قومی اسمبلی میں وزیرداخلہ کا سانحہ پشاور پر پالیسی بیان نہ آنے پر اپوزیشن جماعتوں ..
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی میں وزیرداخلہ کا سانحہ پشاور پر پالیسی بیان نہ آنے پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج،حکومتی بنچوں پر صرف ”معصوم وزیر“ شیخ آفتاب ہیں،ایسی غیر سنجیدگی کے عالم میں اجلاس کی کارروائی نہیں چل سکتی،اجلاس ملتوی کیا جائے،خورشید شاہ،اجلاس پر ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے اس طرح ملتوی نہیں کرسکتے،سپیکر کا جواب،”معصوم“ کا لفظ انبیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے یہ معصوم نہیں بیکار لوگ ہیں،محمود اچکزئی،اپوزیشن پارلیمنٹ کو مذاق نہ بنائے،پوائنٹ سکورنگ کی بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے،پیپلزپارٹی کے دور میں خورشید شاہ بھی ”امرت دھارا“ تھے، رانا تنویر کا جواب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2 جنوری۔2015ء)قومی اسمبلی میں وزیرداخلہ چوہدری نثار کا سانحہ پشاور پر پالیسی بیان نہ آنے پر اپوزیشن لیڈر سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کا احتجاج،سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومتی بنچوں پر صرف ”معصوم وزیر“ شیخ آفتاب ہیں،حق یہ تھا کہ وزیرداخلہ ایوان کو اعتماد میں لیتے،ایسی غیر سنجیدگی کے عالم میں اجلاس کی کارروائی نہیں چل سکتی،اجلاس ملتوی کیا جائے۔

سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک خطیر رقم اجلاس پر خرچ ہوتی ہے اس طرح ملتوی نہیں کرسکتے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ”معصوم“ کا لفظ صرف انبیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے یہ معصوم نہیں بیکار لوگ ہیں۔وزراء کے لشکر کو عوام کے جذبات کو مجروح نہیں بلکہ جذبات کی ترجمانی کرنی چاہئے جبکہ وفاقی وزیر رانا تنویرحسین نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو مذاق نہ بنائے،پوائنٹ سکورنگ کی بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے،معلوم ہے سابق دور میں کس طرح حکومتیں چلتی رہیں اور دیگر صوبوں میں حکومتوں کی کیا کارکردگی ہے،پیپلزپارٹی کے دور میں خورشید شاہ بھی ”امرت دھارا“ تھے۔

نماز مغرب کے وقفہ کے بعد نکتہ اعتراض پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان کی عدم موجودگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور پر وفاقی وزیر داخلہ کو پالیسی بیان دینا چاہئے تھا لیکن یہاں وہ موجود نہیں ہیں۔انہوں نے شیخ آفتاب کو”معصوم وزیر“ کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر معاملے کا جواب دیتے ہیں،وفاقی وزراء کو اس ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا،اس لئے جب تک وزیر داخلہ آکر پالیسی بیان نہ دیں اس وقت تک اس بحث کو مؤخر کردیا جائے۔

بعد ازاں محمود خان اچکزئی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد ایوان کا ماحول غیر سنجیدہ ہے،بتایا جائے کہ ہم کیا پیغام دے رہے ہیں۔وزیروں کا ایک لشکر ہے مگر نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ معصوم کا لفظ انبیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے یہ وزراء بے کار لوگ ہیں انہیں یہ خطاب نہ دیا جائے اور وزراء بھی قوم کے جذبات سے مت کھیلیں بلکہ قوم کی ترجمانی کریں۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ بہتر ہے کہ اجلاس کو ملتوی کیا جائے اور جب وزیرداخلہ آجائیں تو پھر اس معاملے پر بحث کرائی جائے۔اس موقع پر وزیرمملکت شیخ آفتاب نے کہا کہ میں بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیرداخلہ کو ایوان میں آنا چاہئے اور اگر وہ نہیں آتے تو کل تک کیلئے اس کو ملتوی کردیا جائے،اس طرح ایوان میں نہیں بیٹھا جاسکتا،اجلاس ملتوی کیا جائے،دوسری صورت میں کورم پوائنٹ آؤٹ کریں گے اسی اثناء میں وہ ایوان سے رخصت ہوگئے۔

نکتہ اعتراض پر ہی بعد ازاں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر طارق اللہ،صاحبزادہ یعقوب نے بھی اجلاس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا جس پر سپیکر نے کہا کہ ایوان کے اجلاس پر ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے اس لئے اس اجلاس کو کم از کم4گھنٹے ضرور چلنا چاہئے جس پر ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ وزراء کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویرحسین نے کہا کہ وفاقی وزراء اور وزیر مملکت موجود ہیں،وزیرمملکت بلیغ الرحمن موجود ہیں،سانحہ پشاور پر ابھی بھی اعلیٰ سطحی اجلاس چل رہے ہیں اور وزیر داخلہ ان میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی بنچوں پر سنجیدگی سے لگتا ہے اپوزیشن جماعتوں کو پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں ہے،کوئی وزیر بیکار نہیں۔انہوں نے کہا کہ سابق دور حکومت میں سارے سوالوں کے جواب خود خورشید شاہ دیتے تھے اور امرت دھارا کا خطاب انہیں ہم نے دیا تھا،مجھے معلوم ہے کہ سابق دور میں وہ کس طرح کام کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا خود مذاق نہ اڑایا جائے۔انہوں نے کہا کہ 1988ء سے ہونے والے اجلاسوں کا میں بھی شاہد ہوں،سب کو اپنا فرض ادا کرنا چاہئے اور صرف پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے،صرف ایک وزیر کا نام حکومت نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ سینئر پارلیمنٹیرینز بیٹھے ہیں اور دوسری طرف خود ہی پوائنٹ سکورنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی علم ہے کہ سابق ادوار کس طرح چلے ہیں اور اب بھی پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں میں کس طرح حکومتیں چل رہی ہیں اور وہاں معاملات کیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے حکومت دن رات دہشتگردی کے خاتمے کی خاطر کام کر رہی ہے اور انتہائی سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

وقت اشاعت : 02/01/2015 - 09:57:19

اپنی رائے کا اظہار کریں