مسلح جتھوں کو کام کی اجازت نہیں دینگے،کالعدم جماعتیں خود کو کالعدم سمجھیں،وزیراعظم، ..
تازہ ترین : 1
مسلح جتھوں کو کام کی اجازت نہیں دینگے،کالعدم جماعتیں خود کو کالعدم ..

مسلح جتھوں کو کام کی اجازت نہیں دینگے،کالعدم جماعتیں خود کو کالعدم سمجھیں،وزیراعظم، دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان فرد واحد نے نہیں پوری سیاسی اور فوجی قیادت نے مل کر تیار کیا،خصوصی عدالتوں کے قیام کیلئے آئینی و قانونی خاکہ تیار کر لیا ہے، فوجی افسران صرف دہشتگردوں کے مقدمات سنیں گے ، ان عدالتوں میں اپنے ٹرائل کے خوف سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے، فوجی جوانوں کے سروں کو کاٹ کر فٹبال کھیلا یہ معمولی حالات نہیں ان کو نہ روکا گیا تو ہوسکتا ہے کل ہم یہ حالات روکنے کے قابل نہ رہیں،انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے بتائیں کیا ان بچوں کے کوئی حقوق نہیں تھے جن کے خواب جلا دیئے گئے، دہشت گردوں کے حقوق کے لئے ملک کو جنگل نہیں بنایا جا سکتا،ہم آخری دہشت گرد کو ختم کرکے دم لیں گے،وزیراعظم کا سینٹ میں خطاب

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔یکم جنوری ۔2015ء )وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلح جتھوں کو کام کی اجازت نہیں دینگے،کالعدم جماعتیں خود کو کالعدم سمجھیں، دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان فرد واحد نے نہیں بلکہ پوری سیاسی اور فوجی قیادت نے مل کر تیار کیا ہے اور وہ اس کی پشت پر کھڑے ہیں،خصوصی عدالتوں کے قیام کیلئے آئینی و قانونی خاکہ تیار کر لیا ہے، فوجی افسران صرف دہشتگردوں کے مقدمات سنیں گے ، اس خاکہ کو پارلیمنٹ سے منظور کرالینگے ۔

غیر معمولی حالات کا مقابلہ غیر معمولی اقدامات سے ہی کیا جا سکتا ہے، ان عدالتوں میں اپنے ٹرائل کے خوف سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے،اللہ کی مدد سے قومی ذمہ داری کو پورا کرینگے ، چراغوں کو بجھنے نہیں دینگے یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔ دہشتگردی کو پروان نہیں چڑھنے دینگے، دہشتگردوں نے فوجی جوانوں کے سروں کو کاٹ کر فٹبال کھیلا یہ معمولی حالات نہیں ان کو نہ روکا گیا تو ہوسکتا ہے کل ہم یہ حالات روکنے کے قابل نہ رہیں،انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے بتائیں کیا ان بچوں کے کوئی حقوق نہیں تھے جن کے خواب جلا دیئے گئے، دہشت گردوں کے حقوق کے لئے ملک کو جنگل نہیں بنایا جا سکتا،ہم آخری دہشت گرد کو ختم کرکے دم لیں گے۔

بدھ کو سینٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی تلخ یادیں بھولے نہیں ہیں ، پاکستان کو اس وقت سنگین حالات درپیش ہیں ، سنگین مقدمات بیس سالوں سے زیر سماعت ہیں ، اپنی ذات کو پیش رکھو ں کہ میرا ٹرائل فوجی عدالت میں ہو اور خوف سے بچوں کے قتل کو بھول جاؤں یہ ممکن نہیں ہے ، میں بچوں کی لاشوں اور سروں کو فٹبال بنا کر کھیلنے والے حالات نہیں بھول سکتا ، خوف میں دہشتگردی کے واقعات کو بھول ہیں سکتا ، دہشتگردوں نے جو گھناؤنا ماحول بنا دیا ہے اس کو دیکھیں ہمیں دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے دیکھنا چاہیے ، ذاتی حیثیت سے بڑھ کر قومی مسائل کی طرف دیکھنا چاہیے ، مسلح افراد ملک میں گھومیں اور بندوق کے زور پر ہم پر قابض ہو جائیں یہ منظور نہیں ، میرے اوپر فرض لاگو ہے کہ اس دہشتگردی سے نمٹیں ، مائیں بے خوف ہوکر بچوں کو سکول بھیجیں ، لوگو ں کو سکیورٹی کا احساس دلائیں ملک میں امن ہوگا تو ہماری بھی خیر ہوگی دہشتگردی کے خاتمے کے بعد کوئی کسر نہیں چھوڑینگے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کا رخ ایک طرف موڑ دیا ہے کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے پچاس ہزار افراد اس ناسور کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اس سے نمٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی نہیں بن سکی حکومت نے اس کے خاتمے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر سوچا، ضرب عضب مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نہ ہونے پرکیا گیا اس مقصد کیلئے انتہا پسندی دہشتگردی پر سخت ضرب لگائی جائے، سولہ دسمبر کے سانحہ کے بعد سیاسی قائدین کو دعوت دی کہ آئیں قومی لائحہ عمل تشکیل دیں ایک دن کی مشاورت کے بعد ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا پلان بنایا اس کمیٹی نے قلیل مدت میں اپنا کام مکمل کرلیا کمیٹی پر تنقید بھی کی گئی چوبیس دسمبر کو سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی ایکشن پلان کی منظوری دی، دس گھنٹے اس پر مکمل بحث کی اور تمام سیاسی قائدین متفقہ طور پر اس پلان کو منظور کیا، پوری قوم نے اس کو محسوس کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم حالت جنگ میں ہے غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا نظارہ کرتے ہیں 150بچوں کا قتل غیر معمولی حالات نہیں ، کیا یہ غیر معمولی حالات نہیں کہ ہماری درسگائیں ، ہوائی اڈے ، مساجد ، اقلیتوں کی عبادت گاہیں غیرمحفوظ ہیں اور ہمارے کھیل کے میدان خالی ہوجائیں؟ ہم یہ سب کچھ نہیں ہونے دینگے اللہ کی مدد سے قومی ذمہ داری کو پورا کرینگے ، چراغوں کو بجھنے نہیں دینگے یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔

دہشتگردی کو پروان نہیں چڑھنے دینگے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد پر سوچ بچار جاری ہے عسکری قیادت بھی ہمارے ساتھ ہے ہمارا اتحاد دہشتگردوں کیلئے پیغام ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قوم باہر نکل آئی ہے اگر اتحاد کو نقصان ہوا تو یہ قومی نقصان ہوگا ہر ایک لفظ پر کمیٹی بنائی گئی ہے بہت سی کمیٹیوں کی رپورٹس مل گئی ہیں خود کمیٹیوں کی رپورٹ کا روزانہ جائزہ لے رہا ہو ں، فوری انصاف فراہمی کے کام پر مکمل کیا جارہا ہے ۔

فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئینی اور قانونی اقدامات طے کر لئے گئے ہیں،ان عدالتوں کے سربراہ فوجی افسران ہوں گے جہاں صرف دہشتگردوں کے مقدمات سنے جائینگے اس خاکہ کو پارلیمنٹ سے منظور کرالینگے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ طے کیا ہے کہ مسلح جتھوں کو کام کی اجازت نہیں دینگے،کالعدم جماعتیں خود کو کالعدم سمجھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ طاقت کے زور پر کوئی اپنے خیالات قوم پر مسلط نہیں کرسکتا میڈیا کی آزادی پر قدغن نہیں آنے دینگے حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کا خیرمقدم کریں گے ۔

میڈیا بھی دہشتگردی کو ابھارنے سے گریز کرے ۔ پوری قوم کا یہ ایکشن پلان ہے ہمیں ایسے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں جو عام حالات میں نہیں ہوسکتے ۔ یہ اقدامات فوجی اور سیاسی لیڈر شپ مل کر کررہی ہے،یہ فیصلے متفقہ طور پر کئے جا رہے ہیں کوئی فرد واحدفیصلے نہیں کر رہا بلکہ سیاسی عسکری قیادت فیصلہ کررہی ہے اس آئین کا کیا فائدہ جو بچوں کی حفاظت نہ کرسکے ، آئین میں رہ کر یہ اقدامات کررہے ہیں ہم قانون آئین سے انحراف نہیں کرسکتے عدلیہ کی آزادی کے لئے قربانی دی ہے تمام سیاسی قوتوں نے آئین کی حکمرانی کے لیے باہر نکلے تھے دہشتگردوں نے فوجی جوانوں کے سروں کو کاٹ کر فٹبال کھیلا یہ معمولی حالات نہیں ان کو نہ روکا گیا تو ہوسکتا ہے کل ہم یہ حالات روکنے کے قابل نہ رہیں ،یہ حالت جنگ ہے او ریہ اقدامات قومی سلامتی کا تقاضا ہیں۔

انسانی حقوق کی بات کرنے والے بتائیں کہ کیا پشاور کے شہید بچوں کے کوئی حقوق نہیں تھے، کیا انہیں حق نہیں تھا کہ وہ تعلیم حاصل کریں، اپنا مستقبل بنائیں،اپنا اور والدین و ملک و قوم کا نام اور مقام بنائیں،اپنے والدین کے خوابوں کی تکمیل کریں لیکن دہشت گردوں نے ان کے حقوق چھین لئے اور ان کی زندگیاں چھین لیں ، ان دہشت گردوں کے حقوق کے لئے ملک کو جنگل نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ایوان اپنی توجہ دہشت گردی کے خاتمہ پر مرکوز رکھے، میں ایوان اور ملکی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ قومی ایکشن پلان کی پشت پر کھڑے ہیں،اللہ اور قوم کی حمایت ہمارے ساتھ ہے،ہم پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کا خواب پورا کرینگے لیکن دہشتگردوں نے ان سے حق چھین لیا ملک میں جنگل کا قانون کی اجازت نہیں دینگے قوم کی ساری توجہ دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز رہنی چاہیے پوری سیاسی عسکری قیادت فوجی ایکشن پلان کی پشت پر کھڑے ہیں ذاتی خوف میں آکر دہشتگردوں کا پیچھا کرنے سے نہیں ہٹوں گا۔

وزیراعظم نے میاں رضا ربانی کے تحفظات اور خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کے دیئے گئے اصول سے متفق ہوں جس ماضی کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس سے ہم مل کر گزرے ہیں تاہم اگر آپ دیکھیں تو سنگین نوعیت کے کیس ملک بھر میں ایسے نظر آئیں گے جن کا بیس بیس اور تیس تیس سال سے فیصلہ نہیں ہوا،اگر میں اپنی ذات کو سامنے رکھوں کہ کل ان عدالتوں میں میرا بھی ٹرائل ہو سکتا ہے تو اس سے گھبرا کر ان بچوں کو بھول جاؤں جن کی لاشیں بے دردی سے گرائی گئیں، ان فوجی جوانوں کی لاشوں کو بھول جاؤں جن کے سروں کو فٹ بال بنایا گیا۔

کراچی ایئرپورٹ پر جس بے دردی سے لوگوں کو مارا گیا کہ 50لوگ اکٹھے مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری قوم نے مجھے دی ہے اور میرا فرض ہے کہ جو گھناؤنا ماحول بنا دیا گیا ہے اس کے بارے میں سوچیں۔ ہم آخری دہشت گرد کو ختم کرکے دم لیں گے۔

وقت اشاعت : 01/01/2015 - 08:43:12

اپنی رائے کا اظہار کریں