپنے تعلقات کی بناء پر فائل کو سرد خانے میں رکھوا دیا۔اسی عرصہ میں اعجاز الحسن نے سیونتھ ایونیو کے بالکل قریب واقع پلاٹ38سیکٹر ایف سکس ٹو کے ساتھ والی4کنال زمین پر قبضہ کروایا اور خود اس معاملے سے دور ہوگئے،البتہ نشاندہی ہونے پر سی ڈی اے انفورسٹمنٹ نے یہ تعمیرات رکوا دیں،مگر شعبہ انوائرنمنٹ نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا اور چےئرمین آفس بھی مکمل خاموش رہا۔

خبر رساں ادارے کی طرف سے مؤقف جاننے کیلئے ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ ڈاکٹر شیخ سلمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمام معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اور ہم نے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز بھی کردیا ہے جو بھی ذمہ دار ہوگا وہ نہیں بچ پائے گا اگر سپریم کورٹ مجھے طلب کرے گی تو میں پورا ریکارڈ وہاں پیش کردوں گا،میں نے کسی کیخلاف انکوائری رپورٹ نہیں دبائی،البتہ میں اتنا ضرور کہوں گا کہ زمینوں کے قبضے چھڑانا شعبہ انفورسٹمنٹ کا کام ہے اور اگر انوائرنمنٹ کے کسی ملازم نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو وہ بچ نہیں سکے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی ملازم اپنا متوازی نظام قائم کرلے ہم اسکو بہت باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔

وقت اشاعت : 15/01/2015 - 08:00:45

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں