قومی اسمبلی ، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی سانحہ پشاور کی شدید مذمت، دہشتگردی کو ..
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی ، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی سانحہ پشاور کی شدید مذمت، دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ ، سانحہ پشاور ایسا المیہ ہے جس نے پوری قوم کو متحد کردیا ، ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا ، کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ سے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی، عمر ایوب خان، الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا،2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے ،عبدالوسیم ، ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، شیر اکبر خان ،پشاور واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا، دیکھا جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے، عائشہ سید کا سانحہ پشاور رپر بحث کے دوران اظہار خیال ،قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح دس بجے دوبارہ ہو گا

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3 جنوری۔2015ء ) قومی اسمبلی میں حکومتی و اپوزیشن اراکین کی جانب سے جمعہ کو بھی سانحہ پشاور کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی مکمل انکوائری کر ا کے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ، مسلم لیگ (ن) کے عمر ایوب خان نے کہا کہ سانحہ پشاور ایسا المیہ ہے جس نے پوری قوم کو متحد کردیا ، وقت کی ضرورت ہے ہم قومی مفاد کو ترجیح دیں ہمیں اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی ہوگی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے راستے کا تعین کرنا ہوگا آرمی پبلک سکول سانحہ کو صرف مذمت تک نہیں رہنا چاہیے ساری قوم بے حس ہو چکی ہے سکیورٹی اداروں کا احتساب کرنا ہوگا ،حکومت کو بھی خود اپنا احتساب کرنا ہوگا،کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ کے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی،ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے کہا قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا،2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے ، جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے کہا کہ ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے، عائشہ سید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا اور وہاں پر دیکھا کہ جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے۔

اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو آدھا گھنٹہ تاخیر سے سپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا اس موقع پر ایم این اے شائستہ پرویز کی والدہ کی وفات پر امین الحسنات نے دعا کرائی۔ سانحہ پشاور پر جاری بحث کے آغاز میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے عمر ایوب خان نے کہا کہ ایسا المیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہے اور جس طرح دہشتگردوں نے درندگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ملک متحد ہوگیا ہے میرے آبائی گاؤں میں بھی آرمی پبلک سکول کے نونہال کو سپرد خاک کیا گیا جس کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا اب ہمیں ہر حالت میں اقدامات اٹھانے ہونگے ۔

وزیراعظم نواز شریف نے سینٹ میں بالکل ٹھیک تقریر کی ہم اراکین سے قوم پوچھتی ہے کہ کیا دہشتگردوں کو ہلاک کیا جائے گا یا نہیں ملٹری کورٹس پر قوم کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردوں کو صحیح سزائیں دی جائینگی ایک لاکھ دہشتگردوں کو پھانسی دینے سے مسائل حل نہیں ہوسکتے قومی مسئلے کو حل کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ایک جامع حل تلاش کرنا ہوگا ملک میں دہشتگردی افغان جنگ سے آئی ہے وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں قومی مفاد کو ترجیح دیں ہمیں اپنے قوانین پر نظر ثانی کرنی ہوگی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے راستے کا تعین کرنا ہوگا آرمی پبلک سکول سانحہ کو صرف مذمت تک نہیں رہنا چاہیے ساری قوم بے حس ہو چکی ہے سکیورٹی اداروں کا احتساب کرنا ہوگا کہ انہوں نے سستی کا مظاہرہ کیوں کیا،حکومت خود اپنا احتساب کرنا ہوگا پولیس آئی بی اور انٹیلیجنس اداروں سے کسی بھی دہشتگردی کے واقع کے متعلق اوپن جواب طلبی کرنی ہوگی تب قوم مطمئن ہوگی۔

ایم این اے عائشہ سید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا اور وہاں پر دیکھا کہ جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے حوالے سے جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن قائد ایم کیو ایم الطاف حسین نے دہشگردوں سے پہلے آگاہ کردیا تھا اور اب ہم ملٹری کورٹس اور الیکشن پلان بنارہے ہیں لیکن پچھلے ادوار میں دہشتگردوں کی مکمل فیور کی گئی اور 2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا لیکن فائل کچھ نہیں ہوا دہشتگردوں نے مزید سکولوں پر حملے کی دھمکی دیدی ہے اور اگر سانحے میں ہمارے بچے دہشتگردی کا شکار ہوگئے تو پھر ہماری کیفیت کیا ہوگی 143 بچوں کی شہادت کے بعد ہمیں ایک قوم بننے کا خیال آیا لیکن یہ دہشتگردی تو ایک دہائی سے چلی آرہی ہے ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا اور یک زبان ہوکر ایک فیصلہ کرنا ہوگا ۔

جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سولہ دسمبر کا سانحہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس سانحہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں کیونکہ ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ ہے اس لئے اس مسئلے پر سب جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے ہمیں ایوان کی بالادستی کا کہا جاتا ہے لیکن ہم لوگوں کے پاس کیا اختیارات ہیں عوام کے جان ومال کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔

ہمارے ملک میں کرپشن دوسرا بڑا مسئلہ ہے جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی اس وقت ملک میں امن نہیں ہوگا ہمیں اپنے اوپر دوسروں کی جنگ مسلط نہیں کرنی چاہیے ہم امریکہ کے اتحادی ہیں ہمیں امریکی پالیسیوں اور اتحاد سے نکلنا ہوگا جب تک انتظامیہ عدلیہ ، مقننہ اور عسکری قیادت سر جوڑ کر نہیں بیٹھے گی اس وقت تک امن نہیں ہوگا ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا امیر زمان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کی مذمت کرتا ہوں جب تک جس ملک میں امن نہیں ہوگا اس ملک میں کوئی کاروبار نہیں ہوسکتا ملک میں اتنی دہشتگردی کے بعد آج سیاسی اور عسکری قیادت وزیراعظم ہاؤس میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں دینی مدارس میں اچھی تعلیم دی جاتی ہے کالے شیشے والی گاڑیوں میں دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے پاکستان کو امریکہ کی جنگ سے نکلنا ہوگا ورنہ افغانستان اور پاکستان میں بہت خون ریزی ہوگی یہاں پر کچھ لوگوں کے کتے مکھن کھاتے ہیں اور کچھ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں آج کی فوجی عدالتیں خود حکومت کے گلے میں پڑ جائینگی ۔

مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی جلیل جارج نے کہا کہ دہشتگردوں نے پشاور چرچ ، پشاور سکول سمیت واہگہ بارڈر پر دہشتگردی کی اور ہم نے اب تک دہشتگردوں سے بات چیت کی کوشش نہیں کی لیکن انہوں نے اسے ہماری کمزوری سمجھا لیکن اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف تمام شہیدوں کے خون کا حساب لینے کیلئے نکلے ہیں کرسچن کمیونٹی کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے سانحہ پشاور پر کرسمس کو نہایت سادگی سے منایا جس طرح شہیدوں نے تمام قوم کو یکجا کیا وہ بے مثال ہے اور اب اس یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے ۔

ایم کیو ایم کی کشور زہرہ نے کہا کہ ہم سانحہ پشاور کے بعد بھی سبق حاصل نہیں کرسکے یہاں پر ایوان میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے 2009ء میں صوفی محمد سے معاہدہ کرایا اہل تشیع کو مارنا اور ہزارہ کے لوگوں کو چن چن کر مارنا ایک بہت بڑی علامت ہے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بھی پکڑ پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے پورے ملک سے دہشتگردی کو ختم کرکے امن کا گہوارہ بنانا ضروری ہے ۔

ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کی طرح دوسرے کے بچوں کو بھی سمجھنا ہوگا آرمی پبلک سکول کے واقع پر ہم اکھٹے ہو گئے کیا اب ایکشن ہونا چاہیے اور وفاقی حکومت کو سراہتا ہوں کہ انہوں نے دہشتگردی کے واقع پر سر جوڑ کر بیٹھے دہشتگردی کے واقعات میں جو بھی جاں بحق ہوتا ہے اس کی ذمہ دار جتنا وفاقی حکومت ہوتی ہے اتنی ہی ذمہ دار حکومت بھی ہے آج کراچی میں چوتھا بڑا آپریشن ہورہا ہے اور لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے مگر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی بجائے عام لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر مار کر پھینک دیا جاتا ہے ۔

لال مسجد میں جب دہشتگردی ہوئی تو اس مسجد کے امام کو ٹی وی چینلوں پر بیٹھا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ دہشتگردی ہے جسے وقت نے بعد میں ثابت کردیا تھا ۔ مولانا عبدالعزیز کے مدرسے سے دہشتگردی ہورہی ہے اور جن لوگوں نے کہا کہ یہ بہت زیادتی ہوئی تو ان کا آج احتساب نہیں ہوا ۔ جماعت اسلامی کی عائشہ سید نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقع نے پوری قوم کو رلا کر رکھ دیا اور وہاں پر دیکھا کہ جو پھول جنازوں پر ہوتے ہیں اپنے پھولوں کے جنازے اٹھائے جارہے تھے اور بہت سارے گھر ایسے تھے جہاں پر دو بچے اور کسی گھر میں صرف ایک بچے کا جنازہ نکلا اور بعض ماؤں نے اپنے لخت جگر کی اپنے گھروں میں قبریں بنائیں آرمی ہیڈ کارٹر کے حملے کے بعد سوچا کہ قوم اور ادارے جاگ جائیں گے مگر جنازوں پر جنازے اٹھائے جارہے ہیں سولہ دسمبر ہمارے ملک کیلئے بلیک ڈے اور سقوط ڈھاکہ ہے جس پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہم حلف اور قانون سازی کرتے ہیں تو ہمیں اب کا جاگنا ہوگا اور اگر یہ ادارہ فنکشنل نہ ہوا تو پھر دوسرے ادارے بھی فنکشنل نہیں ہوسکیں گے جب تک آزادنہ پالیسیاں نہیں بناتے اس وقت تک ملک میں امن ممکن نہیں ۔

جے یو آئی (ف) کی عالیہ کامران نے کہا کہ سانحہ سولہ دسمبر بہت تکلیف دہ تھا سانحہ پشاور کے شہداء صرف امر نہیں بلکہ قومی ہیرو بن گئے ہیں ہمیں ایسے واقعات کا تدارک کرکے ملک وقوم کو عذاب سے نکالنا ہوگا ۔ پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے عبدالقہار زمان نے کہا کہ سانحہ پشاور پہلا دہشتگردی کا واقعہ نہیں اس پر سوچنا ہوگا کہ ہمارا ملک دہشتگردی کی آماجگاہ بن رہا ہے اس کو کیسے بچایا جائے اس وقت تمام سیاسی جماعتو ں کو مذہب قوم سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا اب تک پچیس لاکھ پشتون شہید ہوئے پشتون بالکل دہشتگد نہیں ہیں دہشتگرد ہمارے غلط پالیسیوں کے باعث معرض وجود میں آئے دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے صرف فوجی آپریشن کافی نہیں بلکہ پولیس اور لیویز کے پاس سب ریکارڈ موجود ہیں ان کو بھی فعال کرنا ہوگا ۔

غلط لوگوں کے شناختی کارڈز کے حوالے سے ہماری ایجنسیوں کو اچھی طرح معلوم ہے جبکہ ایک لاکھ پشتونوں کے شناختی کارڈ آج بھی بلاک ہیں ۔ فنکشنل لیگ کے شاہ جہاں منگریو نے کہا کہ امن وامان صوبے کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن پھر صوبہ کہتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں اور وفاق بھی کہتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر نظام بنانا ہوگا ہمیں غیر ذمہ داریوں کو تبدیل کرکے ملک وقوم کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔

مسلم لیگ (ن) کے عبدالغفار ڈوگر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں بڑے حادثے ہوئے اور سانحہ پشاور نے پوری قوم کوہلا اور رولا کر رکھ دیا جب ہماری ایجنسی کو وقعہ کاپتہ نہیں ہے تو پھر کیوں سانحہ وقوع پذیر ہوجاتا ہے اس پر سوچنا ہوگا پاک فوج کے بچوں کو چن چن کر مارنا دہشتگردوں کی طرف سے ایک پیغام ہے اس پر پوری قوم کو سوچنا ہوگا وزیراعظم نواز شریف کے دہشتگردی کے خلاف اقدام کو سراہتا ہوں آئی ڈی پیز خودار قوم ہیں تمام پشتون دہشتگردوں کے ساتھ نہیں ملے ہوئے اور ان میں بہت سے لوگ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں آئی ڈی پیز کو گھروں میں واپس بھیجا جائے تاکہ ان کے دلوں میں بدگمانیاں نہ پھیلائی جائیں،قبل ازیں فاٹا سے آزاد رکن قومی اسمبلی شاہ گل آفریدی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ فاٹا میں عوام کی طرف سے ایک نمائندہ ہوتا ہے اور فاٹاکے لوگوں کو اسی ایم این اے پر یقین ہوتا ہے کہ وہ تمام کام کرے گا مگر 1947ء کی آزادی کے بعد قبائلی لوگوں کو تاحال آزادی نصیب نہیں ہوئی گورنر خیبر پختونخواہ کسی حوالے سے بھی مشورہ نہیں کرنا اور فاٹا میں برٹش حکومت والے پرانے رولز ہیں ہم بدقسمتی سے ملک پر جان تو قربان کرتے ہیں لیکن ہماری آواز نہیں سنی جاتی ہے جس کے باعث ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں ۔

بعد ازاں اسمبلی کا اجلاس آج ہفتہ کو صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔

وقت اشاعت : 03/01/2015 - 10:12:29

اپنی رائے کا اظہار کریں