آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کے بل قومی اسمبلی میں ..
تازہ ترین : 1
آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کے بل قومی ..

آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کے بل قومی اسمبلی میں پیش کردئیے گئے، پیر کو منظور کرائے جانے کا امکان،بل کے تحت دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کے لئے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی،دونوں بل وزیر قانون نے اسمبلی کے اجلاس میں پیش کئے،کسی نے مخالفت نہ کی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4 جنوری۔2015ء) قومی اسمبلی کے ایک مختصر اجلاس میں آئین میں 21 ویں ترمیم کا بل اور پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل پیش کردئیے گئے جو پیر کو منظور کرائے جانے کا امکان ہے اور اس کے بعد انہیں سینٹ میں منظوری کے لئے بھیجا جائے گا ،بل کے تحت دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کے لئے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

یہ بل وزیر قانون پرویز رشید نے ہفتہ کو اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا‘ سپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں وزیراعظم محمد نوازشریف بھی خصوصی طورپر شریک ہوئے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پرویز رشید نے پہلے آئین میں 21 ویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی کے قواعد 288 اور 122 کے تحت ایوان میں پیش کیا جس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے اس پر ایوان کی رائے لی تو تمام ارکان نے اس کے حق میں رائے دی اور کسی نے مخالفت نہیں کی اس طرح یہ بل ایوان میں پیش کردیا گیا اس کے بعد وزیر قانون پرویز رشید نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل پیش کرنے کیلئے تحریک پیش کی اور اس کی منظوری کے بعد قواعد 288 اور 122 کے تحت پاکستان آرمی ایکٹ 1952میں ترمیم کا بل پیش کیا اس پر بھی سپیکر نے ایوان کی رائے لی تو تمام ارکان نے اس کے حق میں آواز بلند کی اور کسی نے مخالفت نہیں کی جس پر یہ بل بھی ایوان میں پیش کردیا گیا۔

دونوں بل پیش ہونے کے بعد سپیکر نے فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو شام 4 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ توقع ہے کہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں 21 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری حاصل کی جائے گی اور اسی طرح آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی منظور کرایا جائے گا۔ 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت 2 سال کیلئے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی جو دہشت گردوں کیخلاف مقدمات کی سماعت کریں گی۔

یہ عدالتیں فوجی افسران کی سربراہی میں قائم کی جائیں گی۔ دوسری جانب آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے فوج کی کارروائیوں کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا تاکہ وہ دہشت گردوں کیخلاف مزید موثر اقدامات کرسکیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت گذشتہ روز تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے مطابق قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کئے گئے ہیں۔

وقت اشاعت : 04/01/2015 - 10:42:47

اپنی رائے کا اظہار کریں