این اے122،دوبارہ گنتی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا،عمران خان،ہمارا موقف ..
تازہ ترین : 1
این اے122،دوبارہ گنتی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا،عمران خان،ہمارا ..

این اے122،دوبارہ گنتی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا،عمران خان،ہمارا موقف سچ ثابت ہوا ،بڑے پیمانے پر دھاندلی ثابت ہوگئی،30 ہزار سے زائد ووٹ بوگس نکلے،فارم14 اور15 کا ریکارڈ موجود ہی نہیں تھا،بیگز پر این اے 122 کی جگہ این اے124لکھا تھا،کچھ بیگز سے صوبائی اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کئے گئے ، سربراہ عمران خان،کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد سپیکر ایاز صادق کو استعفیٰ دینا پڑے گا، شیری مزاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء)پاکستا ن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 122 کی جانچ پڑتال سے دودھ کا ددوھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ہمارا موقف سچ ثابت ہوا ہے۔بڑے پیمانے پر دھاندلی ثابت ہوگئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران30 ہزار سے زائد ووٹ بوگس نکلے ہیں اورکچھ بیگز پر این اے122 کی جگہ این اے124 لکھا ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ فارم 14 اور15 کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ بیگوں میں صوبائی اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کئے گئے ہیں ۔عمران خان مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر انتخابات کی جانچ پڑتال کی جائے ۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے این اے 122میں انتخابی دھاندلی سے متعلق مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے بیانات کو جھوٹ اور لغو قرار دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکزی میڈیا سیل سے جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کے افواہ ساز حلقہ 122میں کیے جانے والے انتخابی فراڈ سے متعلق قوم سے مسلسل جھوٹ بولنے میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بے بنیاد پراپگینڈہ کرنے والے مسلم لیگی رہنما یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ این اے 122میں آڈٹ کی بجائے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جا رہی ہے اور ایاز صادق کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حلقے میں ڈالے جانے والے جعلی ووٹوں کی شناخت کیلئے ووٹ آڈٹ کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق اب تک کیے جانے والے آڈٹ میں ان 30ہزار جعلی ووٹوں کی شناخت کی جا چکی ہے جن کے بارے میں مسلم لیگ نواز کا دعوی ہے کہ یہ ایاز صادق کو ملنے والے ووٹ ہیں۔ ان کامزید کہنا ہے کہ 284پولنگ اسٹیشنز میں سے 100میں فارم 14اور15سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ این اے 122کے انتخابی ریکارڈ میں سے این اے 124کے تھیلے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ این اے 122میں ووٹ آڈٹ کے دوران بڑے پیمانے پر بغیر ریکارڈ (Counter Foils)ووٹ بھی برآمد ہوئے ہیں جن کے ذریعے گیارہ مئی 2013کو ڈبے بھرے گئے۔

اپنے بیان میں تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے تک این اے 122کا آڈٹ مکمل ہو جائے گا چنانچہ ایاز صادق دھاندلی بے نقاب ہوتے ہی مستعفی ہونے کی تیاری کریں۔

وقت اشاعت : 04/01/2015 - 10:52:33

اپنی رائے کا اظہار کریں